موسم حج کا روحانی منظر۔۔۔۔ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی

Print Friendly, PDF & Email

بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اسلامی کیلنڈر میں حج کے مہینوں کا ایک منفرد مقام و اہتمام ہے ۔حج رکن خامس ہے قرآن و سنت میں اس کے خصوصی احکام اور ان پر انعام لینے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ حج اجتماعی عبادت ہے جو معین اوقات میں مخصوص مقامات پر ہی ہو سکتی ہے ۔حج محبت الہی اور عشق رسول ﷺ کے چمن کیلئے ابر کرم اور عہد بہار ہے ، حج اطمینان قلب اور تسکین روح کے لئے گراں قدر تحفہ ہے ، حج توبہ کا موقعہ ، مغفرت کا قرینہ ،بخشش کی رت ، عبادت کا سیزن اور نجات کا موسم ہے اس موسم کا تعلق آب و ہوا سے نہیں بلکہ مزدلفہ و منٰی سے ہے،یہ موسم بہار اور خزاں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان اور اعتقاد کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، یہ موسم سردی اور گرمی سے عبارت نہیں بلکہ احرام اور رمی سے عبارت کا نام ہے ،یہ لبیک کی صداؤں رحمت کی گھٹاؤں اورمقبول دعاؤں کا موسم ہے ، اللہ تعالی سے ملاقات جنت کی سوغات، اشکوں کی برسات اور عرفات کا موسم ہے ، بیت اللہ اور در رسول ﷺ سے ہجر و فراق ہر مسلمان کو تڑپاتا ہے ، دنیا کا حسین اور رنگین منظر دیکھ لینے کے باوجود انہیں دیکھے بغیر روح تشنگی محسوس کرتی ہے چنانچہ یہاں کی حاضری کی آرزو ہو ش سنبھالتے ہی بندے کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آرزو جوان سے جوان ہوتی چلی جاتی ہے پھر زندگی گھٹتی جاتی ہے مگر یہ آرزو بڑھتی جاتی ہے ۔
حرمین شریفین کی سرزمین ایسی سر زمین ہے جہاں عشاق سر کے بل چلنے کے لئے تڑپتے رہتے ہیں ۔ کیوں نہ ہو ہر مسلمان یہ چاہتا ہے میرے دل کی کھیتی آج بھی جس چشمہ صافی سے سیراب ہو رہی ہے میں ایک بار جا کے اس کی زیارت تو کروں ، جس آفتاب کی روشنی آج بھی میرے دل کے آنگن میں ہے جس افق سے وہ طلوع ہوا اس افق کا دیدار تو کروں ، جن فضاؤں نے حضرت محمد ﷺ کی مقدس و معطر سانسیں ذخیرہ کر رکھی ہیں میں بھی وہاں سانس لوں ، جن پہاڑوں پر رخ زیبا کے جلوے مرتسم ہیں میں ان سے ملاقات تو کروں ، جن سنگریزوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے قدموں کو چوما میں ان سے کچھ دیر سرگوشی تو کروں ۔ جن گذر گاہوں سے میرے محبوب ﷺ کبھی گذرے تھے میں اپنی سوچ کو کچھ دیر وہاں اعتکاف تو بٹھاؤں جن جن وادیوں سے ان کا گذر ہوا تھا وہاں جا کر آپ کی خوشبو تو سونگھوں ۔
بندہ سالہاسال سے موسم حج کا مشاہدہ کر رہا ہے مجھے حرمین شریفین کی محبت کے متوالوں کے جذباتِ عقیدت اور احساسات ارادت کے سمندر کا کوئی کنارہ نظر نہیں آیا ۔ یہاں بچے ، بوڑھے ،مرد ،عورت ،گورے کالے ،عربی عجمی ، امیر و غریب اپنے اپنے انداز رکھتے ہیں ۔ در کعبہ اور مواجہہ شریف کے سامنے سیدھا سادھا اور ان پڑھ آدمی جس انداز سے اپنی اپنی عرض پیش کرتے ہیں میں سن کر اور دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہاں کہاں سے کرنیں اٹھتی ہیں اور آفتاب سے آ کر چمٹ جاتی ہیں ۔
گذشتہ سے پیوستہ سال حج کے موقع پرسعودی اخبار عکاظ میں یہ خبر چھپی کہ تاجکستان کے دو حاجی جن کی عمریں ساٹھ سال سے زائد ہیں پیدل چلتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر چھ ماہ سے زائد وقت میں طے کیا وہ افغانستان سے ہوتے ہوئے ایران پہنچے وہاں سے متحدہ عرب امارات اور پھر وہاں سے مدینہ شریف پہنچے ۔انہوں نے دس افراد کے قافلے میں یہ سفر شروع کیا تھا مگر آٹھ راستے میں ہمت ہار گئے اور دو خوش نصیب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔گذشتہ سال کشمیر کا مستانہ سائیکل پر مدینہ شریف پہنچا پھر اس نے فریضہ حج سر انجام دیا ۔
حج امت مسلمہ کی اجتماعیت کا آئینہ دار ہے فرزندان تو حید و رسالت کا یہ سالانہ انٹرنیشنل اجتماع مسلمانوں میں جذبہ اخوت پیدا کرتا ہے کائنات کے کونے کونے میں بسنے والی انسانی آبادیوں میں کھلنے والے اسلام کے پھول ،اپنے جدا جدا جغرافیہ و ماحول ،رنگ و نسل خدوخال ،طبائع و مزاج اور چال ڈھال کے ہمراہ ایک اللہ اور ایک رسول ﷺ کا کلمہ الاپتے ہوئے جب کعبہ کے گرد گلدستہ بناتے ہیں تو ماحول میں عجیب رنگ بھر جاتا ہے طاغوت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے اور سازشوں کے جال میں گھرے ہوئے مسلمانوں کی مایوسی دور ہو تی ہے 
حج کا اجتماع خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ختم نبوت کے فیض ، قرآن مجید کے اعجاز اور اسلام کے جامع دین ہونے کا بین ثبوت ہے ۔ عرفات کے میدان میں کرہ ارض پہ بسنے والے انسانوں کا جس انداز کا نمائندہ اجتماع ہوتا ہے دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی طاقت اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی ۔ اس سال بھی عرفات کی وادی میں ۱۸۰ ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً تین ملین انسان ۸۰ زبانوں میں اسلام کی صداقت کے نعرے لگا رہے تھے ۔ ایسی انسانی بستی آباد کرنا کسی کے بس میں نہیں ، ان انسانوں کے خوف خدا اور شوق بخشش میں دھڑکتے دلوں ،چیختے لہجوں اور ٹپکتے آنسووں کی مثال کون پیش کر سکتا ہے ۔میں نے عرفات میں پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے لوگوں کو دیکھا ،لگ رہا تھا کہ اشکوں کا سیل رواں معصیت کے داغ مٹا دے گا ، لوگوں میں رنگ و نسل ،عمر و جنس ،سٹیٹس اور مرتبہ کا تو تفاوت تھا مگر مانگ سب کی ایک تھی ۔ 
حج ایک عبادت بھی ہے اور ایک روحانی انقلاب اور حضوری کا تربیتی کورس بھی ہے ، حج اول سے آخر تک تبدیلی کا نام ہے مسکن اور محلہ کی تبدیلی ،ملک کی تبدیلی اور لباس اور عادات کی تبدیلی ، معمولات اور حرکات و سکنات کی تبدیلی ، ایک میدان سے دوسرے میدان کی طرف تبدیلی ، اپنے مالوف گھر ،شہر اور وطن کو چھوڑا۔ اور پھر سلے ہوئے کپڑے پہننے کاعادی تھا وہ چھوڑ کر احرام باندھ لیا ، سر ڈھانپنے کا طریقہ اپنایا ہوا تھا وہ چھوڑ دیا اسے ایسا ماحول فراہم کر دیا گیا ہے جدھر بھی سوچے تو نتیجہ یاد خدا کی صورت میں نکلے ۔ جب اسے اچانک خیال آئے کہاں ہے میرا گھر ، میں منی کے خیموں میں کیوں ہوں ؟ کہاں ہے میرا بیڈ روم ؟ میں مزدلفہ میں کھلے آسمان کے نیچے سڑک پر کیوں لیٹ گیا ہوں ؟ ،کہاں ہے میرا عمامہ ؟ میں ننگے سر کیوں ہوں ؟ بدن میلا کچیلا کیوں ہے ؟ ،میری خوشبوکہاں ہے ؟ میں بڑھے بال کیوں نہیں کاٹ سکتا ؟ ، عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے مغرب کا وقت گذر رہا ہے میں نماز کیوں نہیں پڑھ سکتا ؟ سوچ پھر جا کے رکتی ہے کہ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ
حج میں قدم قدم پرجن امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں صبر ،سفر ،انتظار اور قطار ہے ۔آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی جبکہ حج کے VIP پیکج متعارف ہو چکے ہیں سڑکوں کا جال ،ٹرانسپورٹ کی بہتات، مشاعر ٹرین اور پھر ہوٹلنگ کی سہولیات کے باوجود بھی حج مشقت اور صبر کا نام ہے اور حج حج ہی ہے اب اگرچہ اونٹنیوں کی جگہ لگثرری گاڑیوں اور ٹوڈیوں نے لے لی ہے لیکن ٹریفک کی کئی گھنٹوں تک بلاکج(Blockage) ہی سے عصر حاضر کا برق رفتار انسان چیونٹی کی رفتار سے بھی سست ہو جاتا ہے ۔ اسی لئے حدیث شریف میں حج کو جہاد کہا گیا چنانچہ اردو میں حج اور جہاد کی تعبیر ایک ہے جس کے ایک فعل میں کئی افعال آجاتے ہیں، نماز پڑھی جاتی ہے ، روزہ رکھا جاتا ہے ، زکوۃ دی جاتی ہے مگر جہاد کی طرح حج کیا جاتا ہے ۔ زمان و مکان کے ساتھ حج کی خصوصیت انسان کو یوں خاص کر دیتی ہے ساری زندگی پنجگانہ نماز تو کیا تہجد پڑھنے والے کے نام کے ساتھ نمازی ، ہر سال زکوۃ دینے والے کے نام کے ساتھ مزکی اور کثیر الصیام انسان کے نام کے ساتھ صائم کا سابقہ نہیں لگتا ۔ لیکن ایک بار حج کرنے والا ابھی اپنے ملک سے احرام باندھتا ہے لوگ اس کو حاجی کہنا شروع کر دیتے ہیں ۔
نماز میں تکبیر تحریمہ سے جیسے انسان اپنے ماحول سے منقطع ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ۔ احرام بھی حج کی ایک قسم کی تکبیر تحریمہ ہے جس میں انسان کی توجہ ہر طرف سے ہٹا کر اللہ کے ساتھ لو لگانے کا سامان کیا گیا ہے ۔حالت روزہ میں نہ کھانا،نہ پینابندے کو حقیقت میں اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہے نفس جب خواہشات سے مجرد ہوتا ہے تو اس میں نور پیدا ہوتا ہے ،حج میں گھراور وطن سے دوری ، احباب و اقارب سے دوری اور احرام کی پابندیاں بھی بندے میں یکسوئی پیدا کرنے کے لئے ہیں مگر آج موبائل کے کثرت سے استعمال نے حج کی روحانی اقدار میں کافی بگاڑ پیدا کر دیا ہے ۔مجھے تو منٰی ، عرفات ، مزدلفہ میں اس وقت بہت سرور آتا ہے جب مجھے پیدل چلنا پڑے اور ارد گرد کے ماحول میں مجھے کوئی جانتا نہ ہو ۔
حج کے دوران کیمرے کا استعمال چند سالوں سے بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔گذشتہ سال تو اس کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا ہے کہیں انسان قبلے کو بھول کر کیمرے میں ہی مگن نہ ہو جائے میں نے ستر ،اسی سالہ بوڑھی عورتوں کو بھی موبائل کیمرے سے ایک دوسرے کی تصویریں بناتے دیکھا ، حالت طواف جس میں مڑ کر کعبہ کو دیکھنا بھی جائز نہیں ۔بعض لوگوں کو حالت طواف میں پیچھے منہ کرتے اپنی تصویر بناتے یا بنواتے دیکھا ، مواجہ شریف جہاں در رسول ﷺ کی حاضری کے موقع پر مواجہ شریف کے سامنے جہاں انسا ن نگاہ حبیب ﷺ کے زیر سایہ گرد و پیش بلکہ اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہے وہاں کثرت سے میں نے ایسے لوگ دیکھے جو موبائل اور ٹیبلٹ سے تصویریں بنانے یا بنوانے میں مصروف تھے۔
بلکہ پس منظر میں روضہ رسول کو لانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں حالانکہ عباسی حکمران ابو جعفر منصور نے حضرت امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت میں قبلہ کی طرف پشت کرکے اور در رسول ﷺ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں یا رسول اکرم ﷺ کی طرف پشت کر کے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں تو آپ نے فرمایا کہ تم اس ذات سے اپنا چہرہ کیوں پھیرتے ہو ؟ جو تمہارا ہی وسیلہ نہیں بلکہ تمھارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی وسیلہ ہیں چنانچہ حضور اکرم ﷺ کی طرف منہ کر کے دعا مانگو۔ 
حج میں ہر سال بڑے بڑے عجیب و غریب ، حیرت انگیز ، عبرت ناک اور رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کچھ لوگوں کی داستاں بڑی دلدوز اور قابل رحم ہوتی ہے اور کچھ لوگوں کا انداز بڑا باعث رشک ہوتا ہے ۔میں اس انسان کو بڑا عظیم سمجھتا ہوں جو اپنی بوڑھی والدہ کی وہیل چیئر کو چلا رہا ہو یا اپنے لاغر باپ کو کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہو اور اسے کعبہ کے گرد چکر لگوا رہا ہو یا منٰی ، عرفات کی راہوں میں موجود ہو ۔
حج میں جہاں بدن کے تھکنے سے گناہ جھڑتے ہیں وہاں عہد رفتہ میں باربار جھانکنے سے لطف بڑھتا ہے ۔ حج مخصوص کیفیات کا نام ہے جب تک وہ کیفیات حاجی اپنے اوپر طاری نہ کرے حقیقی مقاصد سے عاری رہتا ہے ۔ حج حسین یادوں کا ایک سلیبس ہی نہیں بلکہ صدیوں کی روحانی انجمنوں کی ایک کائنات بھی ہے ،کتنے انبیاء کرام علیہم السلام مقربین اور صالحین کی جماعتوں نے یہاں پڑاؤ ڈالا ہمارے آقا ﷺنے تو صرف چشم تصور سے ہی نہیں بلکہ حقیقی آنکھ سے دیکھ کر فرمایا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گذر رہے ہیں اور ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سواری ہے 
حاجی کعبہ دیکھے تو جلال و جمال خداوندی کا تصور، مقام ابراہیم دیکھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے کعبہ کو تعمیر کرنے کا تصور ، حجر اسود کودیکھے تورسول اللہ ﷺ کے اسے نصب کرنے والے ہاتھوں کا تصور ، طواف کرے تو رسول اللہ ﷺ اور جماعت صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا کندھے ہلا کر کفار مکہ کے دل دھلانے کا تصور صفا مروہ کو دیکھتے ہی حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ان مضطرب لمحات کا تصور ، زمزم کا گھونٹ بھرتے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ننھی ننھی ایڑیوں کا تصور ، منٰی میں رسول اللہ کی چھری کی طرف لپکتے اونٹوں کا تصور ،کیا پر نور زمانہ تھا جب منٰی میں جمرہ عقبہ سے۵۰۰ میٹر کے فاصلے پر مسجد بیعت کے مقام پرمدینہ شریف سے آئے ہوئے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ، کیا حقیقت افروز لمحات تھے جب حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں جبل رحمت کی نچلی جانب مسجدصخرات کی جگہ قصواء اونٹنی پر کائنات کے رسول اعظم ﷺ قیامت تک کے انسانی ضابطوں کا متن ارشاد فرمارہے تھے ۔
حج کے موقع پر بیت اللہ کی زیارت اور مشاعر مقدسہ کی حاضری میں جہاں سرور و تسکین ہے وہاں مدینہ شریف کی حاضری بھی اس سفر کا خلاصہ ہے مدینہ منورہ دارالایمان ہی نہیں بلکہ ایمان بھی ہے ۔ 
سید المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اس مقام پر جلوہ گری کہ وجہ سے یہ سرزمین پوری کائنات میں منفرد ہے ،یہاں کے دن تو کیا راتوں میں بھی روشنی ہے ، یہاں کے پھول تو کیا کانٹوں میں بھی حسن ہے ، یہاں کے گلزاروں ہی میں نہیں بیابانوں اور ویرانوں میں بھی بہار رونق افروز ہے ۔ یہاں ماحول میں اپنے پن کا احساس اور فضاء میں مٹھاس ہے ، یہاں ہوائیں چلنے سے پہلے ادب و احترام کا قرینہ سیکھتی ہیں ،چاند کی چاندنی باوضو ہو کر اور سورج کی کرنیں سو بار غسل کر کے حاضر خدمت ہوتی ہیں مدینہ شریف تو مدینہ شریف ہے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز تو مطلقا عرب شریف کے بارے میں فرماتے ہیں :
تابِ مرآتِ سحر گرد بیابانِ عرب غازۂ روئے قمر دودِ چراغانِ عرب
مدینہ شریف میں صرف انسان ہی نہیں روزانہ ستر ہزار قدسی بھی حاضری کی سعادت پاتے ہیں ۔بانگ درا میں علامہ محمد اقبال شھر نبی ﷺ مدینہ منورہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا۔
وہ زمین ہے تو مگر اے خواب گاہ مصطفی ﷺ دید ہے کعبہ کو تیری حج اکبر سے سوا
خاتم ہستی میں تو تاباں ہے مانندِ نگیں اپنی عظمت کی ولادت گاہ ہے تیری زمین 
تجھ میں راحت اس شہنشاہ معظم کو ملی جس کے دامن میں اماں اقوام عالم کو ملی 
جب تلک باقی ہے تو دنیا میں باقی ہم بھی ہیں صبح ہے تو اس چمن میں گوہر شبنم بھی ہے 
دنیا کی کوئی بہار گنبد خضری پر جمی ہوئی نگاہ کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی اور دنیا کا کوئی حاتم طائی مدینہ شریف کے منگتے کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا کجکلاہی بھی یہاں کی گدائی پہ فخر کرتی ہے اور شام غریباں صبح وطن پہ شرف رکھتی ہے اس شہر میں جینے ہی کی نہیں بلکہ حالت ایمان میں مرنے کی بھی دعائیں مانگی جاتی ہیں کیوں نہ ہو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ شریف کی مشکلات پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے۔

1,249 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/zzegakl
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *