قربانی کا بکرا اور میں

Print Friendly, PDF & Email

 میں میں میں ارے یہ کیا  رٹ لگا رکھی ہے میں کی بھائی۔۔۔ یہ میری رٹ نہیں بلکہ بکرے میاں کی فریاد ہے۔کیسی فریاد کیا ہوا بکرے کو ارے ہونا کیا ہے آپ تو جانتے ہیں کہ اگلے کچھ دنوں میں عید قربان آرہی ہے۔ہاں تو سہی ۔ بس یہ فریاد اور سریلی آوازیں ہر دوسرے گھر میں گیٹ سے باہر بندھے ہوئے بکروں کی ہیں جو مالک کو چیخ چیخ کر دھائی دے رہے ہیں کہ میاں جب تمھارے گھر میں مجھ غریب کو باندھنے کہ جگہ ہی نہیں تھی تو اتنے دن پہلے مجھے یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی ۔پاکستان کے ہر شہر کی یہی کہانی ہے ہر شخص قربانی کے بکرے عید سے بہت دن پہلے چاہ اور محبت سےلے آتے ہیں ۔اب اس محبت سے دوسرے ہمسائیوں کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے وہ سبھی ہی جانتے ہیں ۔قربان ہونے کو دل چاہتا ہے پاکستانیوں کی ان ادائوں پر جیسی ادائیں بکرے فروخت کرنے والوں کی ہیں کہ مویشی منڈی کے بجائے شہر کی سڑکوں پر ہی بکروں کی یلغار ہر سڑک میں بکرے ہی بکرے خراماں خراما ں اور کچھ تو شوخ و چنچل اور کچھ مستانے پیار و محبت کے پینگیں بڑھانے کی کوششوں میں سرگرداں اپنے اس پیار و محبت میں یہ بکرے اتنے مدہوش ہوتے ہیں کہ راہ چلتی گاڑیوں کو اپنے پیار میں رکاوٹ سمجھ کر اپنے پیار و محبت کی ایک ادھ نشانی ان گاڑیوں کو بھی عنایت کر دیتے ہیں ۔ اب ان کی اس نشانی کا جو مول ہوتا ہے اسے سوائے غریب مالک یا شوفر کے کوئی نہیں جان پاتا ۔میں میں میں یار پھر میں میں یہ میں میں نہیں ہوں بھائی بکرے کی میں میں ہے لیکن ایک بات ہے بکرے کی میں اور انسان کی میں میں کوئی فرق نہیں ۔بکرے تو بکرے ہیں ان کی میں میں تو سمجھ آتی ہے لیکن اس حضرت انسان کی میں کی آج تک سمجھ نہیں آئی ۔میں قربان جائوں ان کی میں پر۔۔ میں تو عوام ہوں میری مرضی جو جی میں آئے کروں بکرے کو سڑک میں باندھوں یا کہیں اور میری مرضی ۔۔الائشیں سڑکوں پر پھینکنے سے مجھے کون روک سکتا ہے ۔ یہ سڑک یہ راستہ سرکاری ہے کسی کی باپ کا تھوڑی ہے ۔جی جی آپ صحیح فر مارہے۔بہت برا قربانی کا جذبہ پایا ہے آپ نے۔ اور یہی قربانی کا جذبہ پوری پاکستانی قوم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے ۔
میں میں میں اب یہ میں میں ہی بولا ہوں کیوں بھائی کیوں۔آپ نے مجھے کیوں بولا آپ کی ایسی کہ تیسی کیا سمجھتے ہیں آپ۔ اپنے آپ کو بھائی میں بھی میں ہوں صرف تو ہی اپنے اپ کو میں نہیں سمجھ ۔ ارے ارے آپ کو ہو کیا گیا اچانک ۔ آپ بھی دوسروں کے رنگ چڑھنے لگے۔رنگ چڑھنا کیا مطلب ہم تو رنگے اسی رنگ میں ۔ آپ نے وہ محاورہ نہیں سنا ہے کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ اندھی نگری چوپٹ راج میں یہی سب کچھ تو ہوتا ہے ۔میں میں میں یہ میں نہیں بولا یہ بکرا بولا ہے اور وہ کہہ رہا ہے کل عید کے دن میری میں میں تو بند ہوجائیگی تم اپنی میں میں کا کیا کروگے۔۔بکرے کا سوال بہت ہی زبردست اور غور طلب ہے ۔ سوچو غور کرو ۔کیا ہم اپنی میں کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ اور جس دن ہم اپنی میں کو قربان کرینگے تو وہ دن صحیح معنوں میں ہمارا قربانی کا دن ہوگا۔۔۔ ۔

 1,228 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y9gvkune
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...