ماں۔۔۔۔ شاعرہ: علینہ ملک

Print Friendly, PDF & Email

میں الفاظ کو کس سانچے میں ڈھالوں 

وہ کون سے حرف لکھوں 

کہ اک ماں کا پیکر تراشوں 

کہاں سے لاؤں وہ روشنی 

کہ جس سے وہ عکس دکھا سکوں 

جو ماں کا ہو۔

دھنک کے سب رنگ چن کر

کینوس پہ کس طرح بکھیروں 

کہ اس شفقت ،محبت ،اور. نرمی کو 

اک تصویر میں دکھاؤں 

اس احساس کو کن جملوں میں ڈھال کر 

صفحہء قرطاس پر بکھیروں 

کہ ان جذبوں کو ادا کر پاؤں ،جو ماں کے لیے ہیں

ہاں یہ ممکن ہی نہیں کہ 

الفاظ ،رنگ ،جملے اور روشنی

سب ہی کم نظر آتے ہیں 

اس پیکر محبت کو بیان کرنے میں۔۔۔

جو ماں کا ہے۔۔۔

Short URL: http://tinyurl.com/jrqgmof
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *