کھاد فیکٹری داؤدخیل بندش کی وجہ سے لے آف کے تحت مزدوروں کی تنخواہیں نصف کردی گئیں

Print Friendly, PDF & Email

داؤدخیل ( ذوالفقارخان) کھاد فیکٹری داؤدخیل کی بندش کی وجہ سے 2دسمبر2014ء کولے آف کے تحت مزدوروں کی تنخواہیں نصف کردی گئیں جبکہ انکو ملنے والی سہولیات (راشن ،میڈیکل ،کنٹین ،ٹرانسپورٹ وغیرہ)کو بھی ختم کردیاگیا ۔گزشتہ روز خالد میر سی ای او فرٹیلائز ر فیکٹری داؤدخیل نے فیکٹری کادورہ کیا ۔اس موقع پر محمدنعیم جنرل منیجر ایم ،ریحان منیر جنرل منیجر ٹیکنیکل ،سی بی اے یونین کے صدر امیرنوازخان اور اپوزیشن رہنماؤں جاوید اقبال ملک ،لطیف اللہ خان کی کوششوں سے خالد میر سی ای او ایگری ٹیک فرٹیلائزر داؤدخیل نے لے آف ختم کرنے کا فیصلہ کیا بعدازاں مزدوروں کی ایک تقریب میں محمدنعیم جنرل منیجر ایم اور ریحان منیر جنر ل منیجر ٹیکنیکل نے باقاعدہ اعلان کرکے مزدوروں میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔اس موقع پر محمدنعیم جنرل منیجرمینوفیکچرنگ نے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ انکے دور میں لے آف لگا اب جبکہ وہ ریٹائر ہوکر جانے والے ہیں انہیں زندگی بھر دکھ رہتا کہ مزدوروں کے لئے وہ کچھ بھی نہ کرسکے اسی جذبہ کو لیکر وہ آگے بڑھے ساتھیوں کی کوشش ،لگن اور سی ای او خالد میر کی شفقت سے لے آف ختم کرانے میں کامیاب رہے ۔اس موقع پر سی بی اے یونین کے صدر امیر نواز خان نے میڈیا کو بتایاکہ لے آف ختم کرنے کی منظور ی اکتوبر2015میں بورڈ آف ڈائریکٹر کی میٹنگ میں ہوئی اس بابت نوابزادہ ملک فواد خان ،ایم این اے امجد علی خان اور ایم این اے حاجی عبیداللہ خان شادی خیل کی کوششیں بھی ساتھ رہیں ہر موقع پر ان تینوں رہنماؤں نے بھرپورساتھ دیا جبکہ محمدنعیم جنرل منیجر ایم اور ریحان منیر جنرل منیجر ٹیکنیکل کی بھرپور کوششوں اور توجہ سے سب کچھ ممکن ہوا ۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس سلسلے میں اپوزیشن رہنماؤں ملک جاوید اقبال اور حاجی لطیف اللہ خان سمیت فیکٹری کے مزدوروں کا بھی مرکزی کردار رہا جب بھی ضرور ت پڑی تمام مزدور ایک ہو کر اس عذاب سے جان چھڑانے کے لئے سرگرداں ہوئے اسی اتحاد کی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہوا۔انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا نے انکا کاز نہ صرف حکام بالا تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ وہ رات دن انکے ساتھ رہے جسکے لئے فیکٹری کے ورکر انکے مشکور ہیں لے آف کے ختم ہونے سے مزدور گھرانوں میں خوشحالی آئے گی اور غریبوں کے چولہے روشن ہوسکیں گے۔

Short URL: http://tinyurl.com/gr5wdss
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *