پانچ کروڑ نہیں صرف پانچ ہزارسے جان بچ سکتی تھی مگر۔ ۔۔تحریر: ذوالفقار خان

Print Friendly, PDF & Email
سُنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سُناہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
احمد فراز نے تو اپنی کسی تخیلاتی ہستی کے بارے مذکورہ اشعار کہے ہوں گے مگر معاشرے میں واقعی ایسی ہستیاں پائی جاتی ہیں جو مذکورہ تعریف کی مصداق ہوتی ہیں۔
آج راقم ایسی ہی ایک ہستی کاتذکرہ کرنے لگا ہے جسے لوگ واقعی آنکھ بھر کے دیکھتے تھے، اُس سے ملنے کے مشتاق رہتے ، اُس کی باتوں سے پھول جھڑتے تھے۔ اتنی محبت کرنے والے انسان کہ دوست احباب تو کیامخالف بھی اُس کی کڑوی کُسیلی باتوں سے بے مزہ نہیں ہوتے تھے۔
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا
وہ گوشت پوست کا انسان تھا۔ اُس نے بھی بچپن ، لڑکپن ، نوجوانی اور جوانی کے دِن گزارے۔ اُس سے غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ مگرلڑکپن ہو کہ جوانی راقم نے اُسے ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑے دیکھا۔ ہمیشہ ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دی۔ پیسے جوڑ جوڑ کر اور گن گن کررکھنے کے ہنر سے نابلد، خرچ کرنے کے وصف سے مالامال۔ پیدل سے سائیکل اور موٹر سائیکل سے کار تک کی سواری میسر ہوئی مگر مزاج میں جو انکساری تھی وہ آخر ی سانس تک ساتھ رہی۔ نیک و بد اُس کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔امیر و غریب اُس کی لغت میں ہم پلہ تھے۔جس بات کو حق سمجھتے ہر کسی کے سامنے بے دھڑک کہہ دیتے۔
عوامی مقبولیت کا یہ حال تھاکہ ایک بار بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے مارا۔ انتخابی مہم پہ تنہا نکلا اور جب نتیجہ سامنے آیا تو اپنی یونین کونسل میں لیبر کسان کونسلر کے طور پر ناظم کے برابر ووٹ حاصل کر لیے۔وہ صرف مشہور ہی نہیں مقبول بھی بہت تھا۔ ماتھابَل کَس سے پاک ، دِل آویز مسکراہٹ سے لبریز چہرہ۔ اُس کی تصاویر آج بھی اُس کے زندہ دِل ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
داؤدخیل کی مقامی سیمنٹ فیکٹری میں بطور کرین آپریٹر ملازم رہا۔ مزدوروں کے اصرار پہ سی بی اے یونین میں صدارتی امیدوار بنا۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ دوسری بار بلا مقابلہ صدر منتخب کرلیا گیا اور پھر تیسری اور چوتھی بار بھی صدر کا انتخاب جیت گیا۔ فیکٹری کے مزدوروں کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ پہلی بار فیکٹری انتظامیہ اور مزدوروں کے درمیان فاصلہ کم ہوا بلکہ ایسا لگتاتھا کہ اس مزدور راہنما کی بدولت انتظامیہ اور مزدور ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ ان کے تین چارسالہ دور میں کنٹریکٹ مزدوروں کو شکایات بھی رہیں ۔ممکن ہے اُسے فیکٹری کے مستقل مزدوروں نے اپنا صدر بنایا تھا جس کی بدولت وہ کنٹریکٹ ملازمین کی حسبِ توقع داد رسی نہ کرسکا۔مگر وہ کسی گروہ یا فرد کے ساتھ بدنیتی کی بنیاد پر زیادتی کرنے والا انسان نہیں تھا۔ اُس کے جنازے میں اُن مزدوروں اور راہنماؤں کی آنکھوں سے آنسو اس بات کی تصدیق کررہے تھے کہ وہ واقعی ایک مخلص انسان تھا۔
جب سے اُس کی زندگی نے ایک سو اسی زاویے کا موڑ کاٹا تو وہ ایک مختلف انسان تھا۔دردِ دل سے تو وہ پہلے بھی مالا مال تھا مگر لڑکپنے کی جھلکیاں اُس کی نوجوانی میں بھی جھلکتی تھیں جو معاشرے کو نہیں بھاتی تھیں۔ اب تو بالکل ہی لڑکپنا چھوڑ چکاتھا۔ خودداری اوردیدہ دلیری جیسی صفات ہمیشہ اُس کا زیور رہیں۔
مزدور کے حقوق کے لیے فیکٹری انتظامیہ کے ساتھ سخت بات کرنا پڑی تو کی، مِنت سماجت کرنا پڑی تو بھی کی۔ کسی مزدور کی بحالی کے لیے فیکٹری مالکان کے قدموں میں اپنی پگڑی رکھنا پڑی تو بھی رکھی۔ وفات پا جانے والے مزدوروں کے یتیم بچوں کو مستقل ملازمت دلوانا ہو یا کسی اورحق دار کو حق دلوانا، ہمیشہ اس میں پیش پیش رہا۔ اُس کی اقربا پروری انصاف کے معاملے میں کبھی حائل نہ ہوسکی۔ کئی رشتہ دار اس عادت کی وجہ سے اُس سے کھِچے کھِچے بھی رہتے مگر وہ انصاف کی خاطر اقربا ء کی دوری بھی برداشت کرلیتاتھا۔
اپنے خاندان میں گھریلو ناراضیوں کے باوجود وہ خاندان کی آنکھوں کا تارا تھا۔دوست احباب تو اُس کی راہ تکتے رہتے۔ اُس کی موت کی خبر سب پر بجلی بن کر گری۔ہر آنکھ اشک بار تھی۔ داؤدخیل کی تاریخ میں میجر جنرل ثناء اللہ نیازی شہید کے استثناء کے ساتھ بڑے جنازوں میں سے ایک تھا جس میں شہر سے زیادہ باہر کے مزدور اور غریب جان پہچان والے لوگوں نے شرکت کی۔ حتیٰ کہ سیمنٹ فیکٹری کے انتظامیہ میں سے سوائے ایک آدھے افسر کے سب شریک ہوئے۔جاپان میں پاکستان تحریک انصاف کے صدر جاوید نیازی بھی شریک ہوئے البتہ ضلع کی باقی سیاسی قیادتوں کو بروقت اطلاع ہونے کے باوجود نمازِ جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل نہ ہوسکی۔حتیٰ کہ اُن کوبھی جن کو وہ سیاسی امداد مہیا کرتارہا۔
ایک ایسا شخص جو اس معاشرے کی ضرورت تھا۔جسے بچے ،نوجوان، بوڑھے سب پیار اوراحترام سے ماموں اور ماما کہہ کر پکارتے تھے۔ جس کے دم سے کھیل کے میدان ،سماجی تقریبات اوردوست احباب کے ساتھ تفریحات سب آباد ہوں، جو مسلمانوں کے تمام مکاتیب فکر میں معزز سمجھے جاتے ہوں اور مسیحی برادری میں بھی اپنائیت سے بڑھ کر محبت کی حد تک پسند کیے جاتے ہوں ، جو مزدوروں کے دکھوں کے مداوا گر ہوں، جو یتیموں کے درد شریک ہوں۔ ایسے شخص کا دُنیا سے اچانک اُٹھ جانا ایک المیہ سے کم نہیں۔ موت تو برحق ہے مگر ایسے انسان کی کمی معاشرے کو عرصہ دراز تک رہتی ہے۔27 دسمبر2007ء محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا دِن اور 2014ء کا 27 دسمبر اس عظیم انسان کی وفات کا دِن ۔کبھی نہ بھولنے والی تاریخ کا حصہ بن گیا۔
بچھڑنے والے تجھے علم ہی نہیں شاید
تیرے بغیر یہ گلشن ویران لگتا ہے
اس عظیم شخص کی موت کا سب سے درد ناک، افسوس ناک اور شرم ناک پہلو یہ ہے کہ یہ داؤدخیل کی جس مقامی سیمنٹ فیکٹری میں تین عشروں سے بھی زیادہ سے کام کررہاتھا۔ اُس فیکٹری کے بارے بتایاگیاکہ وہ روزانہ تقریباََ ساڑھے بارہ ہزار ٹن سیمنٹ بناتی ہے۔ جس کی مالیت مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے ۔ لیکن جب اس مزدور راہنما کو دِل کی تکلیف ہوئی اوروہ فوراََ فیکٹری کے ہسپتال پہنچاتووہاں تعینات ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔ ڈسپنسر تھا مگر پانچ کروڑ روزانہ کمانے والی فیکٹری کے ہسپتال میں پانچ ہزار کاابتدائی طبی امداد والا ٹیکہ تک نہیں تھاجو اس عظیم انسان کو بروقت لگا دیاجاتا تو ڈاکٹر کہتے ہیں اس کی جان بچائی جاسکتی تھی۔اسی فیکٹری کی انتظامیہ ہر سال ثقافت کے نام پر کثافت پھیلانے والی تقریبات پر ہزاروں نہیں لاکھوں روپے صرف کرتی ہے۔کھاد فیکٹری کے ڈاکٹر کا پتا کیاگیا تو جواب ملا وہ بھی ہسپتال میں ہے نہ گھر پر۔ کسمپرسی کے حالت میں داؤدخیل کے دیہی مرکز صحت لایا گیا مگر وہاں پہنچنے سے پہلے ہی وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔انا اللہ وانا علیہ راجعون۔
راقم اس مرحوم راہنما کی پہلے سے تیسرے دن تک جنازہ ، تدفین اور سوگ میں شریک رہا۔وہاں پر موجود لوگوں نے فیکٹری انتظامیہ کی اس بے حسی پر بہت غم و غصہ کا اظہار کیا۔بہت سے لوگوں کی نظر میں تو فیکٹری انتظامیہ اور ڈاکٹر اس مزدور راہنما کی موت کے ذمہ دار ہیں۔ اس فیکٹری میں کم و بیش مستقل اور غیر مستقل ایک ہزار مزدور اور افسران کام کرتے ہیں ۔ ان کے لیے صرف ایک ہی ڈاکٹر ہے جبکہ پاس ہی کھاد فیکٹری میں بھی اتنے ہی تقریباََ ملازمین ہیں اُن کے لیے بھی ایک ڈاکٹر ہے ۔کم ازکم ان دو میں سے ایک ڈاکٹر کو تو ہر حال میں موجود رہنا چاہیے۔ تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بروقت علاج میسر آسکے۔اربوں روپے سالانہ کمانے والی فیکٹری کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی ادویات اور ٹیکہ جات تو ضرور دستیاب رکھے جس سے دِل کے مریضوں کو فوری طبی امداد مل سکے۔
میری ضلعی انتظامیہ اور حکومت پنجاب سے خصوصی طور پر درخواست ہے کہ وہ سیمنٹ فیکٹری میں مزدوروں اور گردنواح کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لے۔ اپنے مزدوروں اور گردونواح کی آبادیوں کو مفت تعلیم و صحت کی سہولیات، آلودگی سے پاک ماحول مہیا کرنے اورمزدوروں کو اُن کے حقوق دلوانے کے لیے فیکٹری کو لیبر لاز کی پابندی کا پابند بنائے۔ اور مزدور راہنما کو بروقت طبی امداد نہ دیئے جانے کی تفتیش کرائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ہر دلعزیز دردِدل والے انسان محترم مرحوم حاجی سیف اللہ خان پھُلا کی کوتاہیوں اور غلطیوں کو معاف کرے ۔ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔
حاجی سیف اللہ خان پھُلا کی اچانک موت جہاں دوست احباب کے لیے صدمے کا باعث بنی ، وہاں قبیلہ حسن خیل کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب ہے۔سیف اللہ خان مرحوم اپنے قبیلہ حسن خیل کے سرکردہ فرد تھے۔ ریڈیو پاکستان اسلام آباد کے سابق پروڈیوسر ظفر خان نیازی، لوک گلوکار عطا محمد نیازی داؤدخیلوی ،پی ٹی آئی جاپان کے صدر جاوید نیازی یا کوئی اور اب آگے بڑھے۔اپنے قبیلہ حسن خیل اور علاقہ کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرے۔
آخر پہ مرحوم ماموں حاجی سیف اللہ خان پھُلا کی نظر چند اشعار جو ہر اُس دِل کی آواز ہیں جس سے پھُلا ماموں کاواسطہ رہا، اُس سے ملاقات رہی۔ دوست رہا یا چلتے پھرتے اُس سے تعارف رہا۔
رخصت ہوا تو میر ی بات مان کر گیا
جو اُس کے پاس تھا وہ مجھے دان کر گیا
بچھڑا کچھ اِس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔

 1,713 total views,  2 views today

Short URL: Generating...
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *