ڈیڑھ اینٹ کی مسجد

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: عمارہ کنول
حضرات مسجد گلزار مدینہ زیر تعمیر ہے زور و شور سے حصہ لیجئے ۔لاؤ ڈ اسپیکر پر جمعہ کے مبارک دن کی ابتداء اسی اناؤنسمنٹ کو سن کر ہوئی ۔جذبہ عقیدت سے معمور ہو کر بیٹے علی اکبر کو آواز دے کر پچاس روپے تھمائے کہ جاؤ آپ بھی اس کار خیر میں حصہ ڈال آؤ۔اگلے پانچ منٹ کے بعد اناؤنسمنٹ اب میرے بیٹے کا نام پکار رہی تھی ۔اور ڈھیروں دعاؤوں سے نواز رہی تھی ۔
معمول کے کاموں میں وقت کب بیت جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا۔شام کے چار بجے محلے کے بابا جی افسردہ سی شکل بنائے ہمارا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے ۔استفسار پر علم ہوا کہ مسجد کا مستری کسی ضروری کام سے اپنے آبائی گاؤں گیا ہے ۔اور اب انھیں ہمارے گھر کو سال بھر پہلے تعمیر کرنے والے مستری صاحب کی تلاش تھی ۔وہ مستری کہیں اور مصروف تھے اس لیے بات نہ بن سکی ۔ہمارے بچوں کی ٹیچر کرسچن ہے ۔ایک بار اس نے ہم سے ذکر کیا تھا کہ اسکا میاں بھی مستری ہے تو موصوف کو آگا ہ کیاکہ ایک مستری مل سکتا ہے ۔بابا جی چونکہ یہاں پرانے رہائشی ہیں فوری چونکے اور فتویٰ صادر کیا کہ وہ تو کرسچن ہے لہذا مسجد کی تعمیر اس سے کروانا مناسب نہ ہوگا۔امام صاحب بالکل نہیں مانیں گے۔میں نے ان سے کہا آپ امام صاحب سے بات کریں میں مستری سے بات کر کے آپ کو بتاتی ہوں کہ وہ پیسے کتنے لے گا ۔۔
دوپہر کے وقت میری ٹیچر کے میاں سے بات ہوئی ۔ صورتحال جان کر وہ تھوڑا سا ہچکچاتے ہوئے بولے مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں مگر امام صاحب پسند نہیں کریں گے۔مسلمانوں پر تنگ نظری کا الزام لگتے محسوس ہوتے ہی میں تو شعلہ فشاں ہو گئی ۔جیسے پھٹ ہی پڑی کہ ایسی بھی کوئی بات نہیں آپ بھی اہل کتاب ہو ۔نبی کریم ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں بھی آپ ہی کی کتاب میں درج ہیں اور ویسے بھی میرے ناقص علم کے مطابق اہل کتاب کے ساتھ تو کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا حتی کہ شادی کرنا بھی جائز ہے۔بھائی دل میں جز بز تو ضرور ہوئے کہ میں ایسی غلط فہمی کا شکار کیوں ہوں ،پر بولے کچھ نہیں اور بعد ازاں ان کا خیال درست بھی ثابت ہوا۔ امام مسجد نے ان سے کام کروانے سے انکار کر دیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی مسجد کی تعمیر ایک غیر مسلم نہیں کر سکتا جب مسجد کے چندے کی ضرورت ہوتی ہے تو کیا شیعہ، کیا سنی کی، قادیانی ،اہلحدیث ،عیسائی سب ہی حتی المقدور حصہ ڈالتے ہیں پھر تو وہ پیسہ بھی حرام ہوا نا ؟اور اگر وہ پیسہ مسجد کی تعمیر و تزین میں صرف کیا جا سکتا ہے تو عیسائی مستری کیوں نہیں ؟مسجد اللہ کا گھر ہے تو بے جا پابندیوں کا مقصد ؟ عیسائیوں کی اور ہماری تعلیمات میں بنیادی فرق قل ھو اللہ احد کا ہے ورنہ 
خداوند میرا چوپان ہے مجھے کمی نہ ہو گی اور واللہ خیر الرازقین میں کوئی فرق نہیں ۔
دونوں کا مطلب کم و بیش ایک ہی ہے ۔ عیسائیوں سے نفرت میری ناقص عقل سے باہر ہے حالانکہ ہندوؤں کو ہماری نفرت کا محور و مر کز ہونا چاہیئے مگر کیا کیجئے کہ ہماری بود و باش ،طرز زندگی ،رسوم رواج میں بھی ہندوؤں کا اثر نظر آتا ہے۔اس اختلاف سے قطع نظر کہ عید میلاد النبیﷺ منانا چاہیے یا نہیں ۔۔ ایمانداری سے بتائیے نبی کریم ﷺ کو میوزک کی طرز کی نعتیں کتنی پسند آتی ہوں گی ؟بازار میں رونق لگا کر عورتوں کی بے عزتی و بے پردگی کیا یہ نبی ﷺ کو پسند تھیں ؟ منہ سے آگ نکالنا ،بنا سائلنسر بائیک چلانا ،ہر سجی پہاڑی پر ڈانس کرنا، کیک کاٹنا ،لوگوں کی گزر گاہ کو بند کرنا ؟کیا یہ سب اسی نبی ﷺ کی تعلیمات ہیں جوراستے سے رکاوٹیں ہٹا دیا کرتے تھے سادہ زندگی گزارنے کا درس دیتے تھے ؟میلاد کی محافل میں کتنی بدعتیں دیکھنے کو ملتی ہیں ؟فقہی اختلاف سے قطع نظر سوچیے گا کہیں ہم ایمان سے دور تو نہیں ہوتے جا رہے ؟ کمی ہم میں ہے کہ ایک دوسرے کو کافر کہہ رہے ہیں ایک دوسرے کے عقائد کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ۔قران کے الفاظ و مطالب کو اپنی مرضی سے استعمال کیا جاتا ہے ان کے معانی و تفاسیر کیا ہیں اس بات کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔
بحث تب اختلاف کی شکل لیتی ہے جب منطق کے جواب میں استدلال مانگا جاتا ہے ۔ایک بات سنا کرتے تھے کہ ہر بات کی تہہ میں ایک بات ہوتی ہے اور وہی ساری بات ہوتی ہے ۔اگر ایک عام سا جملہ گہری معنویت کا حامل ہو سکتا ہے تو پھر قرآن جو کلام الہی ہے کتنا گہرا ہو گا ۔جس کی بات بات پر قسمیں اٹھائی جاتی ہیں ۔ہم انسان نہیں رہے جانور بن چکے ہیں وجوہات ہیں ،اخلاق ،نشہ ،ڈھٹائی ۔ہمیں اچھے برے اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہیں ۔صلہ رحمی کو فراموش کر دیا گیا ہے ۔اخلاق کا معیا ر محض پیسہ ہے احساس کی کوئی وقعت نہیں ۔
یہاں اگر کوئی اخلاق دیکھاتا ہے تو اسے مطلبی سمجھا جاتا ہے اللہ ہمارے سب گناہوں کے باوجود ہمیں بھوکا نہیں سلاتا تو ہم کون ہوتے ہیں فتوی لگانے ،حق غصب کرنے والے ،ہم سب نشے کے عادی ہیں پھر چاہے وہ اقتدار کا ہو پیسے کا یا حسن کا ۔ غرور ،خود پسندی ، حاکمیت بھی ،اپنے گھر اپنے خاندان کا خیال رکھنا ، بیرون ملک جا کر اپنوں کی دوری سہنا اور ان کو آسائشیں فراہم کرنا بھی اک نشہ ہے۔ وہ خود کو برباد کر لیتے ہیں اور ان کی کمائی پر عیش کرنے والے اس نشے کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ سب کچھ فراموش کر بیٹھتے ہیں ۔
اب یہاں اہم چیز ہے ڈھٹائی ،ہم میں سے کوئی بھی اپنی غلطی ماننے پر تیار نہیں ۔کیونکہ خود کو عقل کل سمجھنے کا نشہ ہے اکڑ جانا حالانکہ ہمارا دین ہمیں نرمی اور غلطی تسلیم کر کے معافی کا درس دیتا ہے ۔ہم بحیثیت انسان اور خصوصا مسلمان خوش اخلاق ہی ہو جائیں ، ہر قسم کا نشہ و ڈھٹائی چھوڑ کر غلطی تسلیم کرنے اور معافی مانگنے کا رویہ اپنا لیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے ۔ لیکن کیا کریں ہمیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے بہت پیا ر ہے۔ اپنی اپنی اس مسجد کے الگ الگ مقام و قوانین ہیں ۔ وہ اسلام جو لا اکرھا فی الدین جیسے نظریا ت کا حامل ہے اسی دین کو جبری طور اس طریقے سے خود اور دوسروں پر مسلط کر رہے ہیں ،قرانی تعلیمات کی نعوذباللہ نفی کر کے بھی خود کو مسلمان کہلانے پر بضد ہیں ۔
میں تو صرف دعا ہی کر سکتی ہوں کہ کاش ایک ایسی جامع مسجد تعمیر ہو جس میں تمام مسلمان اکٹھے نماز ادا کریں اور ایسی ادائیگی کہ غیر مسلم بھی کھنچے چلے آئیں ایسی عبادت کہ جس کا نور ہماری روح کو پاکیزہ و معطر کرے ۔اللہ کا ایسا گھر جو صرف مسجد کے نام سے ہی منسوب نہ ہو۔ہم میں سے ہر مسلمان کے دل میں ایسی جامع مسجد ہو جس میں آنے کے ہر کوئی خوشی سے تیار ہو جائے ۔

 654 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y8escrgz
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *