مُشدی لنگی، کھدر، لاچہ کی دم توڑتی صنعت۔۔۔۔ ناصر عباس ناصر

Nasir Abbas Nasir
Print Friendly, PDF & Email

lacha 1

ماڑی شہر، ضلع میانوالی کا انتہائی قدیم اور تاریخی گاؤں ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل ماڑی میں ہندؤں کی اکثریت آباد تھی۔ اسی لئے یہاں کے ہر قسم کے کاروبار پر ہندو قابض تھے۔ ماڑی چونکہ دریائے سند ھ کے کنارے آباد ہے۔ برطانیہ دور میں جب دریائی راستے استعمال کئے جاتے، تو ماڑی شہرکو ضلع میانوالی میں خرید و فروخت ،کاروباری ،تجارتی(دریائی ) آمد ورفت کے لحاظ سے نمایاں منفرد اہمیت حاصل تھی،اُس دور میں ضلع کی سب سے بڑی کاروباری ،تجارتی منڈی ماڑی شہر دریائے سندھ کے کنارے لگائی جاتی تھی ،جہاں پر خشک میوہ جات ،اشیائے خوردونوش،لکڑیاں اور تمام تر تجارتی و کاروباری سامان دریائی راستے بڑی بڑی کشتیوں اور بحری جہازوں کے ذریعے راولپنڈی ،اٹک ، ٹانک ، ڈی آئی خان اور دیگر مشہور شہروں سے یہاں لاکر فروخت۔۔۔۔اور پھر یہاں سے سامان ضلع میانوالی کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر اضلاع ، شہروں کو سپلائی کیا جاتا تھا۔ماڑی شہرکبھی معیشت میں اضافہ کر نے والا گاؤں تھا، سڑکوں کی تعمیر و استعمال جیسے ہی ٹرانسپورٹ نے ترقی کا عمل شروع کیا ،دریائی راستوں کے استعمال میں نمایاں کمی کے اثرات مرتب ہو نا شروع ہوئے ویسے ہی یہ گاؤں اپنی کاروباری ، تجارتی اہمیت سے محروم ہو تا چلا گیاآج کاروباری اور تجارتی لحاظ سے ماڑی شہر کی اہمیت صفر ہے۔۔۔۔ ماضی میں ماڑی شہرکو ُ مشدی لنگی ، کھدر اور لاچہ کی صنعت وپیداوار کے حوالے ملک بھر میں نمایاں حیثیت حاصل تھی ۔یہاں کی صنعت اپنی پہچان آپ تھی۔ماڑی شہر کے ہر گھر میں کاریگر برسرپیکار نظر آتے تھے ،کوئی چرخہ کات رہا ہے، تو کوئی تاناتان رہا ہے ،کوئی رنگ سازی کاکام سرانجام دے رہا ہے تو کوئی اسٹیپل،سوتر،دھاگوں کی گنڈائی میں مصروف عمل ہے،کوئی ہینڈ لوم ، (کھڈی) پہ لنگی ،کھدر، لاچہ تیار کر رہا ہے تو کوئی تیار شدہ مال فروخت کر نے سہوکاروں، سوداگروں کا رخ کر رہا ہے،ہر طر ف محنت ، مزدوری ،چہل پہل ، رونق ہی رونق نظر آتی تھی۔۔
lach 2
مُشدی لنگی جو کہ انتہائی باریکی ،مہارت کا کام ہے ،ماضی میں مُشدی لنگی کی خاصی اہمیت تھی اُس وقت مشینری و آلات نہ ہو نے کی وجہ سے اکثر کاریگر ہینڈلوم اور کچھ ماہر کاریگر اپنے ہاتھوں کے کمالات سے حیر ت انگیز انداز میں مُشدی لنگی تیار کر تے۔یہ کام بھرپور مشقت طلب تھا،5گز کی مُشدی لنگی تیار کر تے کرتے کاریگر کوکئی دن محنت کرنا پڑتی ۔یہاں کا تیار شدہ مال پشاور، کو ئٹہ کراچی ،لاہور کے ساتھ ساتھ افغانستان کے شہر کابل کو سپلائی کیا جاتا تھا۔۔بزرگ کاریگروں کے بقول مُشدی لنگی خریدنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں، چونکہُ مشدی لنگی خاصی مہنگی تیار ہو تی ہے ۔اس لئے صاحب توفیق لوگ( خان ،وڈھیرے ،جاگیر داروغیرہ ) اس کے خریدار ہو ا کر تے تھے۔ یہ نہ صرف بے حد مقبول تھی بلکہ ُ مشدی لنگی سرپر باندھنے کو عزت کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔ مگر اس جدید ترین دور اور نئی نسل نے کاریگری کے اہم ، منفرد شہکارُ مشدی لنگی کونظر انداز کر دیا ہے۔۔اس کے باوجود آج بھیُ مشدی لنگی خوشی ،غمی ،خاص اجتماعات، تقریبات ،انتہائی اہم، نامور شخصیات کو قوم قبیلہ کی طرف سے رسم و رواج کے مطابق خاص عزت کے زمرے بندھوائی جاتی ہے۔۔عام اور سادہ لنگی جس کا استعمال ہر خاص وعام کیا کرتا تھا ۔ اس لنگی کی لمبائی 6گزچوڑائی ڈیڑھ گز ہو ا کر تی تھی ،اس کو بھی کاریگر باریکی اور انتہائی محنت سے تیار کر تے تھے۔سر پہُ مشدی،زیب تن ململ کا کُرتا تہمدکے لئے لنگی ایک معتبر شخصیت کی علامت تھی۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ لنگی کی صنعت نے بھی دم توڑ دیا ہے۔۔ کھدر کا کپڑا ماضی کی طرح آج بھی مشہور و مقبول ہے،کھدر خالص سوتی دھاگے کی مرہونِ منت ہو تا ہے سابقہ ادوار میں چونکہ ریشمی اور دیگر کپڑ ے کی صنعت نہ ہو نے کے مترادف تھی اس لئے کھدر کے کپڑے کا رواج عام تھا۔کھدر ایک ایسا کپڑا ہے جو موسم سرما،گرما ہر موسم میں زیب تن کیا جا سکتا ہے کاریگروں کے بقول خواتین جو چر خہ کات کر کھدر کے لئے دھاگہ تیار کر تی ہیں اس سے معیاری کھدر تیارہو تا ہے ،لمبائی ساڑھے سات میٹر اورچوڑائی تقریباََ ایک گزسے کھدر کا مکمل سوٹ تیار کیا جاتا ہے۔ غلام علی نامی بزرگ کاریگر (جن کا انتقال 2000ء میں ہوا اس وقت اُن کی عمر100سے سال زائد تھی ) وہ کھدر کپڑا بنانے کے ماہر تھے جب تک نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان (سابق گورنر آف پاکستان ) زندہ رہے غلام علی کے ہاتھ سے تیار کیا ہوا کپڑا اور کھدر زیب تن کیا کرتے تھے۔اس دور جدید کے باوجود ماڑی شہر میں کاریگر آج بھی ہینڈلوم پر کھدر تیار کرتے ہیں ایک سوٹ 2دن میں تیار ہو تا ہے جس پر 5سے6سو روپے خرچ آتاہے جبکہ 1000) (ایک ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔۔۔1960کی دہائی ضلع میانوالی میں لاچہ کے پہلے کاریگر میاں خدابخش نے خصوصی کاریگری سے جب پہلا لاچہ تیار کیا تو اُس لاچے کو دیکھنے کے لئے لوگ (لاچہ کے شوقین) دور دور سے ماڑی شہر آئے۔۔ یہ میانوالی کی تاریخ میں پہلا لاچہ تھا ۔کمال ،معیار ،خصوصی کاریگری اورخوبصورتی کی وجہ سے لاچہ کی شہرت میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا آج میاں صاحب کا لاچہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی خاص شہرت واہمیت رکھتا ہے ۔کاریگروں کے اُستاد میاں خدا بخش کا کہنا ہے کہ ماڑی میں لاچہ بنانے والے تمام لوگ میرے شاگرد ضرور ہیں مگر جس طرح میں چاہتا ہوں وہ میرے معیار کے مطابق لاچہ تیار نہیں کررہے،فنکار، کاریگر،ہنرمندکو پیسوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے معیار اور شہکار پہ بھرپور توجہ دینی چاہیے ۔ میاں خدابخش وہ واحد کاریگر ہیں جو 70سال عمر کے باوجود آج بھی لاچے تیار کر رہے ہیں اور لاچہ کے شوقین کی دیرینہ خواہش ہو تی ہے کہ وہ میاں خد ابخش کے ہاتھ کا بنایا ہو الاچہ خریدے ۔ایک لاچے کے حصول کے لئے لاچے کے خریدار کو اپنے نمبر کے مطابق دو سے تین مہینے صبر اور انتظار کر نا پڑتا ہے ۔ لاچے مختلف رنگوں (کالا، سفید ، بوزکی وغیرہ)میں بنائے جاتے ہیں۔لاچہ خریدار کے آرڈر اور پسند کے مطابق تیار کیا جاتاہے۔ لاچہ کے لئے دھاگہ دویگر سامان کی خریداری کے لئے کاریگروں کوانتہائی دور درازشہروں ملتان اور خوشاب کا سفر کرنا پڑتا ہے۔سفر ،دھاگہ ودیگرسامان کے خرچ کے ساتھ ساتھ ،رنگائی ،گنڈائی ، کاتائی وغیرہ کل ملا کے ایک لاچہ پر 7سے 9سو روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ 13سے 15سو روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔ لاچہ دوعلٰیحدہ ،علٰیحدہ حصوں میں بنایا جاتا ہے۔دونوں حصوں کو درمیان میں سلائی یا کڑھائی کر انے کے بعد ۔لاچہ کی کل لمبائی 3گز اور چوڑائی ڈیڑھ گز بن جاتی ہے اور ایک لاچہ 2دن میں مکمل تیار ہو جاتا ہے،ماڑی شہر کے ساتھ ساتھ لاچے جھنگ، خوشاب،ہڈالی،ملتان،اوکھلی مولا ،بندیال ، دائیوال ،ہموکہ (موجودہ نام )(حسن پور) ودیگر علاقوں میں بھی بنائے جا رہے ہیں۔۔انتہائی محنت ،مشقت ، اس ظالم مہنگائی کے باوجود بہت تھوڑی مزدور ی،کاریگروں کے حوصلے پست کرتی جارہی ہے۔حکمت عملی اور سرکاری سر پرستی نہ ہو نے کی وجہ سے مُشدی لنگی ،کھدر لاچہ کی اہم اور منفرد صنعت دم توڑ تی جارہی ہے کاریگروں کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال اسی طرح رہی تو ہم اس صنعت کا تمام تر سامان فروخت کر کے کاریگری ، اپنے ہنر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر نے پر مجبور ہو جائیں گے،جہاں تک ممکن تھا ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت اس صنعت کو رواں دواں رکھا،اب ہمارے حوصلے ہاتھ پاؤں جواب دے چکے ہیں۔علاوہ ازیں یہ وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے کہ حکومت کو اس اہم صنعت کے فروغ کے لئے موثر اورعملی اقدامات کر نے ہو ں گے ۔ہنرمندوں ، کاریگروں کے ہنر،کمالات سے بھرپور استفادہ کر نا ہو گا،اگر سرکار ہنرمندوں ، کاریگروں کو بھرپور سپورٹ کرے مشینری و آلات کی فراہم کے ساتھ ساتھ بلاسود قرضے دے تو ہنرمند، کاریگر نہ صرف اپنے ،خاندانوں کا مستقبل روشن کر سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں اضافے کی ضمانت بھی دے سکتے ہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/j5b4cs6
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *