میرا پاکستان!۔۔۔۔ تحریر: ثناء ناز

Sana Naaz
Print Friendly, PDF & Email

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خیال جسے خود اپنی حالت بدلنے کا
کہنے کو تو 14 اگست آزادی کا دن ہے مگر اب کے برس میرے وطن میں نہ جانے یہ کیسی آزادی آئی۔نہ جانے یہ کیسی درد کی گھٹا چلی جس نے قائد کے فرمان ایمان،اتحاد اور تنظیم کا تختہ پلٹ ڈالا۔ہونا تو یوں چائیے تھا آزادی کے اس پرمسرت موقع پرہمیں ایک نیا قدم دھرنا چاہئے تھا۔ محبتوں کی بنیاد رکھنی چاہئے تھی ایک عہد خود سے کرنا چا ہئے تھا کہ ہم قائد کے خواب کو پایہ تکمیل تک ضرور پہنچائیں گے۔ بنا کسی امتیاز بنا کسی غرض کے صرف اور صرف پاکستانی بنکر پوری دنیا کو یہ باور کروا دیں گے کہ ہم ایک متحد قوم ہیں۔ہمیں ایک بار تو یہ سوچ لینا چاہئے تھا کہ ہمارے متحد ہونے پر ہی ہماری آنے والی نسلیں بنا کسی انتشار کے اس ملک میں مکمل طور پر محفوظ رہ سکیں گے۔مگر نہ جانے کیوں اب کے برس میرے ملک میں آزادی کا ایسا موسم آیا جس نے پوری قوم کو یرغمال بنا ڈالا۔۔کہنے کو تو اصل لیڈر وہ ہوتا ہے جو پوری قوم کو ساتھ لیکر چلتا ہے خدا جانے یہ وقتی انا تھی یا پھر کو ئی سیاسیی معاہدہ۔کہ میرے ملک کے حکمران میرے ہی ہم وطنوں میں تصادم پھیلا کر انہیں گمراہ کرتے چلے گئے۔اور ہماری آنکھوں پر بھی گمراہی کی ایسی پٹی بندھی کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو موت کی گھاٹ اتارتے رہے۔اپنے ہی ملک کے قیمتی اثاثوں کو نقصان پہنچا کر جمہوریت کا حق وصول کرتے رہے۔ اب کی بار بھی نہ کوئی میدان میں اترا نہ کسی نے اس عمل پر قابو پانے کی کوشش کی اور ہمیشہ کی طرح پیسا گیا غریب عوام کو ،بھینٹ چرھائی گئی تو حالات کے مارے ہوئے مجبور لوگوں کی۔ اور پھر جس ملک میں قانون ہی محفوظ نہ ہو ملک کی خاطر ہر پل جان کا نظرانہ پیش کرنے والے جوان ہی عوام کے ہاتھوں پٹنے لگیں اس ملک کی عوام کو انقلاب کے خواب کوئی حکمران کیسے دکھا سکتا ہے۔ خیر ایک تلخ مگر کڑوی حقیقت، حکومتیں بدلتی رہیں گی حکمران آتے اور جاتے رہیں گے مگر میرے ملک کے باسیوں تمہارا نیا پاکستان بننے کا خواب یوں ہی ادھورا رہے گا اور تب تک ادھورا رہے گا جب تک تم اپنی اصلاح خود نہیں کرو گے ذرا سوچو تو کیا ملک و قو م کی حفاظت کی ذمہ داری کیا تم پر عائد نہیں ہے۔ تم قائد تلاشتے پھرتے ہو دعاؤں میں اک نیا قائد اک نیا رہنما مانگتے ہو۔ ذرا اپنے اندر جھانک کر دیکھو کیا تم میں وہ قائد موجود نہیں ہے۔ کیا تم اپنی رہنمائی خود نہیں کر سکتے۔ تم جو چاہو تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا تم قائد کے فرمان پر عمل کرو تم اللہ اور اس کے نبی کے بتائے گئے اصولوں پر چلو، تم متحد ہو کر تو دیکھو تو میں یہ دعوے سے کہہ سکتی ہوں ہمیں نیا پاکستان بنانے کے لئے کسی د ھرنے یا اپنے ہاتھوں کو اپنی ہی قوم کے خون سے رنگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔۔۔اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو (آمین)۔
Short URL: http://tinyurl.com/zmdfr5h
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *