کو ایجوکیشن(مخلوط تعلیم) ۔۔۔۔ تحریر: صباحت رفیق، گوجرانوالہ

Sabahat Rafique
Print Friendly, PDF & Email

کہنے کو تو ہم مسلمان ہیں لیکن ہم یہودیوں کے طور طریقے اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں جیسے کو ایجوکیشن کے نظام کو لے لیا جائے۔ اسلام میں کو ایجوکیشن سرے سے جائز ہی نہیں ۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے مردوعورت کے رشتے میں واضح کشش رکھی ہے سو ان کا دھیان تعلیم سے ذیادہ ایک دوسرے میں ہوتا ہے آج مسلمان مخالف صنف سے دوستیاں کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اس لیے امتحان میں وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکتے جو وہ کر سکتے ہیں جیسے حضرت جنید بغدادیؒ کا قول ہے ، ایک دفعہ ان سے پوچھا گیا،
کیا کوئی مرد کسی (غیر محرم) لڑکی کو پڑھا سکتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا ، اگر پڑھانے والا با یزید بسطامی ہوپڑھنے والی رابعہ بصری ہوجس جگہ پڑھایا جا رہا ہو وہ بیت اللہ ہو اور جو کچھ پڑھایا جا رہا ہو وہ کلام اللہ ہوپھر بھی جائز نہیں ۔ یہ جو اسلام کی موجودہ حالت ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ ہم اپنی اسلامی اقدار کو بھولتے جا رہے ہیں ۔ بقول علامہ اقبال
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اس لیے خدارا حکومت کو چاہیے کہ کو ایجوکیشن کے نظام کو ختم کیا جائے اورملک میں اسلام کے مطابق نظام رائج کرے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے علیحدہ علیحدہ تعلیمی ادارے بنائے جائیں تا کہ وہ بچیاں جو کو ایجوکیشن میں تعلیم حاصل کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور کلاس میں لڑکوں کی موجودگی کی وجہ سے کلاس پارٹیسپیشن میں حصہ نہیں لیتیں وہ آزادانہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں سر انجام دے سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلامی اقدار کو اپنانے کی تو فیق عطا فرمائیں۔ آمین ۔ ۔۔!!!

Short URL: http://tinyurl.com/gr3otwz
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *