نئے فضلاء کرام کے ذ مہ داریاں

حافظ محمد صدیق مدنی
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مولانا محمد صدیق مدنی
اے کل کے طلباء اور آج کے علماء کرام جو آج عالم بن کر دستار فضیلت حاصل کرنے کے بعد جو چیلنجز اور ذمہ داریاں کے سامنے ہونگے اس پر کچھ بحث لکھنا ضروری سمجھتا ہوں آپ حضرات علماء ہیں اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مختلف اوقات میں صحابہ کرام حاضر ہوتے اور سوالات پوچھا کرتے تھے مثال کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک سوال متعدد مرتبہ ہوا کیا رسول اللہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ص نے اس سوال کے جواب میں کسی سے فرمایا کہ جہاد افضل ہے، کسی سے فرمایا والد ین کی خدمت جہاد ہے، کسی کو کسی کو کرنے کی تلقین فرمائی سوال ایک ہی تھا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حضرات کو مختلف جوابات مرحمت فرمائے اس اختلاف کے بارے میں حضرات محدثین کرام کی آرا ء مختلف ہیں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ مختلف جوابات سوال پوچھنے والوں کے حالات اور مزاج کی وجہ سے کہ مثلا آپ صلی اللہ وسلم کو جس شخص کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ غصے کا تیز ہے اسے غسل کرنے کی ترغیب دیں، جس کے بارے میں والدین کی خدمت اور اطاعت میں کوتاہی کا خدشہ تھا اس کے لئے والدین کی خدمت کو جہاد قرار دیا، جس کے مزاج میں انفاق فی سبیل اللہ کا درس دیا جبکہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف جوابات حالات اور مواقع کے اختلاف کی بنا پر تھے مثلا جب جہاد کا موقع درپیش تھا اس وقت جہاد کو افضل عمل قرار دیا، جب فقراء کا تعاون کروانا مقصود تھا اس وقت انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دے دیا، جب والدین کی خدمت میں کوتاہی محسوس کی والدین کی خدمت کو جہاد بتلایا ادھر دیکھا کہ کسی کی بیٹی جوان ہے اور شادی میں تاخیر کی جارہی ہے تو اسے عزت سے رخصت کرنے کا حکم دیا، رمضان المبارک روزے کے فضائل بیان فرمائی اور اگر حج کا معاملہ آیا تو فریضہ حج کی ادائیگی کی تلقین فرمائی اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ شریعت کے بہت سے احکام کی بنیاد حالات پر ہوتی ہے اور حالات کی بنیاد پر احکام تبدیل ہوجاتے ہیں۔اس لئے آج کے دور کا اہم ترین تقاضا یہ ہے کہ علماء کرام کو آج کے دور میں اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کے لیے آج کے حالات کو سمجھنا ضروری ہے موجودہ دور کے چیلنجز کا ادراک کرنا لازم ہے اور یہ جاننا ضروری ہے کہ اس وقت تہذیبی، فکری، عملی، علمی اور تبلیغی میدان کے تقاضے کیا ہے؟ آج کے دور میں آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور پھر اس کے نتیجے میں علمی اور فکری سطح پر خود کو مسلح کرنا آج کے دور کے سب سے بڑا تقاضہ ہے اپنے مسائل کے تدارک کے لیے پہلے ان کا ادراک ضروری ہے علاج کے لیے مرض کی تشخیص لازم ہے آج یو نا ن کا فلسفہ اور فکر نہیں جس وقت یونانی فلسفہ کا عروج تھا اس وقت امام غزالی رحمہ اللہ نے میدان میں آکر پہلے اس کو پڑھا اور سمجھا اور پھر اس کا رد کیا آج ہمیں پہلے یہ سمجھناہوگا کہ ہمارا واسطہ آج کس کلچر، تہذیب اور کس قسم کے فکروفلسفہ سے ہیں؟ اور اس کے مقابلے میں اسلامی فکر وفلسفہ اور تہذیب و کلچر کیا ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں موجودہ دور کے فکروفلسفہ کی توڑ کر سکتے ہیں۔
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے درس نظامی پڑھ چکے اب آپ صاحبان کو یہ سیکھنا ہے کہ انہوں نے ان کے استعمال کے لیے کونسی زبان استعمال کی جائے؟ اور دنیا سے اپنا موقف منوانے کے لیے کن دلائل کی بنیاد پر بات کی جائے؟ اس لئے آج یہ لازم ہے کہ ایک عالم دین کا نظر زمانے کا موجودہ حالات پر بھی ہو اور اس کا رشتہ صفہ کی درسگاہ سے بھی جڑا ہوا ہو۔ اسے قرآن وسنت اور دینی علوم پر بھی دسترس حاصل ہو اور اس کا ہاتھ قوم کی نبض اور زمانے کی رفتار پر بھی ہو۔ جس عالم کا رشتہ اپنی اصل اور ماضی سے کمزور ہو وہ بھی نامکمل ہے جو موجودہ حالات سے واقف نہ ہوں وہ بھی ادھورا ہے اسی لیے بعض حضرات ایسی مفتی حضرات کو فتوی دینے سے منع کیا ہے جو اپنے زمانے کے حالات کو نہ جانتا ہو اور وہ مشہور مقولہ ہے تو آپ سب نے سن رکھا ہوگا کہ جو اپنے زمانے کے حالات کو نہ جانتا ہو وہ جاہل ہے اس لیے موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھنا موجودہ دور کے چیلنج سے آگاہی حاصل کر کے ان سے نمٹنے کی تیاری اور اہتمام کرنا آج کے دور کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر میدان کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور ہر میدان کا کوئی خاص قسم کا اسلحہ ہوتا ہے جس کے بغیر چارہ کار نہیں علم وفکر کے میدان کی ضرورت اور اسلحہ دلیل استدلال، منطق اور برہان ہے۔ آج کے اہل باطل اور کفار طاقت، اسلحہ، ڈرون حملوں اور دھمکی کی زبان میں بات کرتے ہیں وہ آج پاکستان کو اور دیگر مسلمان ملکوں کو دھمکیاں دیتے ہیں ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے طاقت کو استعمال کرتے ہیں اور طاقت کے بل بوتے پر فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن یاد رکھیں جو فتح طاقت کی بنیاد پر حاصل کی جائے وہ فتح عارضی ہوتی ہے اور دائمی فتح دلیل اور استدلال کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے طاقت کے نشے میں بدمست لوگ ایک نہ ایک دن ضرور شکست کھاتے ہیں جبکہ دلیل اور علم کامیاب ہوتے ہیں۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا محمد حنیف جالندھری مدظلہ کا کہنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل ہے اور نہ اس کے ذریعے فتح حاصل کی جاسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے مدارس کے دفاع اور بقا کی جنگ دلیل اور منطق کی بنیاد پر لڑی ہے مدارس کے دفاع کی جدوجہد میں ہم نے اسلحہ نہیں اٹھایا، طلباء کو سڑکوں پر نہیں لائے، جلوس نہیں نکالے بلکہ ہم نے دلیل اور سچائی کی بنیاد پر جنگ لڑی اور اللہ رب العزت نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے فتح دیں آپکو بھی کل اسی قسم کی صورتحال سے واسطہ پڑے گا بلکہ آپ کے مستقبل میں حالات مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ موجودہ حالات کی سنگینی کا ادراک اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنا چاہیے آپ پھر دلیل کی بنیاد پر دنیا سے اپنا موقف منوا سکیں گے کیونکہ اسلام طاقت کی زبان میں بات نہیں کرتا بلکہ دلیل کی بنیاد پر بات کرتا ہے جنگ کے میدان میں بھی پہلے اسلام کی دعوت دی جاتی ہے پھر جزیہ دے کر بطور زمی اسلامی ریاست کی رٹ قبول کرنے کی پیشکش کی جاتی ہے اور آخر میں اسلحے اور تلوار کی نوبت آتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چالیس سالہ زندگی کو بطور دلیل پیش کیا جب کہ مشرکین مکہ نے ظلم و تشدد کی زبان میں بات کی فرعون اور نمرود نے طاقت کی زبان میں بات کی فرعون نے کہا لاصلبنکم فی جذوع النخل۔ 

جبکہ حضرت موسی علیہ سلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے دلیل کی بنیاد پر بات کی اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دلیل کی بنیاد پر فرعون سے مکالمہ کیا۔ اس کے جواب میں فرعون نے اپنی طاقت اور اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ھوئے بے گناہ کو پھانسی دے دی اور سزائے موت پانے والے کو رہا کردیا۔ حضرت ابراہیم جب اگلے دلیل دی کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اگر تمہیں رب ہونے کا دعویٰ ہے تو سورج مغرب سے نکال کر دکھاؤ اس دلیل کے مقابلے میں فرعون شکست کھا گیا اور ہکابکا رہ گیا اس لئے یہ یاد رکھیں کہ انبیائے کرام کا راستہ دلیل اور استدلال کا راستہ ہے اور فرعون، بادشاہوں اور حکمرانوں کا ہمیشہ انداز یہ رہا کہ وہ طاقت اور اسلحہ کی زبان میں بات کرتے ہیں اس لیے آپ نے انبیائے کرام والا راستہ اپنانا ہے۔

تیسری تیسری بات یہ ہے کہ آج کا ہتھیار دلیل کا ہتھیار ہے، علم کا ہتھیار ہے، تعلیم کا ہتھیار ہے اور ہمیں اپنے آپ کو اس ہتھیار سے مسلح کرنا ہوگا کیونکہ آج مکالمہ اور مباحثہ کی جنگ ہے علمی اور فکری محاذوں پر کشمکش ہے دلیل اور استدلال کی بنیاد پر اس کے لئے ضروری ہے یہ علم ہی ہے جو انسان کو مسلح کرتا ہے اور آج کے دور کا ہتھیار یہی ہے دیکھیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں گھوڑوں اور تلواروں کے ذریعے جنگیں ہوتی تھی لیکن آج کی جنگی طیاروں، میزائلوں اور بھاری اسلحے کی جنگیں ہیں۔ جنگ عظیم اول میں جو ہتھیار استعمال ہوئے آج وہ استعمال نہیں ہو رہے اسی طرح وقت کے ساتھ ساتھ ہتھیار بھی بدل جاتے ہیں اور جنگوں کا طریقہ بھی بدل جاتا ہے اس لئے ہمیں موجودہ دور میں جن جن میدانوں میں اہل باطل سے مقابلہ درپیش ہے ان تمام میدانوں کے لیے تیاری کرنی ہوگی جنگوں کی طرح آج مناظرے، مجادلے اور مباحثے کا انداز بھی بدل گیا ہے اس لئے لازم ہے کہ آج کے دور کے مسائل بھی سمجھیں اور دلائل بھی طرزاستدلال بھی جانے اور آج کے دور کی مروجہ زبانیں بھی سیکھیں تب جاکر اس کشمکش میں آپ کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے اور آخری بات یہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ آج علم اور فقاہت کے جس مقام پر ہو آپ کیسے پہنچے؟ اس سوال کے جواب میں حضرت امام ابویوسف رحمہ اللہ نے جو جملہ ارشاد فرمایا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے آپ نے فرمایا یہ افادہ میں بخل نہیں کیا اور استفادہ سے انکار نہیں کیا اس لیے آپ حضرات یہ مت سوچیں کہ ہم نے سند فراغت حاصل کرلی اب ہمیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہیں؟ بلکہ اب پہلے سے زیادہ محنت کریں اور یہ یاد رکھیں کہ الحکمۃ ضالۃ المؤمن؛ کہ حکمت تو مومن کی گمشدہ متاع ہے جہاں سے ملے وہیں سے لے لو بلکہ اگر حکمت کی کوئی بات دیوار پر لکھی ہوئی ملے تب بھی اسے لے لینا چاہیے۔ 

بس اے کل کے طلبہ اور آج کی فضلائے کرام اپنی دستار بندی کی محفل سے نکل کر آپ کو اس ذمہ داری کا بوجھ محسوس کرنا چاہیے جو امت کی طرف سے آپ کے کاندھوں پر لا دیا گیا ہے مانا پڑھنے اور امتحانات دینے کی ایک بھاری مشقت ختم ہوئی مگر اس سے کہیں زیادہ اونچی زمہ داریوں کی مشقت آپ کے منتظر ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں مگر کل جب کسی ادارے کی ذمہ داریوں میں آپکا حصہ پڑے گا تو اندازہ ہوگا کہ یہ دینی مدارس کس قدر مجاہدے، کتنے بڑے توکل اور کس حد تک جدوجہد و عزیمت کے ساتھ چلائے جارہے ہیں کچھ عملی طور پر پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہیں کچھ لوگ ان کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں کچھ انتظامیہ کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں کوئی سرکار ان کے ساتھ نہیں، کوئی غیر ملکی امداد انہیں نہیں مل رہیں یہ امت کے ایک ایک روپے کو جوڑ جوڑ کر چلائے جارہے ہیں۔

جس جس نے بھی یہاں کچھ وقت گزارا اس پر امت کا قرض چڑھ گیا خاص کر جو الف باء سیلیکر کلمتان حبیبتان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تک اس چشمہ فیض سے سیراب ہوئے ہوں ان کا تو بال بال امت کا مقروض ہے آج امت کی جو حالت ہے وہ محتاج بیان نہیں جیسے جیسے آپ ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کام کرتے ہیں عملی تجربات سے گزریں گے مزید واضح ہوگا امت کس قدر دکھی ہے؟ کتنی درماندہ ہے؟ اسے مدد اور رہنمائی کی کس قدر سخت ضرورت ہے؟ کتنے دینی شعبے ہیں جہاں رجال کار کی کمی ہے؟ کتنے شعبے ہیں جہاں میدان خالی ہیں؟ اہل باطل کی علمی و فکری جنگ نے ہمیں چھومکی جنگ لڑنے پر مجبور کر دیا ہے زندگی کا کونسا گوشہ اور کون سا پہلو ہے جہاں مادہ پرستی اور ارتداد کے شعلے نہیں بھڑک رہے؟ کونسا کوچہ اور گلی ایسا ہے جہاں باطل فرقوں نے اپنی تبلیغ نہیں شروع کررکھی دنیا کا کون سا ملک ہے جہاں مشینری ادارے کام نہیں کررہے؟ کونسی حکومت ہے جو علمائے حق کو دبانے کی پالیسی پر کاربند نہیں؟ کون سا خطہ ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لایا ہوا دین اپنی اصل اور صحیح شکل میں پوری طرح نافذ ہے؟ 

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی مدارس کی چاردیواری کے اندر دین خالص محفوظ ہیں مگر اسے محفوظ رکھنے کا مقصد کیا یہی نہیں کہ اسے باہر بھی رائج اور نافذ کیا جائے اس راستے میں جو رکاوٹیں ہوتے ہیں وہ بے شمار ہیں۔ جو امتحانات ہیں شاید ان کا سلسلہ ہماری آخری سانس تک جاری رہے مگر کیا مصائب کے پہاڑ راستے میں دیکھ کر سمت بدل لینا مردوں کا کام ہے کیا منزل دور ہو تو راستے میں ہمت ہار جانا اسے زیب دیتا ہے؟ جو اللہ رب العزت اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اور آخرت میں جواب دہی کا اسے یقین ہو شاید ایک کام امتی سے پوچھ گچھ میں رعایت ہو جائے مگر جنہیں امت کے اجتماعی شعور اور جذبے نے خون پسینے کی محنت سے آٹھ اور دس سال میں عالم فاضل بنایا دستار فضیلت سر پر سجنے کے بعد ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہو سکتا اگر وہ اس علم کو حاصل کرکے عام دنیاداروں کی طرح کسی کمپنی میں ملازمت، ملازمت کے بعد ترقی اور بھاری تنخواہ کو اپنا ہدف بنالیں تو امت کے ساتھ اس سے بڑی بے انصافی اور کیا ہوگی اگر وہ کاروبار اور معاشی بہتری کے پیچھے پڑ جائیں تو اساتذہ کی محنت کا کیا حق ادا ہوگا؟ یہ کام تو معمولی علم دین کے ساتھ بھی کیے جاسکتے ہیں بلکہ ہدف یہ ہو تو مناسب یہی ہے کہ امت کا سرمایہ ضائع نہ کیا جائے ضروری علم دین پر ہی اکتفا کیا جائے لیکن اب جبکہ امت کے چنیدہ لوگوں کی علمی، فکری، مالی و بدنی صلاحیتیں آپ پر خرچ ہو چکی ہیں تو ایسے میں جوان مردوں کا کام نہیں کے اتنے بڑے احسانات کو پس پشت ڈال دیں اور ان کے اہداف کو جن کے لیے انہیں تیار کیا جاتا رہا چھوڑ چھاڑ کر دنیا داری ملک جائیں۔

کاش! ہمیں وہ امت کے لئے وہ احساس ذمہ داری نصیب ہو جائے تو ماضی کے مسلم حکمرانوں کو نصیب تھا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ بنے تو ان کی اہلیہ نے دیکھا رات کو مصلے پر بیھٹے رو رہے ہیں وجہ پوچھی تو فرمایا میں نے امت محمدیہ کے معاملات اپنے ذمہ لے لئے ہیں سوچتا ہوں کوئی بھوکا فقیر ہے، کوئی بے سہارا مریض ہے، کوئی مظلوم و مجبور ہیں، کوئی مجاہد ہیں، کوئی بے وطن قیدی ہے، کوئی بوڑھا ضعیف اور کوئی عیالدار مفلس ہے۔

میرا رب قیامت کے دن پوچھے گا میں نے ان کے لئے کیا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مقابل مدعی ہونگے۔ ڈر ہے مقدمہ میرے خلاف ثابت نہ ہوجائے پس خود پر ترس کھاکر رو رہا ہوں۔

فضلاء کرام! کہیں بروز محشر ہمیں یہ منظر نہ دیکھنا پڑے اگر ہم اس احساس ذمہ داری سے آشنا نہ ہو سکے تو پھر اس کا خطرہ بہت زیادہ ہے اللہ رب العزت ہمیں توفیق دے کہ ہم امت کی توقعات پر پورے اتریں آمین۔

Short URL: http://tinyurl.com/y3b8slqx
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *