پنجابی ہیرو اور سیاست دان

ahmar-akbar
Print Friendly, PDF & Email

کالم نگار ۔۔۔۔ احمر اکبر
بچپن میں ایک فلم دیکھی تھی مولا جٹ ۔۔ یقیناً آپ نے میں دیکھی ہو گی فلم میں ہمارے پنجابی کلچر کے ساتھ بدمعاشی کو بھی پرموٹ کیا گیا تھا ان دنوں گاوٴں کا ایک بدمعاش ہوا کرتا تھا جس سے علاقے کے سیکیوریٹی ادارے بھی ڈرتے تھےمطلب اس وقت بدمعاش عام عوام میں سے کوئی ایک فرد ہوتا تھا( جو اب حکومت سر انجام دیتی ہے )جس سے حکومتی ادارے بھی کنی کتراتے تھے وقت گزرتا گیا اور ایسے بدمعاش لوگ پیسوں میں کھیلنے لگے اور پیسوں کے دم پر اپنی پہچان رعب ،دبدبا قائم کر لیا ۔
کچھ عرصے بعد یہی بدمعاش لوگ الیکشن میں اپنے حلقے کے لوگوں کی نمائندگی کے لیے میدان میں آ گئے کیونکہ پنجابی فلموں کے پے در پے فلاپ ہونےکی وجہ سے ایسے بدمعاش بے روزگار تھے ویسے بھی آج کل پنجابی فلموں میں بھی بدمعاش کو پرموٹ نہیں کیا جاتا اب ڈانسروں اور مسخروں کادور ہے جو لوگوں کی تفریح کا ذریعہ ہے ۔خیر ان بدمعاش لوگوں کی اکثریت نے اپنے چہرے پر چوہدری ،وڈیرے ، اور پتا نہیں کون کون سے القابات کا اضافہ کیا اور الیکشن میں اپنا پیسہ پانی کیطرح بہا کر اپنے علاقے کے ممبر قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلی ،ضلح کونسل ،چیئرمین اور کونسلر بن بیٹھے ۔
ایک بات سے تو آپ سب بھی متفق ہونگے کہ انسان اپنی عادت سے مجبور ہوتا ہے کوئی بھی عہدہ اس کی عادت کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے ایسا ہی ہمارے سیاستدانوں کے ساتھ ہے وہ اپنی بدمعاشی سے دستبردار ہو کر مہذب عہدے پر تو چلے گئے ہیں مگر وہ اپنی عادت سے مجبور ہیں ۔گاہے بگاہے ان کے کارنامے آپ سنتے ہی رہیں ہونگے اور اگر نہیں سنے تو ہم سنا دہتے ہیں ۔کوئی ایک ہوتا تو میں بیان کرتا ہمارے ملک کا ہرسیاستدان تقریباً ایک سیاسی بدمعاش ہے ( معذرت کے ساتھ اس میں سب شامل نہیں ہیں )اور وہ اپنی پارٹی کے لیے کسی کو بھی مارسکتا ہے کسی پر بھی الزام لگا سکتا ہے وہ اپنے اختیارات کا نا جائز استعمال کر سکتا ہے اپنے پارٹی کے ہیڈ کے لیے اپنی جان قربان کر سکتا ہے اور ایسا کسی ایک پارٹی میں نہیں ہوتا بلکہ سب کے سب ایک ہی تھالی کے چٹے وٹے ہیں ان کے لیے پاکستان کی اہمیت کم اور اپنے اور اپنی
پارٹی کے کاغذی منشور کی اہمیت زیادہ ہے ۔
ایسے سیاسی بدمعاش اور سیاسی غنڈے کسی نہ کسی طرح ہم سب پر اور پاکستان پر مسلط ہو چکے ہیں اور انکو لگتا ہے کہ ملک پاکستان ان کا گاؤں ہے اور اس پاکستان نامی گاوٴں کے دروغہ بھی ان سے ڈرتے ہیں اس لیے وہ اپنے علاقے میں تو اپنی مرضی کرتے ہی تھے اب یہ کام بے خوف و خطر اسمبلی میں بھی شروع کر دیا گیا ہے ہماری پنجابی فلمیں فلاپ ہو جاتی تھی مگر ہماری اسمبلی کے اندر چلنے والی فلم سے پوری دنیا لطف اندوز ہوتی ہے اور خاص کر ہمارے دشمن ممالک میں بریکنگ نیوز بن جاتی ہے مطلب اسمبلی والی فلم سپر ہٹ ثابت ہوتی ہے
کیا ہوا ؟ اگر تمام دنیا کے ٹی وی چینل پاکستان کو بدنام کرتے ہوے بتاتے ہیں کہ پاکستان کی اسمبلی میں بھی دہشت گرد موجود ہیں جنونی لوگوں کو اسمبلی میں لے کر آنے والے ملک کا نام پاکستان ہے ؟جی ہاں ایسے ہی الفاظ سے وہ ہمارے ملک کا نام روشن کرتے ہیں
پریس کانفرنس کرتے وقت پوری دنیا میں جو طریقے کار رائج ہے پاکستان میں اس کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ہم ان سیاسی بدمعاشوں کے منہ سے نکلے ہوے ہر لفظ کو پرموٹ کرتے ہیں اور ہر ٹی وی اسکرین پر بریکنگ نیوز بنا کر ٹکر لگا دیا جاتا ہے وہ الزام ہو یا کسی سیاسی لیڈر کا دفاع ہمار ے چینل کو اپنی ریٹنگ کا خیال ہے ۔ملک کے امیج سے ہمیں کیا لینا دینا ہے

ہمارے سیاستدان ایک مکمل فلم ہیں پنجابی فلم جس میں ہیرو بے شک بدمعاشی کرے ظلم کرے جبر کرے وہ ہیرو ہی کہلاتا ہے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کے بعد ہیرو اپنی محبوبہ کے ساتھ ایک ڈانس بھرا گانا سنتا ہے اور پوری عوام جو فلم دیکھ رہی ہوتی ہے وہ تالیاں بجا کر داد دیتی ہے اورپھر فلم کا ہاف ٹا ئم ہو جاتا ہے مطلب۔۔۔۔۔ وقفہ براے پریس کانفرنس ۔۔
اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے ہم کو سیاستدان چاہئیں یا مکے مار ہیرو، گالیاں اور ڈائیلاگ مارنے والے ولن اور سائیڈ ہیرو جو آے دن ایک نیا شوشہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور پوری دنیامیں پاکستان کی جگ ہسائی ہوتی ہےویسے تو اب بدمعاشی کلچر ختم ہو رہا ہے مگر ہمارے کچھ سیاستدانوں نے اس کلچر کو پوری دنیا میں پھیلانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے جبکہ عام آدمی اگر کوئی بھی بات کرے تو اس کے لیے مسلہ پیدا کر دیا جاتا اس کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے مگر ہمارا کام ہے عوام تک سچ کو پہنچانا اور وہ ہم پہنچاتے رہیں گے

اپنا معیار ہے شاہوں سے بغاوت کرنا
میں الجھتا ہوں فقط شہر کے سرداروں سے

Short URL: http://tinyurl.com/ybl8prs3
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *