لفظ نکاح یاشادی کا مطلب!۔۔۔۔ تحریر: محمد یاسین صدیق

Muhammad Yaseen Siddique
Print Friendly, PDF & Email

نوجوان نسل کی ایک کثیر تعداد شادی کے مفہوم سے ہی نابلد ہیں۔ آپ کسی غیر شادی شدہ مرد و زن سے پوچھ لیں کہ کیوں شادی کرنا چاہتے ہو وہ کیا، کیا بتاتے ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو رہنمائی ہی نہیں ہے ۔تو سنیں عربی اور اردو زبان میں نکاح کا لفظ رائج ہے جبکہ اردو میں نکاح کے مترادف الفاظ شادی ، بیاہ بھی رائج ہیں۔ انگریزی زبان میں اس کے لئے میرج کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔لفظ نکاح نَکحَ یَنکِحْ سے مصدر ہے اس کے معنی ’’جماع کرنا اور شادی کرنا‘‘ ۔ تَنَاکَحَ ’’ایک دوسرے سے شادی کرنا‘‘۔ درخت کی شاخیں جب ایک دوسرے سے مل جائیں اور وہ باہم پیوست ہو جائیں تو کہا جاتا ہے ’’تناکحت الاشجار‘‘ (یعنی درختوں کا ہجوم ہوگیا یا درخت گڈ مڈ ہوگئے ) ’’لغت کی رو سے نکاح سے مراد ایک شے کے دوسری میں پیوست ہونے یا جذب ہو جانا۔ علامہ الجزیری نے کتاب الفقہ میں حنفی، مالکی، شافعی فقہاء سے نکاح کی جو تعریفیں منقول ہیں ان کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔احناف کے نزدیک نکاح ایک معاملہ ہے جو اس ارداہ سے کیا جائے کہ ایک شخص ملک متعہ کا مالک ہو جائے ۔شوافع کے نزدیک نکاح ایک معاملہ ہے جس میں نکاح یا تزویج یا مباشرت کی ملکیت حاصل ہو ،مالکیہ کے نزدیک نکاح (عورت سے مباشرت) کے لیے ایک معاملہ ہے جو گواہوں کی موجودگی میں کیا جاتا ہے ۔ مختصر’’نکاح مرد و عورت کے درمیان شرعی اصولوں پر کیا گیا معاہدہ ہے جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلق حلال اور پیدا ہونے والی اولاد کا نسب شرعاً جائز اور ان دونوں پرباہم حقوق و فرائض عائد ہو جاتے ہیں۔ ‘‘ شادی فارسی زبان کا لفظ ہے ، فارسی زبان کے اسم صفت شاد کے ساتھ لاحقہ کیفیت “ی” کے اضافہ سے لفظ شادی وجود میں آیا۔ یہ لفظ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ، اس کے لفظی معنی خوشی اور مسرت کے ہیں۔ شادی کی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ کسی بھی ثقافت میں وہ رسم یا قانونی معاہدہ (اسلام میں نکاح )جس کے ذریعے معاشرہ، قانون اور مذہب مرد (شوہر) اور زن (بیوی) کے مابین قریبی، جنسی اور ازدواجی ،تعلق کو قبولیت بخشتا ہے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کا شریک حیات بناتا ہے ۔ اس معاہدے کے ذریعے معاشرے میں ایک نئے گھرانے کا اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو شناخت اور قانونی تحفظ فراہم ہوتا ہے ۔یہ معاہدہ مذہبی ،قانونی ذمہ داروں اور گواہوں کی موجودگی میں انجام پاتا ہے ،جو اکثر اوقات عمر بھر قائم رہتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر یہ معاہدہ دونوں فریقین کی رضامندی، قاضی یا عدالت کی مداخلت سے طلاق کے ذریعہ ختم یا فسخ کیا جاسکتا ہے ۔ ازدواجی زندگی ایک نئی زندگی ہے جو ان کی قبل از نکاح کی زندگی سے یکسر مختلف ہے اور خوشی (شادی) اس کے لیے شادی(خوشی) ہے جو اپنے ساتھی کا ساتھ تا حیات دینے کے لیے تیار ہو۔ اور یہ کہ شادی ایک بھاری ذمے داری اور ڈیوٹی ہے۔ شادی کا مقصد محض جنسی خواہش کی تسکین نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی رسم ہے ۔ یہ ایک فرض ہے ،ضرورت ہے ،ذمہ داری ہے ،اس کے بے شمار فوائد ہیں ۔
اللہ تعالی نے نکاح میں انسان کے لیے بہت سے دینی ودنیاوی فوائد رکھے ہیں۔ مثلاً معاشرتی ، خاندانی ،اخلاقی ،سماجی ،نفسیاتی فوائدہیں جن کا ذکر آگے آئے گا ۔انسان کو نکاح کے ذریعہ صرف جنسی سکون ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ قلبی سکون ذہنی اطمینان غرض کہ ہرطرح کا سکون میسر ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنادیا تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے ۔اگر انسان نکاح سے جو انسانی فطری ضرورت ہے منہ موڑنے کی کوشش کرتا ہے تو انسان کو خطرناک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ازدواجی تعلق کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ابو ریحان البیرونی لکھتے ہیں۔’’کوئی قوم ازدواج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس سے شہوانیت، جس کو ہر مہذب ذہن برا سمجھتا ہے بے لگام ہونے سے رک جاتی ہے اور ان وجوہات کا انسداد ہو جاتا ہے جو حیوانات کو ایسا مشتعل کر دیتے ہیں جن سے ان کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اگر آپ ان جانوروں پر غور کریں جو جوڑے کی شکل میں رہتے ہیں اور دیکھیں کہ اس جوڑے کا ہر فرد کس طرح دوسرے کی مدد کرتا ہے ۔ اور جوڑا بن کر رہنے کی وجہ سے کہ کس طرح دوسرے جانورں کی شہوت سے محفوظ رہتے ہیں تو آپ بلا تامل یہ کہہ اْٹھیں گے کہ ازدواج ایک ضروری ادارہ ہے اور زنا ایک شرمناک عمل ہے جو انسان کو جانوروں کی سطح سے بھی نیچے گرا دیتا ہے حالانکہ حیوانات کا درجہ انسان سے بہت نیچے ہے ‘‘

Short URL: http://tinyurl.com/hkd73pw
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *