مخلص قیادت کی ضرورت ہے۔۔۔۔ تحریر: یاسر رفیق، راولپنڈی

Yasir Rafiq
Print Friendly, PDF & Email

پاکستان ایک آزاد ریاست ہے پاکستان کی قیادت اور عوام اپنا ہر جائز فیصلہ کرنے اور سوچنے میں خودمختارہیں لیکن پاکستان کی قیادت خودمختار نہیں ہے ایسا کیوں ہے کیونکہ پاکستان کی قیادت مخلص نہیں۔ مملکت خداداد پاکستان کو مخلص قیادت اور بانی پاکستان جیسے مخلص لیڈر کی ضرورت ہے۔کسی بھی قوم کو ترقی اور خوشحالی کی منزل تک لے جانے میں اس قوم کی قیادت کا اہم کردار ہوتا ہے۔اگر رہبر مخلص ،دیانتدار،ذہین،دوراندیش،بہادر اور وفادار ہو گا تووہ قوم کوتمام تر مشکلات کو عبور کر اکے اپنی منزل تک لے جائے گا قوم کے اندر پائی جانے والی کچھ کمزوریوں کو رہبر اپنی صلاحیتوں سے پورا کرتے ہیں۔کسی بھی قوم کے رہنماء4 کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی قوم کے مفادات کے لیے اپنی ذاتی پسند و ناپسند اور مفادات کو بالائے طاق میں رکھتے ہوئے فیصلے کرے بصورت دیگر وہ قوم راہوں میں ہی بھٹکتی رہے گی بدقسمتی سے پاکستانی قوم کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے جو ابھی تک اپنی منزل سے کوسوں دور ہے اس قوم کی صلاحیتوں پر کسی کو شک نہیں اس کے افراد باصلاحیت،ذہین،دیانتدار،بہادر اور وفادار ہیں ان کی قابلیت اور صلاحیت کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جا تا ہے یہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی مثال آپ ہیں اگر انہیں مواقع میسر ہوں تو یہ ناممکن کو ممکن بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگر قیام پاکستان سے لیکر اب تک اس قوم کو مناسب ماحول اور اچھے مواقع فراہم کیے جاتے تو بلا شبہ یہ قوم آج باقی اقوام کے لیے باعث تقلید ہوتی اور اس کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج دنیا بھر میں پاکستانیوں کی جو رسوائی ہے وہ انتہائی قابل رحم ہے کچھ غیروں کی سازش اور کچھ اپنوں کی غداری نے اس قوم کو منتشر کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم انقلاب کی باتیں کرتے ہیں ہم انصاف کی بات کرتیہیں لیکن انصاف اور اصول سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنے منشور اور ضابطہ میں پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کی بات کرتی ہیں مگر جب اقتدار سنبھالتی ہیں تو آزادی اور خود مختاری کا جنازہ نکال دیتی ہیں اور کوئی پوچھے تو بنی بنائی باتیں سنا دی جاتی ہیں۔ ایسا کرنا وطن سے مذاق کرنے کے مترادف ہے۔پاکستان کے شاعروں،ادیبوں،تجزیہ نگاروں ،کالم نویسوں ،دانشوروں،اساتذہ اور مخلص سیاستدانوں سمیت ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کی یہ بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی رہنمائی کریں اور نئے شروع ہونے والے آگ و خون کے کھیل سے اس قوم کو بچانے کی تدبیر کریں یہ پاکستانی قوم کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو باخبر رکھیں اور کسی بھی رہبر کی آواز پر بغیر سوچے سمجھے لبیک نہ کہیں اور کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے یا کسی کی بھی حمایت یا مخالفت میں نکلنے سے قبل اچھی طرح سوچ بچار کر لیں اب کی بار جذباتی فیصلے ان کے لیے اور ان کی نسلوں کے لیے ہمیشہ کے لیے تباہی کا سبب بن سکتے ہیں اگر قوم اپنا طرز عمل اور سوچ بدلے گی اور سرمایہ دار،جنونی،جذباتی اور غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے کام کرنے والے رہبروں پر عدام اعتماد کرے گی تواسے وفادار،بہادر اور مخلص قیادت ضرور دستیاب ہو گی ۔

Short URL: http://tinyurl.com/h8snqb4
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *