کامیاب ریاست کے لیے سائنسی علوم کا حصول لازم ۔۔۔۔ تحریر: سفینہ نعیم

Print Friendly, PDF & Email

قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم نے ہمیشہ بنیادی کردار ادا کیا ہے ۔علم کی دولت ہر دور میں مسلم رہی ہے ۔دور جدید میں مشا ہدات،سا ئنسی تحقیقا ت اور نئی نئی ایجا دات نے سا ئنسی علوم کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔بے شک سا ئنس کے میدان میں اقوام عا لم نے جو ترقی کی منز ل طے کی ہے ۔ان کے زینہ اول پر مسلمان محققین اور سا ئنسدان پورے قد کے سا تھ کھڑے دکھا ئی دیتے ہیں ۔تا ہم ہسپا نیہ کے مسلم حکمرا نو ں نے فر اغ دلی کا مظا ہرہ کر تے ہو ئے ۔ اہل یو رپ کے لیے سا ئنسی علوم کے در وازے کھو لے تو یورپ وا لے جہا لت کی تا ریکیوں کو ختم کر نے میں نہ صر ف کا میا ب رہے۔ بلکہ ذ ۳محنت کو شعا ربنا کر دنیا پر حکمرا نی کے مز ے لو ٹنے لگے۔بد قسمتی کی با ت یہ ہے کہ مسلمان اپنی میراث سے بے تعلق ہو کرجہا لت اور نکہت میں ڈوب گئے ۔ جس کے نتیجے میں اقوا م عا لم کے درمیا ن سا ئنسی ،فنی اور تحقیقی علوم کی دوڑ میں مسلمان کہیں دکھا ئی نہیں دیتے ۔ آج اگر یورپ اور پا کستا ن کے حا لات پر ایک سر سری نظر ڈ الی جا ئے ۔تو یہ جا ننے میں زیا دہ وقت نہیں لگے گا کہ اہل یو ر پ ہم سے بہت آ گے نکل چکے ہیں ۔ ہم ان سے تر قی میں اتنا پیچھے رہ گئے ہیں ۔کہ ان جیسا ہو نے کے لیے ایک صدی سے زیا دہ وقت در کار ہو گا ۔اگر ہم ان جیسے تر قی یا فتہ بھی ہو جا ئیں تو وہ اتنی دیر میں دگنی تر قی کر چکے ہو ں گے۔دیکھا جا ئے تو پہلے اہل یو رپ کی حا لت ہم سے بھی بد تر تھی۔انھوں نے ترقی کیسے کی ؟وہ آ ج اتنے تر قی یا فتہ کیسے بن گئے ؟ان کی یہ سب تر قی مسلمان سا ئنسدا نوں کے مر ہو ن منت ہے ۔ انھو ں نے مسلما نوں کی لکھی ہو ئی کتا بوں کا مطا لعہ کیا ۔ان پر عمل کیا اور اس مقا م تک پہنچے ۔وہ لو گ آ ج تر قی یافتہ ہیں کہ اب ان کا مد مقا بل کو ئی نہیں ۔آ ج ہمارا یہ حا ل ہے کہ ان کی عطا کر دہ تعلیم حا صل کر رہے ہیں لیکن پھر بھی ہم اس مقا م پر ہیں۔۔ کیوں ؟ اس لیے کہ ہم غفلت کی نیند سو رہے ہیں ہم صر ف اپنی زند گی میں اس طر ح کھوئے ہو ئے ہیں کہ ہمیں کسی اور کی پر وا ہی نہیں ۔کا م کر نا تو دور کی با ت ہم تو اس کے با رے میں سو چتے بھی نہیں آ ج اسلا می مما لک میں پڑھی جا نے وا لی کتا بوں کا صر ف پہلا با ب ہی اسلا می نا م کا محتا ج ہے ۔ اور با قی سب ابو اب اہل یو رپ کے نا م سے بھر ے ہو ئے ہیں ۔ کیوں ؟ آ خر ہم کیا کر رہے ہیں ؟اپنے لیے اور اپنے دین اسلا م کے لیے جو ہمیں تد بر اور تحقیق کا در س دیتا ہے ۔ہم لو گو ں نے اسلا می احکا ما ت کو چھو ڑ دیا ہے ۔جبکہ اہل یو رپ آج بھی ہما ری اسلامی کتا ب قر آ ن پا ک کے نسخوں پر تحقیقات کر رہا ہے ۔ جب کہ ہم نے اسے صر ف ثو اب کی حد تک رکھا ہو ا ہے ۔یور پ کی سینکڑوں یو نو رسٹیاں ہیں جو قر آ ن پا ک کے نسخو ں پر غو رو فکر کر رہی ہیں۔جبکہ اسلا می مما لک میں اس پر زیا دہ زو ر نہیں دیا جا رہا ۔اللہ کا فر ما ن ہے ۔اے لو گو اللہ کی رسی کو مضبو طی سے تھا م لو ۔لیکن ہم نے اس رسی کو چھو ڑ ا ہو اہے تو ہم تر قی کیسے کر سکتے ہیں ایک اور مقام پر کہا گیا غو رو فکر کر و تمہا رے لیے دن او ر را ت میں کھلی نشا نیاں ہیں در اصل ہم ان نشا نیوں کو دیکھیں گے کیسے ؟ہماری تو نیند پو ری نہیں ہو تی رات کو تو نیند آ نی ہی ہو تی ہے ۔اور اگر دن کے وقت بھی مو قع ملے تو ہم دو با رہ نیند کا مزہ لے رہے ہو تے ہیں ہم اپنے آپ کو اتنا مصروف سمجھتے ہیں کہ ہما رے لیے پا نچ فر ض نما زیں ادا کر نے کے لیے وقت نہیں ہو تا جبکہ اہل یور پ کا کہنا ہے ۔کہ مسلما نو ں جیسی عبا دت کر نے والا شخص کبھی بھی کو ئی خطر نا ک بیما ریوں میں مبتلانہیں ہو سکتا ہے یہ اہل یو رپ کا غو روفکر ہی تو ہے ۔کہ وہ اسلامی احکا مات کو آ ج سا ئنسی طر یقے سے بھی درست ثا بت کر رہے ہیں وہ لوگ ہم لو گو ں سے تحقیق میں اتنے آ گے نکل چکے ہیں کہ آ ج ہم دیکھیں تو سا ری نئی ایجا دات ان لو گو ں کی ہی ہے ۔ سا ئنس کو پہلے اہل یو رپ نے ہم سے سیکھا لیکن ہم لو گوں کو کیا ہو گیا؟؟ ہم ان کے محتا ج ہو کر ہی کیوں رہ گئے ہیں ؟؟مسلمانو ں نے ان پر ہز ار سا ل حکو مت کی اور آ ج وہی لوگ ہم پر حکو مت کر رہے ہیں ہم نے آ زا د ملک اسلا م کے نام پر حا صل کیا تھا لیکن کیا آج اس ملک میں اسلا مکے اصول او ر احکا مات رائج ہیں۔۔ نہیں۔۔ قصور وار کو ن ہے ؟ہما رے ذہنوں پر انہی لو گوں کی سوچ اور رسم و روا ج مسلط ہیں ۔ہم ان لو گوں کے غلام بنتے جا رہے ہیں ۔لیکن اس بات کا کسی کو احساس نہیں ہے۔ ہماری سوچنے کی صلا حیتیں ختم کیوں ہو گئی ہیں ؟ہمیں بھی وہ سب صلا حیتیں میسر ہیں لیکن ہم ان کو برو ے کا رکیو ں نہیں لا تے؟ آئیں آ را م کو چھو ڑیں اور اسلا می احکا ما ت پر عمل کر تے ہو ئے آ گے بڑ ھیں غورو فکر کا ایسا طو فا ن لا ئیں کہ اہل یورپ تو کیا کہ پو ری دنیا پکار اٹھے کہ جذبہِ تر قی ہو تو ایسا۔۔۔ اور کہہ دیں کہ ہم مسلمانو ں کے کل بھی محتا ج تھے اور آج بھی ہیں ۔آئیں اور دکھا ئیں ہم کسی سے کم نہیں ۔
we can do everything
آئیں مل کر محنت کر یں ۔اپنے دین اورملک کا نا م رو شن کر نے کا عہد کر یں۔اور دنیا پر پھر سے غا لب آ جا ئیں ۔ معا شی تنگد ستی ،علمی کم ما ئیگی ، بیماری ، نفرت ، انتہا پسندی، عد م بر دا شت اور دہشت گر دی جیسی لا حق بیماریو ں سے نمٹنے کے لیے دینی شعا ئر کی پا بندی کے سا تھ سا تھ اپنی جملہ تو انا ئیاں سا ئنسی ،فنی اور دیگر عصری علوم کے حصول پر وقف کر دیں گے تا کہ تحریک پا کستا ن ، قیام پا کستا ن اور استحکا م پا کستا ن کے مقا صد و تقا ضے پورے ہو سکیں ۔

 1,060 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/hgxd2mf
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *