چھوٹے

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: یاسین یاس، پھول نگر
چھوٹے ایک لفظ ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک ایسا کردار ہے جو اپنے اندر ہزاروں محرومیاں سمیٹے ہوئے ہے.یہ ہمیں چائے کے کھوکھے پر چائے سرو کرتے، ورکشاپوں پر استاد کو ہتھوڑی اور پانہ دیتے ہوئے، کپڑے کی دکانوں پر تھان اتارتے اور گاہک ڈیل کرتے، ہوٹلوں پر برتن دھوتے اور ٹیبلوں پر کپڑا مارتے، پوش گھرانوں میں بیگم صاحبہ کو مٹھی چانپہ کرتے اور صاحب کی ضروریات کا خیال رکھتے، ملوں میں ڈافنگ کرتے اور فرشوں کی صفائی کرتے، جیولری کی دکانوں پر سامان چیک کرواتے، اینٹیں بنانے والے بھٹوں پر کچی مٹی سے اینٹیں بناتے ہوئے نظر آتے ہیں. یہ زمانے کے ستائے ہوئے اور مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے غریب گھرانوں کے چشم و چراغ ہیں ان کے والدین کی بھی خواہش ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر اور انجنئیرز بنیں مگر حالات سے دلبرداشتہ ہوکر یہ اپنے بچوں کو کام پر ڈال دیتے ہیں کیونکہ موجودہ دور میں بچوں کو پڑھانا کتنا مشکل ہے یہ آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں اور یہ بچے اپنی آنکھوں اور دل میں محرومیاں اور دکھ سمیٹے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے استاد کی جھڑکیاں اور بیگم صاحبہ کی مار کٹائی دکان مالک کی لعن طعن اور ٹرک ہوٹلوں پر جنسی تشدد تک برداشت کرتے ہیں۔ ہم سب کو یہ چھوٹے نظر آتے ہیں نہیں نظر آتے تو چائلڈ لیبر والوں کو نظر نہیں آتے پتہ نہیں ان چھوٹوں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی ہوتی ہے یا چائلڈ لیبر والوں کی آنکھوں پر نوٹوں کی پٹی بندھی ہوئی ہے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ہم لوگ بے حس ہوچکے ہیں میں نے اکثر جگہوں پر پڑھے لکھے لوگوں کو ان چھوٹوں پر گرجتے برستے دیکھا ہے. چائلڈ لیبر بھی مردہ ہوچکا ہے. اسی لیے تو چھوٹے کم نہیں ہورہے اگر صاحبِ ثروت لوگ ایک ایک بچے کا ذمہ لیلیں اور چائلڈ لیبر یہ سب اپنی نگرانی میں ایسا کروائے تو کسی جگہ بھی آپ کو چھوٹے نظر نہ آئیں اگر آئیں بھی تو کم ازکم اتنے نہ ہوں مگر چائلڈ لیبر توں دھنیا پی کر سویا ہوا ہے اور زمینداروں، وڈیروں، مل مالکان، اور ہوٹل مالکان سے پیسے لیکر چپ سادھے ہوئے ہیں اور ہمارا مستقبل یہ چھوٹے آہستہ آہستہ بڑے ہورہے ہیں اور جب وہ اپنی ورکشاپ بنائیں گے ان کو بھی چھوٹوں کی ضرورت ہوگی کیا پتہ کسی چائلڈ لیبر والے کا بیٹا ان کا چھوٹا ہو خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنا کام کریں اور ملنے والی تنخواہ حلال کریں چند روپوں کی خاطر ہمارا، اپنا اور ملک کا مستقبل داؤ پر مت لگائیں. 

 981 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y3rdvcm5
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *