محترم اقبال بھائی کی آنکھوں کے نام

Print Friendly, PDF & Email

تحریر:ظفر اقبال ظفر
یوم تاسیس کوشش ویلیفر ٹرسٹ26فروری 2017 میری زندگی کے روحانی کیفیت کے انمول دنوں میں سے ایک یادگار دن تھا اسلام اور انسان کے خدمت گزار خادم عاجزی کاپہلو تھامے اپنی ڈیوٹی دے رہے تھے درد انسانیت نے جھنجوڈ دیااپنی زات سے باہر نکل کر دیکھا تو ساری دُکھی انسانیت مدد کی منتظر دیکھائی دے رہی تھی اللہ کیسا پردہ ہٹا ہے میری آنکھوں سے۔۔عاجزی میں ڈوبے انسانوں کی زبان سے خود کو ادنی کہتے ہوئے کان سُن تو رہے تھے مگر دیکھتی آنکھوں کو دل گواہی دے رہا تھاجس نے کمزور حاجت مند انسانوں کی داد رسی کی جس نے اپنے وجود کو اللہ اوررسول ﷺ کی رضا کے لیے وقف کر دیااُسے خدا بلند کر دیتا ہے اور یہ خود کو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو کچھ بھی حق ادا نہیں کیایہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کچھ بھی نا ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہیں یہ آغاز سفر کر چکے تھے ساری کیفیت عقل سے باہر ہوئی تو ایمان نے جواب دینے شروع کر دئیے وہ بھی بھلا انسان ہے جو اپنے انسانوں کا درد محسوس نہ کر سکے ساری پریشانیاں الجھنیں تو شروع ہی تب ہوتی ہیں جب انسان اپنی زات پہ خود غرضی کو لاگو کر لیتا ہے مٹی سے بنا مٹی میں مل جانے والا بندہ اپنی ہی زات کے لیے جیتا رہے توزندگی اور موت کے درمیان کے وقت کو بھی خاک ہی سمجھیں زندگی کی دنیاوی خواہشات پوری کرنے نے فیل کروا دیا۔اور اگر اپنی زات کو خدا کے توکل پہ چھوڑ کر دوسروں کے لیے راحتیں پیدا کرنے میں وقت گزارا تو اک اک لمہہ انمول ہے بلکہ سرکار دو جہاںﷺکی مسکراہٹیں بن جاتا ہے وہ آنکھیں جو کسی اندھے کی دنیا روشن کرنے کے نام کر دی گئیں جس دن موت کے بلاوے پہ بند ہوئیں اُسی پل میں زیارت رسول ﷺ سے منور ہو جائیں گی نیکیوں کی تکمیل کے لیے اقبال بھائی کا جنون بتا رہا تھاکہ وہ ہر صورت میں ختم ہو جانے والی زندگی کو ہمیشہ رہنے والی زندگی کو سنوارنے میں کتنے بے چین اور جلد باز تھے کہ میری زات سے فوری طور انسانیت کا درد مٹ جائے غربت میں جذبات کی سولی پہ لٹکے انسانوں کو پھولوں کی سیج پہ بیٹھا کر شکر ادا کرنے والی زندگی کے احساس میں پا کرجو سکون وہ حاصل کرنا چاہتے تھے اُس کی قیمت تودنیا کی کوئی چیزہو ہی نہیں سکتی تھی اُس کے نتیجے تو دنیا روحانیت میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے رابطے عطا کرتے ہیں اقبال بھائی آپ کی قربانیوں کو سلام۔کہ آپ نے اپنی آنکھوں کو عطیہ کرنے کی وصیت جاری کی وہ بھی اُس دور میں جس میں کوئی اپنے وجود کے کپڑے نہیں دیتا اپنے نے وجود کا حصہ ہی وقف کر دیاآپ کے اعلان کے لمہات میں میری کیفیت میرے اختیار میں نہیں تھی میرے پاس دینے کو کچھ نہیں تھا یا دنیا ما مال معمولی لگ رہا تھا مگر دعا دل سے نکل رہی تھی کہ اپنے وجود کے تمام اعضا وقف کردوں شاید میرے پاس اللہ کے دئیے ہوئے وجود کا شکرانہ ادا کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں تھی اقبال بھائی میں آپ کی تعریف نہیں کر رہا میں تعریف کر رہا ہوں اُس نیکی کی جس کی قبولیت آقا دوجہاں ﷺ کی بارگاہ میں رنگ لے آئی تھی خدا مجھے بھی اقبال بنا دے بلکہ کوشش ویلیفر ٹرسٹ کے ہر ممبر کوقبول فرمائے اور یہ سلسلہ جاری صاری رکھے آمین معاشرے کی طرف نگاہ جاتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ انسانیت کی مدد کے لیے لوگوں کو کتنا سوچنا پڑتا ہے اپنا گھر شاندار بنانا ہوتو لوگ دن رات ایک کر دیتے ہیں دنیاوی سہولتوں کو عزت سمجھ کر کتنے جتن کرتے ہیں مگر بلندکردار کے لیے خدمت انسانیت کے لیے غریبوں کے حصے میں آیا ایمان کا حصہ تکمیل کرنے کے لیے بندے بندے سے چندہ مانگنا پڑتا ہے مگر پھر بھی حصب منشا نتائج نہیں نکلتے ایسے میں حرارت ایمان کا ستایا ہوا اقبال اپنا وجود نا پیش کرئے تو کیا کرئے اپنا بس تواپنے وجود پہ چلتا ہی ہے نا کتنی مشکل اور آنسووں سے اپنوں کو منانا پڑتا ہے اس کیفیت کو میں سمجھ سکتا تھامگر بیان نہیں کر سکتا تھاسرکار دوجہاں محمد ﷺ نے کعبہ کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے کعبہ تو بڑی عزت و حرمت والا ہے مگر ایک مومن تجھ سے بھی زیادہ عزت و حرمت والا ہے یہ فرمان انسان کے حقوق سمجھنے کے لیے کافی ہے بڑی معتبر تصدیق ہے بڑی وزنی گواہی ہے اس کی سمجھ فکرنبی ﷺ کو محسوس کرنے سے آتی ہے دولت دنیاوی زندگی کا حسن تو ہو سکتی ہے مگر یہ ضروری نہیں سکون زندگی بھی ہونیکیاں بھلائیاں آخرت کی دولت ہیں جہاں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اُس کے لیے اس قدر غیر زمہ داری درد انسانیت سے غفلت کی علامت ہے اور جس دنیا میں سو سال سے زیادہ نہیں رہ سکتے اُس کی لیے دن رات محنت لالچ خود غرضی پہ مبنی ہو یہ ہرگز مومن کا شیوہ نہیں ہو سکتی خدا کے لیے خدا کی چاہت کو سمجھیں جس نے ساری دنیا انسان کے لیے بنائی اور انسان کواپنے لیے بنایاوہ آپ کے درد انسانیت کو عبادت سے بڑھ کر اجر دینے پہ قادر ہے صرف اپنی ہی زات کے لیے کی گئی عبادت آپ کو حقوق العباد سے چھٹکارہ نہیں دلا سکتی ایک بدکار طوائف ایک کُتے کو پانی پلانے پہ بخشی جا سکتی ہے تو اے مسلمان تو اپنے بھائی بہن جس سے خون کے رشتے سے بڑھ کر کلمے کا رشتہ ہے ان کی مدد کرکے بے قیمت کیسے رہ سکتا ہے ایک غریب آدمی عبادت کا درجہ رکھنے والی مدد کی اہمیت بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے مگر ایک دولت مند انسان کو بیدار کرنے کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے احساس دلانا پڑئے گا کہ خدا نے آپ کو کتنا دیا اور آپ نے خدا کے لیے کتنا دیاہم دردانسانیت اور فکر اقبال کے ساتھی اور کوشش ویلفیر ٹرسٹ کے ممبر ہونے کو قدرت کا فراہم کردہ عظیم موقع سمجھتے ہیں میں اپنی پوری زندگی کے تجربات سے یہ بات کہہ دینا چاہتا ہوں کہ دولت شہرت صحت خوشیوں کے رشتوں سے درد اور درد مندوں کا رشتہ معتبر ہوتا ہے درد کے رشتے بڑے بھاری رشتے ہوتے ہیں زندگی بھر ساتھ نہیں چھوڑتے یہ درد انسان کو ہمدرد بنا دیتے ہیں حضور ﷺ کی عبادت ہر اُمتی کے حصے میں آئی ہے مگر حضور ﷺ کا درد چوندہ بندوں کا مقدر بنتا ہے جو عشق رسول ﷺ کی طرف پہلی منزل ہے جو اللہ تک پہنچنے کی اہمیت رکھتی ہے موت زندگی کو وقت کے ہاتھوں سے لمہہ لمہہ چھین کر اپنے قریب کرتی جا رہی ہے یہ عمل بیداری وقت کا تقاضہ ہے میرے حاجت مند لوگ کبھی خدا کی طرف دیکھتے ہیں کبھی خدا کے بندوں کی طرف دیکھتے ہیں کوشش ویلفیر ٹرسٹ آپ کی ادنیٰ سی کوشش کا منتظر ہے
اس کے لیے آپ کے پاس بے شمار دولت کا ہونا لازمی نہیں درد کو محسوس کرنے والے دل کا ہونا لازمی ہے

 591 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y9nkg5lt
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *