مٹی کھانے کی عادت۔۔۔۔ تحریر: کامران لاکھا، جام پور

Kamran Lakha
Print Friendly, PDF & Email

میرابھتیجا اور بھتیجی دونوں کی بلاناغہ سروس ہوتی ہے ٹیونگ کے بعد دونوں گلا پھاڑ کر روتے ہیں اور ایسا روناروتے ہیں کہ روناجائے ہمت والے اس قدر متواتر فل وولیم سے روتے چلے جاتے ہیں رونے کا مقابلہ یوں کرتے ہیں جیسے دومرغ بانگ دینے کا ایک لمہے کیلئے اگلا گیئرلگانے کے لئے گلا صاف کر نے کے لئے جب خاموش ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہیدنیا میں امن کا بول بالا ہوگیا ہے لیکن اگلے ہی لمحے ان میں سے کسی ایک کی چنگھاڑپر یہ لگنا یہ جا وہ جا ان کی ٹھکائی مٹی کھانے پر ہوتی ہے تین تین چار چار دانت منہ میں لئے وہ نظربچاکر کونوں کھدروں میں گھس جاتے ہیں اور کافی دیرکی غیر معمولی خاموشی سب کو خبر دے دیتی بنا دیکھے پتہ چل جاتا کہ مٹی ،چونا ،سیمنٹ کھایا جا رہا ہے دیواریں چاٹی جارہی ہیں چلیں مٹی کھانے تک بات ہوتو انہیں محب وطن سمجھ کر نظر انداز کیا جا سکتا مگر اس چونا ،سیمنٹ اور دیواروں سے انسیت کا کیا جوازپیش کیا جائے ۱اس ملک میں رہنے والوں نے اس ملک سے کمانا اور کھانا مگر یہ کمانا محنت جائز زرئع اور حلال طریقے سے ہو تو پاکستان چم چم کرے تاہم ملک کوکھانے والے کرپشن کی داستانیں رقم کرنے والے یقینابچپن کی عادت آج تک نبھارہے انہیں مٹی کھانے کی ایسی لت پڑچکی ہے کہ وہ ضمیر کو بے بسی کی موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں اور منوں مٹی تلے دفنا چکے یہ کرپٹ پہلے پہل جب اناڑی ہوتے تو آنکھ بچا کر ، دیکھ بھال کر مٹی کھاتے مگر جوں جوں بڑے ہوتے جا رہے طریقہ واردات بدلتا جاتا اور جب بہت بڑے ہوجاتے تو پھر وہ سامنے سامنے مٹی کھاتے کوئی صاحب بصیرت صرف زبان سے ہی منع کر نے کی جرات ڈالے تو منع کر نے والے کو یا تو مسکرا کر پیش کش کر دیتے یا پھرڈراتے دھمکاتے ہیروئن جیسے نشے کا عادی کیا جا نے ملک کی مٹی کھانے کا نشہ کیا ہوتا ہے چرس،ہیروئن وغیرہ کا نشہ کرنے والوں کی محفوظ پناہ گا ہیں قبرستان خستہ حال عمارتیں خالی یا کوڑا کر کٹ سے بھر ے پلاٹ ویران جگہیں ہوتی مگر ملک کو کھا نے والے نشیؤں کے متعلق بتاتا چلوں یہ لوگ نشے کی بڑی مودار حاصل کرکے دیگر ممالک کا رخ کر کے یا پھر وہاں سے خرگوش کی مانند اندر ہی اندر سوراخ کھود کر رستہ بنالیتے جو ج ماجوج کی نسل سے تعلق رکھنے والے یہ نشئی ملک کے درودیوار چاٹتیجا رہے اور پیٹتے جارہے ہیں پیٹتے تب ہیں جب قومی خزانہ خالی ہوجاتا اور ان کا نشہ ٹوٹنے لگتا گیس ،بجلی ،پانی ہر چیز چوری ہورہی ہے میں تو بہت کم ظرف ہوں ہدایت کی دعا نہیں نکلتی میرے منہ سے جی چاہتا گیس چوری کرنے والے کو جل کر بجلی چرانے والے کرنٹ سے اور پانی چوری کر نے والے ڈوب کر مر جائیں میں تو کہتا حلف برداری کی تقریب سے قبل سب کو قومی خزانے سے مصر کا دورہ کوایا جائے تاکہ وہاں وہ مرے خدافرعون کی ممی کی زیارت کر سکیں کیا پتہ مٹی کھانے کی عادت کو خیرناد کہہ دیں یا ایسے ادارے سے بازآجائیں دوسراکھرامشورہ جس کے نتائج سو فیصد ملک وقوم کے حق میں ہو ں گے کہ انکی ٹیونگ کی جائے آپ میں سب جانتے ہیں کالی بھیڑوں کی تعداد کس قدر ذیادہ ہے مگر کچھ بھی نا ممکن نہیں اگر ٹھان لی جائے اور جاتے جاتے سنیں کان ادھر کریں ایک بات بتانی ہے اب بھی وقت یے آپ مٹی کھانا چھوڑ دیں جن کیڑوں کو پالنے کے لیے آپ اس ملک کی درودیوار کو کھوکھلاکررہے ہیں جانتے بوجھتے اس میں رینے والوں کی زندگیوں کو غیر محفوظ بنائے جارہے ہیں ایک دن انہی کیڑوں کے ہاتھوں آپ کی موت واضع ہوجائے گی اللہ پاک ہمیں اپنے اور دوسروں کے شر سے محفوظ فرمائیں۔ آمین

Short URL: http://tinyurl.com/he62tzv
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *