ڈھلتی شام

Print Friendly, PDF & Email

ازقلم: قاری عبد المجید (جلالپور جٹاں)
لمبے ہوتے سائے،آفتاب کازرد پڑتارنگ،گھروں کو واپس لوٹتے قافلے،ریوڑ کے ہمراہ چلتے ہوئے چرواہے۔ چرچگ کر بچوں کو دودھ پلاتی اور چوگ چگاتی مائیں،صحن میں رکھی چار پائیوں پہ درازدن بھر کے تھکے ماندے مزدور۔ درختوں پہ اٹھکیلیاں کرتے ہوئے پکھو، فکر معاش سے بے فکر چہچہاتے ہوئے پرندے۔۔شام کو اکثر ایسا ہی منظر ہوتا تھا۔ میرے سہ اطراف گھنے درخت اور سامنے تاحد نظر سرسوں کے پھول تھے۔ سامنے دور افق پر سونے کے تھال کی طرح زعفرانی کرنوں میں گھرا سورج، میری نظروں میں سما رہا تھا۔ سورج کے پجاری کے برعکس ڈوبتے سورج کو میں فکری نظر سے دیکھ رہا تھا۔ آفتاب جب عین شباب پہ ہوتا ہے توکوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا، کوئی اس کی تاب نہیں لاسکتا۔اب اس کا رنگ زرد پڑ چکا تھا،اب اس کی تابانی سرد ہو چکی تھی۔اب میں سر اٹھاکر،نظر ٹکا کر اسے دیکھ سکتا تھا۔ یکایک مجھے یوں محسوس ہوا کہ کہ وہ میرے بہت قریب آگیاہے۔اور مجھ سے سرگوشی کر رہاہے۔ وہ کہ رہا تھا کہ یاد رکھناجو طلوع ہوتا ہے وہ غروب بھی ہوتاہے جو آیا ہے اسے جانا بھی ہے۔ہر ایک کو فنا ہے صرف ذات ذوالجلال کو بقاہے۔(سدانہ حسن جوانی سدانہ باغ بہاراں)۔۔۔وہ مجھے موت و حیات کا فلسفہ سمجھا رہا تھا ۔پھر اس نے گھٹنے ٹیک دیے اور سر سجدہ میں رکھ دیاشاید وہ انعامات الٰہیہ پہ سجدہ شکر ادا کر رہا تھا۔ میری آنکھیں بند ہوگئیں اور میں بھی دل ہی دل میں اللّٰہ کے حضور سجدہ ریز ہوگیا۔انکھیں کھلیں تو وہ بہت دور جا چکا تھا۔۔۔اندھیرا چھانے لگا،۔ستارے چمکنے لگے اورچاند روشن ہونے لگا۔۔سورج توجاچکا تھالیکن وہ اپنی کچھ روشن یادیں باقی چھوڑگیاتھا۔ میں نے سوچا کہ، کیاہم نے بھی سورج کی طرح کوئی ایسا انتظام کرلیا ہے کہ ہمارے بعد بھی کوئی، چاند اور ستارا بن کر ہماری اچھی یادوں کی ترجمانی کرتا رہے؟ 
اندھیرا پھیل گیا۔۔ سب کچھ اوجھل ہوگیا۔۔ درخت اپنے سایہ جات سمیت اندھیرے میں گم ہوگئے۔ ماحول پرہول ہونے لگا۔۔دریں اثناء از پس پشت اک جانی پہچانی آواز آئی۔۔۔ جو تھوڑی دیر قبل سرگوشی کرتے کرتے غائب ہو گیاتھا وہی بول ریا تھا کہ میں نے تم سے منہ نہیں موڑا،میں دور نہیں ہوا میں تو وہیں ہوں بلکہ تم مجھ سے دور ہو گئے ہو اور تم نے میری طرف پشت کرلی ہے۔۔ پھر اس نے طنزیہ قہقہ لگایا اور کہا جو روشنی سے منہ موڑتے ہیں اسی طرح اندھیرے ان کا مقدر بنتے ہیں۔۔ روشنی میں افق پہ کروڑوں میل دورسے دیکھنے والے اندھیرے میں چند انچ دور تک نہیں دیکھ پاتے۔ جو روشنی سے فیض یاب ہوتے ہیں اپنے بعدوہی روشن نقوش چھوڑتے ہیں۔روشنی میں رہنے والوں کے ہی سائے اور عکس ہوتے ہیں۔۔وہ مجھے روشنی اور اندھیرے کا فلسفہ سمجھا رہا تھا۔ اسی دوران یک جگنو جگمگ جگمگ کرتا مری گود میں آبیٹھا۔ وہ مجھے پیارا لگا تو میں نے اسے پکڑلیا مٹھی میں آتے ہی اس نے میری مٹھی روشن کردی۔میں نے کہا جو صید مقید ہو کر بھی صیاد کو روشنی دے ایسے محسن کو قید رکھنا روا نہیں اور یوں بھی روشنی مقید کرنے کے لیے نہیں بکھیرنے کے لیے ہوتی ہے۔میں نے اسے چھوڑا تو اس نے میرے قریب ایک چکر لگایا مجھے یوں لگا جیسا کہ وہ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے جشن آزادی منارہا ہو۔ پھر وہ تیزی سے غائب ہوگیا شاید اسے کسی بھولی،بھٹکی بلبل کو گھر پہنچانے کی جلدی تھی۔۔اسنے مجھے اندھیرے میں ایک نئی روشن جہت عطا کی فرض شناسی اور احساس ذمہ داری۔ وہ دن کی توایک ڈھلتی شام تھی۔۔لیکن وہ میری زندگی کی اک صبح صادق تھی۔۔۔میں نے تہیہ کیا کہ قران و سنت کی روشنی میں ایسی زندگی جیووں گاکہ اس کی ڈھلتی شام تو ضرور ہوگی لیکن اس شام کے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہوگا۔۔ ان شاء اللہ

 903 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y2frltro
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *