قوم لوط والا فعل

Print Friendly, PDF & Email

کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر بحثیت مسلمان کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے چہ جائیکہ یہ فعل کسی مسلمان سے سرزد ہوجائے لیکن کیا کیا جائے اس معاشرے کا جہاں روز ایک ایسا شرمناک واقعہ ظہور پذیر ہوتا ہے جس سے  نہ صرف ہماری  پستی کی نشاندہی ہوتی ہے بلکہ ایسے واقعات  اسلامی اصولوں سے ناواقفیت اور بے راہروی  کے منہ بو لتی تصویر بھی پیش کرتے ہیں ۔سکردو میں ایک لڑکے  سے لواطت والا جو گھناوانا فعل چھ مہنے سے ہوتا رہا اور اسے بلیک میل کرنے کے لئے ویڈیوز بنائی گئی  ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔سکردو کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ۔مجھے نہیں معلوم  کہ اس لڑکے کے ساتھ کیا کچھ ہوتا رہا میں اس سے ذرا ہٹ کر آج بات کرنے کے موڈ میں ہوں ۔سب سے پہلے تو  اس لڑکے کے والد کی ہمت اور جرعت کو سراہتا ہوں کہ اس نے  معاشرے کی اس بُرائی کو منظر عام پر لایا ہے ۔ میں اس کی اس ہمت کو ایک کارنامہ ہی کہونگا وہ اس لئے کہ گلگت بلتستان کے خطے  کی روایات اور مختلف اوقات میں  مختلف قسم کے جھگڑوں اور اس سے ملتے جُلتے واقعات میں  چوہدری شجاعت والے فارمولے یعنی مٹی پائو  پر عمل کرتے ہوئے ایسے واقعات پر منوں نہیں بلکہ ٹنوں کے حساب سے  مٹی ڈالی گئی ۔ایک یہی روایت ہی نہیں جو اس کا سبب بنی ہے بلکہ  بہت سارے ایسے واقعات بھی یہاں رونما ہوئے ہیں جن کو والدین اور رشتہ دار صرف اس لئے ان دلخراش واقعات کو خاموشی سے سہہ گئے یا    ایسے زخم اور ناسور کو دل میں لئے  بیٹھے رہے کہ یہ ان کا شرمندگی کا باعث نہ بنے اور کچھ تو اپنے ہاتھوں اپنی جان لٹا بیٹھے ۔یہ نہ صرف المیہ ہے بلکہ اپنے آپ کو محمدﷺ کے امتی کہنے والوں اور اماموں اور خلفا کے نام پر ایک دوسرے کی گردن کاٹنے والوں کے لئے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ اگر ان میں ذرہ بھر بھی مسلمانی کی رمق باقی ہے تو ۔آپ میں سے کئی لوگ یہی سوچ رہے ہونگے  کہ ایک بندے کے گھناونے فعل کو سارے معاشرے پر تھوپنا کہاں کی عقلمندی ہے ۔یہی سوچ ہمیں لے ڈوبی ہے،اب  ایسی سوچ پر لعنت بھیجنے کا وقت آگیا ہے ۔ایسی سوچ پر تو زبان سے گالی ہی نکل سکتی ہے لیکن کیا گالی اس کا حل ہے؟ نہیں ۔اس کے تدارک کے لئے ٹھوس اور عملی کام کی ضرورت ہے نہیں تو ایک مچھلی بلکہ کل کو ایک سے دو  مچھلیاں اور پھر سارا تالاب گندہ ہوجائیگا۔ ۔سوشل میڈیا میں اس واقعہ کو لے کر اسلام دشمن عناصر دین اسلام اور علماء حضرات کو کوستے نظر آتے ہیں۔ ۔دنیا کا کوئی مذہب  کسی بھی گندے کام کی اجازت نہیں دیتا۔۔ یہ وقت  ایک دوسرے کو کوسنے کا نہیں  بُرائی بُرائی ہے چاہئے کسی سے بھی سرزد ہوجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ سب مل کر ان بُرائیوں کا قلع قمع کرنے کی سعی کریں ۔اور اس میں کامیابی اس صورت میں مل سکتی ہے کہ جہاں کہیں بھی ایسے واقعات چاہئے وہ شہر میں ہوں یا دیہات میں  بُرائی کو سامنے لایا جائے  اور  اس میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوا ئی جائے ۔لیکن افسوس  گلگت بلتستان کی سطح پر نہ پرنٹ میڈیا اور نہ ہی الیکٹرانک میڈیا  ایسے ایشوز  کو زیر بحث لاتا ہے۔  

 ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں  ماضی کے کچھ سکینڈل بھی ایک آدھ  منظر عام پر آئے لیکن وہ بھی مٹی پائو یا مفادات کے نذر ہوگئے کہیں برادری کام آئی اور کہیں ذات ۔جس معاشرے میں سزا اور جزا کا قانون نہ ہو اس معاشرے میں  ایسے واقعات  رونما ہوتے رہئنگے اور ہمارے ملک میں سزا اور جزا کے قانون کا حال سبھی جانتے ہیں۔  گلگت بلتستان میں  تو   کچھ نرالا ہی ہے ۔جہاں کہیں بھی ایسے واقعات  جنم لیتے ہیں  ان کی اصل کہانی پس پشت چلی جاتی ہے اور  جو کہانی سامنے لائی جاتی ہے  وہ مجرموں کو بچانے کے لئے گڑھی جاتی ہے ۔ اگر ایک آدھ انسان اس کہانی کو سامنے لانے کی کوشش کرتا بھی ہے تو  وہ اس کی ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔دیکھ لینگے تجھے کے الفاظ اور دھمکیاں اور ہراساں اس کے مقدر بن جاتی ہیں  وہ معاشرے کا سب سے بُرا شخص تصور ہوتا ہے ایسی سچائی کو سامنے لانے والے کو نہ صرف بے وقوف سمجھا جاتا ہے بلکہ  اسے عزت خاک میں ملانے والا گردانا جاتا ہے ۔سکردو کے اس واقعے میں باپ نے جس دلیری کا مظاہرہ کیا ہے اسے اس کی بےوقوفی یا اسے ملامت سمجھنے کے بجائے ہم سب کو چاہئے کہ اس کے ساتھ مل کر  معاشرے کے اس ناسور  اور گھناونے فعل کو جو ہمارے خطے میں کینسر اور کرونا سے زیادہ خوفناک شکل میں موجود ہے ختم کرنے کے لئے پیش رفت کریں ۔اور اس کے لئے  برطانوی تعزیرات  والی  سزائیں  کام کی نہیں جہاں  تاریخوں  پہ تاریخیں اور آخر میں رزلٹ زیرو  ۔اس لئے ایسے واقعات میں ملوث افراد کے لئے اسلامی سزا ہونی چاہئے جہاں قتل کا بدلہ قتل چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے اور ایک ہی وار میں  سر قلم ۔۔ایسا ہی فعل حضرت لوط علیہ السلام کے زمانے میں اس کی قوم  میں رائج ہوا تھا جس کا ذکر قرآن میں  یوں آتا ہے   ” اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے”سورہ عراف اور دوسری آیت سورہ ہود کی جس میں اللہ فرماتا ہے ‘ پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کر دیا اور اس پرکنکر کے پتھر لگاتار برسائے”اور آخر میں اسلامی تاریخ  کے  اوراق کا  یہ ذکر کہ ۔”حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب ایک خط لکھ کر بھیجا کہ میں نے یہاں ایک ایسا شخص پایا ہے، جوبخوشی دوسروں کو اپنی ذات پر قدرت ديتا ہے۔ حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ طلب فرمایا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا،”بے شک یہ ایک ایسا گناہ ہے۔،جسے فقط ایک امت یعنی قوم لوط نے کیا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتا دیا کہ اس نے اس قوم کے ساتھ کیا کیا،چنانچہ میرا خیال ہے کہ اس شخص کو جلا دیا جائے۔۔

پس حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے آپ نے حسب حکم اسے آگ میں جلوا دیا”

سکردو  کے اس واقعہ میں جو بھی افراد ملوث ہیں ان کے اوپر بھی ایسی ہی سزا  کی امید ہمیں رکھنی چاہئے۔ اگر ہم ایسے کاموں اور بُرائی کی روک تھام نہیں کرینگے اور مٹی پائو کے فارمولے کو اپناتے رہئنگے تو اللہ کے عذاب کا ہمیں انتظار کرنا پڑیگا اور یقیناً اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت اور کڑا  ہے ۔

 465 total views,  6 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y5nl7fmj
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *