کول پلانٹ

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ضیاء اللہ نیازی، داؤدخیل
کیا داؤدخیل کی عوام کو اسی طرح بیماریوں کے تحفے ملتے رہے گے اور عوام جن کو ان فیکٹریوں میں روزگار کے مواقع تو میئسر نہیں لیکن بیماریاں ان کا مقدر بن گئی ہیں پہلے فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے عوام کو کئی بیماریوں میں مبتلا کیا اور اب کول پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے جس سے انسان ہی جانور بھی متاثر ہو گئے وہیں ہماری زمینیوں پر ابھی اس سے خارج ہونے والی گیسوں سے ہماری زراعت بھی متاثر ہو گی تفصیلات کے مطابق داؤدخیل میں سیمنٹ فیکٹری کی جانب سے 40میگا واٹ کا کول پلانٹ نصب کیا جا رہا ہے جو زرعی اور فضائی آلودگی کا سبب بنے گا جہاں کول پلانٹ علاقے کی عوام اور زراعت کے لیے نقصانات پیدا کرئے گا وہی ان علاقوں کے جانوروں کو شدید خطرات لاحق ہو نگے اور یہ کول پلانٹ فی گھنٹہ 40کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو گا اور زرعی علاقوں میں تیزابی بارشوں سے اناج کی پیداوار بے حد متاثر ہو گئی اور جانوروں کی بہترین نسلیں بھی ناپید ہو نے کے خطرات لاحق ہو نگے دنیا کے باقی ممالک میں کول پلانٹ کو ختم کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں کول پلانٹ لگائے جا رہے ہیں بھارت کوئلے سے بجلی پیدا کر رہا تھا لیکن بھارت نے ماحولیاتی آلودگی اور فضائی آلودگی کی وجہ سے آئندہ پانچ سالوں میں اپنے کول پلانٹ بند کرنے کا اعلان کر چکا ہے اور2018سے بھارت میں کول پلانٹ بند ہ وجائیں گے جبکہ برطانیہ آئندہ 8سالوں میں اپنے کول پلانٹ بند کرنے کا اعلان کر چکا ہے اور کنیڈا ،نیوزی لینڈ ،ہالینڈ ،اور دیگر کئی ممالک کوئلے کا استعمال بند کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں کوئلے کے پلانٹ لگائے جا رہے ہیں اور ان کول پلانٹوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں سب سے زیادہ کینسر ،پھیپھڑوں کی بیماری ،جلدی بیماریا ں انتہائی خطرناک ہو گی انسانوں کے لیے بجلی تو سستی پیدا ہو گی لیکن اس کے مقابلے میں اس سے پیدا ہونے والی بیماریاں عوام کے لیے انتہائی خطرناک ہو گئیں اور جس سے اموات کی شرح 2فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ کوئلہ اور گیسیں جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہو تی ہے جس سے اس بجلی کے فوائد سے زیادہ انسان کے لیے بیماریوں کے خطرات زیادہ ہو نگے ساہیوال کول پلانٹ جو کہ 1320میگا واٹ کا لگ رہا ہے جس پر تقریبا 11.8ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں اور اس طرح کا پلانٹ بنگلہ دیش میں لگ رہا ہے جو اس سے 30فیصد سستا لگ رہا ہے لیکن اب تو شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان زیادہ ہو رہا ہے اور شمسی بجلی کوئلے کے مقابلے میں بھی اب سستی ہے لیکن حکومت کول پلانٹ پر اپنی توجہ کیوں مرکوز کیے ہوئے ہے اب ان پلانٹ کی نسبت شمسی توانائی کے پلانٹ سستے ہیں اور ان سے کوئی بیماریاں بھی پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے دوسرا کوئلہ جو استعمال ہو گا وہ باہر کے ممالک سے آئے گ اجو کراچی میں اترے گا اور پھر ٹرالوں ،اور مال ریل گاڑیوں پر آئے گا جس پر لاکھوں روپے اخرجات آئے گے انڈیا نے شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی پلانگ کی ہے وہ شمسی بجلی تین روپے فی یونٹ پیدا کرنا چاہتا تھا لیکن ایک سویڈش کمپنی نے انہیں دو روپے فی یونٹ بجلی پیدا کرنے کی آفر کی ہے جو کہ پاکستانی روپے میں تقریبا 5.25روپے میں انہیں ملے گی اور اس کا کوئی بھی نقصان نہیں ہو گا جبکہ کوئلے کے استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری زہریلی گیسز فضا میں جائیں گی اور پھر وہ نیچے آئیں گی اور تیزابی بارش بن کر ہماری فصلوں پر پڑئے گئیں اور پاکستان دنیا میں پانچواں بڑا ملک ہے دودھ پیدا کرنے میں جس سے ہمارے جانوروں کی نسلوں کے ناپید ہو نے سے ہمیں جہاں دودھ میں مشکلات پید اہو سکتی ہیں وہی جانوروں کی افزائش نسل کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں پہلے ہی ہمیں ان سیمنٹ فیکٹری اور ایگری ٹیک فرٹیلائزر فیکتری کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے کئی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے جب کہ محکمہ ماحولیات بھی مکمل طور پر خاموش ہے اور خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ہے بیماریاں تو دااؤدخیل اور گردونواح کی عوام کا مقدر بن گئی ہیں لیکن افسوس کہ فیکٹری انتظامیہ نے داؤدخیل کو کوئی سہولت مہیاء نہیں کی ہے اس بار نئے پلانٹ کے لگنے کی وجہ سے علاقائی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے 20بیڈ اور سکول کے لیے کچھ کرسیاں دیکر بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے جب کہ ان کی فیکٹری میں مقامی افراد کو بھرتی نہیں کیا جاتا اگر کوئی ان سے حق مانگ بھی لے تو ان پر دہشت گردی کے دفعات لگا کر انہیں جیل بجھوا دیتے ہیں تاکہ کوئی اور دوبارہ ہمت نہ کرئے جس کی وجہ سے عوام ان مالکان سے نالاں نظر آتی ہے اور افسوس کہ آج تک ہمارے عوامی نمائندوں ایم این اے اور ایم پی اے نے بھی کھبی توجہ نہیں دی کہ ان فیکٹریوں میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے اور ان علاقوں کو سہولیات بھی دی جائے بجلی فری ،سکول ،سڑکیں وغیرہ ان فیکٹری مالکان کا حق ہے لیکن وہ صرف پیسہ کمانے میں لگے ہیں جبکہ سہولیات تو نہیں مل رہیں ہیں لیکن عوام بچاری کو چمنیوں کے دھوئیں سے بیماریاں کینسر ،فالج ،مہروں کی بیماری ،گردوں کی بیماری مل رہی ہیں اور اب تک سینکڑوں افراد کینسر ،فالج ،گردوں کی بیماریوں کی وجہ سے موت کی وادی میں جا چکے ہیں اور اب کول پلانٹ لگنے کے بعد مزید بیماریوں کے تحفے داؤدخیل اور گردونوا ح کی عوام کو ملے گئے اور پھر ان علاقوں کی کیا حالت ہوتی ہے وقت ہی بتائے گا کہ یہ کول پلانٹ عوام کو فوائد دے سکا یا پھر عوام کو تباہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
لہذا اب محکمہ ماحولیات تو سو رہا ہے لیکن اعلی حکام اور ماحولیات کی عالمی تنظیموں اور محکمہ ماحولیات پنجاب ،اور مرکز کو اس آلودگی کے بارے میں نوٹس لیکر اپنی کارروائیوں کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ عوام آنے والی مہلک بیماریوں سے بچ سکیں اور ہماری زراعت اور ہمارے علاقے کے جانوروں کی نسلیں بھی ناپید نہ ہو جبکہ داؤدخیل کی عوام نے ہر دور میں ملک کے منصوبوں کے لیے قربانیاں دی ہیں جناح بیراج کی تعمیر کے وقت اپنی زمینیں سستے داموں دیں جس میں ہزاروں کنال اراضی اس وقت محکمہ اریگیشن کے نام ہے جن میں کنیال کالونی ،نہر تھل ،کے وجہ سے گئی اور پھر ان فیکٹریوں کے قیام کے وقت ہزاروں کنال اراضی دی اور اب سی پیک (اقتصادی راہداری ) کے لیے جو زمینیں بچ گئی تھیں اب وہ سی پیک میں آ گئی ہیں اور اس بار پھر وہی ظلم کے سی پیک میں داؤدخیل میونسپل کمیٹی کی زمین بھی سستے داموں لی گئی لیکن اس کے باوجود بھی داؤدخیل کی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک سمجھ سے بالاتر ہے اور شاہد یہی وجہ سے کہ داؤدخیل بالخصوص میانوالی کی عوام ان حکمرانوں سے نالاں ہو چکے ہیں اور میانوالی میں ان کی پارٹی کے لیے مشکلات ہی مشکلات پیدا ہو رہی ہے اگر حکمران عوام کو ریلیف دیں اور ان کو سہولیات فراہم کرئے تو شاہد عوام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردیاں پید اہو ورنہ اس بار پھر یہ کول پلانٹ ہمارے منتخب نمائندوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بہرحال اگر یہ کول پلانٹ واقعہ نقصان دہ ہے اور اس سے عوام ،زراعت ،جانوروں کو خطرہ ہے تو اس کے بارے میں ہمارے حکمران سوچیں اور اس کو بندکرائیں اور اس سے بہتر ہے کہ شمسی توانائی کی جانب سوچ کر عوام کو نقصانات سے بچایا جائے جس کے لیے پی ٹی آئی نے یکم مئی کو داؤدخیل میں کول پلانٹ اور فیکٹری انتظامیہ کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی داؤدخیل کی عوام اور مزدروں کو ان کے حقوق دلانے میں کامیابی حاصل کرتی ہے کہ پچھلی روایات برقرار رہتی ہیں اور عوام کو اسی طرح فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں اور اب کول پلانٹ سے پیدا ہونے والی آلودگی اور دیگر نقصانات ان کے لیے اور آنے والے نسلوں کے لیے قائم رہتے ہیں کہ یہ آلودگی کے بادل ان کے سروں سے ٹل جائیں گے بہرحال اگر یہی صورتحال رہی تو داؤدخیل اور گردونواح میں عوام کو مزید بیماریوں کے تحفے ملے گئے اور سینکڑوں لوگ اور جانور اور فصلیں اس کول پلانٹ سے متاثر ہو نگی ۔۔

270 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/ycmqrv32
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *