لحموں کا سفر سالوں میں

Print Friendly, PDF & Email

اے وطن کے سجیلے جوانو۔میرے نغمے تمھارے لیئے ہیں کس نے گایا اور کب گایا بتانے کی ضرورت نہیں اس نغمے کو سنتے ہی پاکستانی جان جانتے ہیں کہ میڈم نور جہان کی آواز ہے ۔47 سے 1971 اور 1999 تک ریاست جموں و کشمیر گلگت بلتستان کے ساتھ جو کچھ سلوک روا رکھا گیا ہے یا ان جنگوں سے یہاں بسننے والے مکینوں کی زندگیوں میں جو اثرات مرتب ہوئے ہیں وہ بھی سب پر عیاں ہیں ۔ ان پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور آئیندہ بھی لکھا جائیگا ۔ ریاست جموں و کشمیر گلگت بلتستان کی کہانی بھی ایسی ہے جس کے بارے جو بھی مورخین لکھینگے پھر بھی ان کی تشنگی برقرار رہیگی ۔ریاست جموں و کشمیر کا ہر فرد ایک کہانی ہے ایک واقعہ ہے ایک تاریخ ہے، یہ ایک ایسی تاریخ ہے جس کو لفظوں میں بیان کرنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ نا ممکن بھی ۔کہاں تک سنوگے کہاں تک سنائیں ہزاروں ہیں شکوے کیا کیا سنائیں ۔ پاکستان اور ہندوستان کی اپس کی جنگوں سے کس کو فائدہ ہوا اور نقصان کس کے نصیب میں آیا یہ بھی کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے ہے ۔کیا پڑھا جائے یا کس پہلو پر لکھا جائے اور لکھا جائے تو کس کے لیئے اور کیا لکھا ہوا یا لکھا جانے والا مواد کسی کے کان کی جوں رینگوانے کے لئے کارآمد ہوگا؟ ۔مجھے نہیں لگتا کہ کسی کے کان مین جوں رینگے ۔ وہ اس لئے کہ اس ریاست میں رہنے والے باسیوں کے خود اپنے کانوں میں جوں نہیں رینگتی ۔کسی کے کان میں جوں رینگے یا نہ رینگے لیکن کتھا تو ہم سناتے رہئنگے اور آج کی کتھا میں ذکر ہے اس ریاست کی ایک ایسی کہانی کا ایسے باسیوں کا جہاں کے رہنے والوں کو یہ تک معلوم نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو کس لیئے ۔ ہم کون ہیں کہاں ہیں؟ ہمارے نصیب میں کیا صرف رونا دھونا ہی لکھا گیا ہے ۔یہ خوشیاں ہم سے کیوں روٹھ گئیں ہیں ۔خوشی کے لحمات پانے اور کسی کے غم میں شرکت کے لیئے لحموں کا فاصلہ مہنوں اور سالوں میں کیوں طے کرنا پڑتا ہے ۔آج 17 دسمبر ہے اور آج ہی کی تاریخ میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین حادثہ رونما ہوا وطن کے سجیلے جوان ہزاروں کی تعداد میں بے بس و مجبور دشمن کے نرغے میں چلے گئے ۔کیا حالات تھے اور کیسے یہ سب کچھ ہوا سب واضح ہے جس وقت یہ داغ لگا اس وقت ہماری زندگی سکول میں گزر رہی تھی اے مرد مجاہد جاگ ذرا سے وطن کے سجیلے جوانو اور یہ وطن تمھارا ہے کے نغموں سے لطف اندوز اور اپنے بزرگوں سے میڈم اقلیم اختر سے اس کے جنرل رانی بننے کے قصے سنا کرتے تھے ۔اور جب جنگ تھم گئی تو معلوم ہوا کہ ہم نہ صرف اس شرمناک لحمے سے بھی گزرے جس میں ہمارے بہادر افواج کے ہاتھوں سے زبردستی دشمن نے ہتھیار چھین لئے بلکہ ریاست جو پہلے ہی منقسم ہوکر پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام چلی گئی تھی اس کے مزید کچھ حصے دشمن کے قبضے میں چلے گئے۔گلگت بلتستان جو ریاست جموں کشمیر کا قانونی صوبہ تھا جو بقول ہمارے اسلاف 1947 میں آزاد ہوا تھا دسمبر 1971 میں ایک بار پھر آزادی کی جنگ میں مزید تقسیم ہوا بلتستان کے گائوں چلونکھا، تپاکشی ،تھانگ اور ترتوک جو ہم نے ڈنڈوں اور کہلاڑیوں سے آزاد کرایا تھا انڈیا نے قبضہ کیا۔اور 1971 تک جو پاکستانی تھے وہ ہندوستانی بن گئے ۔۔اور اب حالت ہماری یہ ہے کہ باپ اگر پاکستانی ہے تو بیٹا ہندوستانی یا اگر ماں ہندوستانی ہے تو بیٹی پاکستانی لیکن افسوس ہم ریاستی نہ بن سکے اور آج کی تاریخ میں نہ ہم پاکستانی ہیں اور نہ ہی ریاستی پاکستان اور ہندوستان کے بیچ ایک لٹکتی گیند بن کے رہ گئے ہیں ۔ان بچھرے ہوئے خاندانوں کو آپس میں ملنے کے لیئے ڈیڑھ دو گھنٹے کا راستہ طے کرنے کی اجازت نہیں پہلے تو ویزہ بھی نہیں ملتا تھا اب اگر مل بھی جائے تو ان خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملنے کے لئے ہزاروں میل کا فاصلہ بزریعہ واہگہ بارڈر طے کرنا پڑتا ہے ۔اور ہندوستان کی طرف سے اگر کبھی دریائے شیوک بپھر جائے اور کوئی لاش کسی وجہ سے بھی بلتستان کی حدود مین پڑی مل جائے تو اس لاش کو ورثہ مطالبہ کریں تو اسے بھی ہزاروں میل طویل راستہ طے کرکے ہی اپنی ریاست کی دو گز ٹکڑے میں دفن ہونا نصیب ہوتا ہے۔مجال ہے کہ پاکستان اور ہندوستان بلتستان کارگل روڈ کھولے جہاں ان کے پاکستانی باپ اپنے ہندوستانی بیٹے سے ملنے کے لیئے بے تاب ہے اس سے آگے۔ہم اگر عرض کرینگے تو شکایت ہوگی اور ہم زیر انتظام رہنے والے کسی کو شکایت کا موقع دینا نہیں چاہتے ہم تو دنیا کے مطلوم ترین ریاست کے باشندے ہیں اور مظلوموں کو صرف فریاد کا حق ہے شکایت کا نہیں اس فریاد کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں اور اس وقت ہماری فریاد یہی ہے کہ ریاست کے مزید تقسیم کے حربے بند ہوں تو یہ ریاست کے باشندوں کے ساتھ ان دو ملکوں کا بہت بڑا احسان ہوگا ۔ اور گلگت بلتستان کے سجیلے جوانوں سے صرف اتنا کہنا ہے کہ ڈنڈوں اور کہلاڑیوں کی آزادی سے آگے اس وسیع دنیا کی وسعت کو دیکھیں جو ان کے سہانے مسقبل کی ضمانت ہے۔

 81 total views,  3 views today

Short URL: https://tinyurl.com/ya4sfgd2
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *