‘‘میں’’کا داغ

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شاز ملک، فرانس
زندگی ایک شطرنج کی بساط ہے اور انسان کی حیثیت ایک مہرے کی سی ہے۔ دست قدرت کی چاہ سے منسلک یہ کھیل ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہیگا۔بساط زیست پر یہ مہرے کب کسے کیا مات دے جائیں،کوئی کچھ نہیں جانتا۔رب تعالیٰ نے اپنی بہت سی صفات انسانوں کو عطا کیں صرف یہ دیکھنے کے لئے کے انسان ان لاہوتی صفات کو کس طرح اپنے اندر جذب کر کے ان سے اپنے جیسے انسانوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے کیا ایسا کرے گا جو اسکی صفات کے شانِ شایان ہو ا ور جو صفت رب تعالیٰ نے اسکی فطرت کو ودیعت کی اسکے ساتھ انسان نے کتنا انصاف کیا۔راز قدرت یہ بھی ہے کہ انسان کو رب تعالیٰ کی عطا کردہ صفات کا حقدار ٹہرایا جانا بھی خود انسان کے لئے ایک آزمائش ہے کیوں کہ انسان ان صفات کا استعمال کتنا انسانوں کی بھلائی میں صرف کرتا ہے اور کتنا خود غرضی میں صرف اپنی ذات کو نفع پہنچانے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس کے لئے وہ رب کی بارگاہ میں جواب دہ ہو گا۔انسان کو جتنا بھی علم عطا کیا گیا وہ رتی برابر ہے یا مٹھی بھر اس علم کو کس لئے استعمال کیا گیا اسکا ہر صاحب علم بار گاہِ ربی میں جواب دہ ہو گایہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ جہاں ہر پل انسان آزمائشوں کی زد میں ہے۔ جہاں اسے نواز کر بھی آزمایا جاتا ہے۔ یہ نوازشیں بھلے علم و دانش کی ہوں ،غور و فکر کی ہوں ،عقل و شعور کی ہوں یا جمالیاتی واحساساتی حس کی ہوں یا مال و زر کی فراوانی کی ہوں اور کبھی کنگال کر کے بھی آزمایا جاتا ہے چاہے علم و شعور کی کمی اور کم علمی ہو چاہے،احساساتی و فکری تنزلی ہو، مال و زر کی تنگی ہو،جسکا جتنا ظرف ہو اتنا عطا کیا جاتا ہے۔ دینے اور لینے کے عمل کی اساس انسان کے دل میں چھپی اسکی نیت ہوتی ہے جسکے پلڑے میں انسان کے ظرف کے پیمانوں کو تولا جاتا ہے نیتوں کی پرکھ ہوتی ہے اور پھر خطا اور عطا کا تعیین کیا جاتا ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ انسان سرا سر خسارے میں ہے نیتوں میں کھوٹ اور فتور رکھ کر صرف اپنے آپ کو اور اپنی ذات کو افضل و اعلیٰ جاننے والا انسان محض خود کواول بر تر رکھنے کا خو ا ہش مند ہے ،اپنی صفات کو اجاگر کرنے میں مصروفِ عمل اپنی ’’میں‘‘ اپنی انا کو پروان چڑھانے میں لگا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں کہیں دین کا سہارا لیا جاتا ہے تو کہیں احادیث کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔اپنے مطلب اپنے مفاد میں خود کو درست ثابت کرنے کے لئے قرانی آیات کا سہارا لیا جاتا ہے صرف اس چند روزہ زندگی کی خاطر رشتوں کو داؤ پر لگایا جاتا ہے ،تعلقات کو بگاڑا اور سنوارا جاتا ہے ،اس بات سے بے خبر ہو کر کے کل رب کی بارگاہ میں اپنے ہر عمل کا جواب دے بھی ہونا ہے
لمحاتی فائدے کے لئے ازلی خسارے کے سودے کے جاتے ہیں اور زندگی کی بساط پر خود کو اپنے اعمال کو داؤ پر لگا دیا جاتا ہے ،تبھی تو قرآن پاک میں واضح کہا گیا ہے کے زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے اور بیشک اس زمانے میں انسان اپنی بد اعمالیوں منافقتوں اور زہریلی سیاستوں کے ہاتھوں خسارے میں ہے ۔رب تعالیٰ ہم سبکو ایک دوسرے کے شر سے محفوظ فرماتے ہوئے نیک سچے اور کھرے اعمال کرنے کی سچی توفیق نصیب فرما ئیں( آمین)
روح پر‘‘میں’’کا داغ آ جاتا ہے
جب دلوں میں دماغ آ جاتا ہے

Short URL: http://tinyurl.com/y8kl7ck3
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *