فن اور تحریر کے تھر میں!!..۔۔۔۔ ندیم رحمن ملک

Nadeem Rehman Malik
Print Friendly, PDF & Email

فنون لطیفہ محض موسیقی،بت تراشی اورتصورکشی تک محدود نہیں ہے،بلکہ صحافت،نفسیات،مذہب، سیاست، فلسفہ،تہذیب و تمدن،تاریخ و ثقافت،زبان و ادب اورسائنس و طب کے علوم کا نام ہے،بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو ان علوم پر دسترس رکھتے ہیں،اور وہ جو یہ سب سیکھتے ہیں اور دوسروں کو سکھاتے ہیں،بظاہر یہ سب اپنی اپنی ذات کے اظہار کے علوم ہیں مگر معاشرے کو جدید خطوط پر لانے اور انسان کی آبادکاری کا سلیقہ سکھانے کا ایک خوبصورت زریعہ بھی سمجھا جاتا ہے، قدیم یونان تمام فنون و علوم کا مرکزی دھارا ،منبع اور گہوارہ سمجھا جاتا ہے،گویا کچھ اقوام اور تہذیبیں اس بات سے اختلاف کرتی ہیں،لیکن سب کی تان بلاآخر یونان پر ہی ٹوٹتی ہے،جہاں دانشور،ادیب،شاعر،فلسفی اور کیمیاء دان کو معاشرے میں انتہائی اعلیٰ مقام و رتبہ دیا جاتا تھا،اور انکی رہائش انتہائی پرتعیش اور اونچے خوبصورت پہاڑوں میں تعمیر کی جاتی تھی،اور یہ سب وہاں کی حکومت کرتی تھی،عام لوگوں کے لئے لازم تھا کہ وہ ان کی خدمت اور آرام و سکون کا بندوست اپنے خاندان اور بیوی بچوں سے بڑھ کر کریں،یہی وجہ ہے کہ وہاں \’\’ ایلیا \’\’ نام کی بستیاں آباد کی گیءں،جہاں صرف اہل قلم ،فلسفی، دانشور،شاعر اور طب کے لوگ مستقل بنیادوں پر آباد کئے جاتے تھے،یہی وجہ ہے کہ آج ہزاروں سال بعد بھی کوئی مکتبہ فکر،کوئی علم کی کسوٹی،کوئی نفسیات کی الجھن،ریاضی کا نقطہ ،فلسفے کا خمیر اور راکٹ سائنس کے ہوشربا مسائل،دیکھتے سب یونان کی طرف ہیں !! یورپ امریکہ آج جس ٹیکنالوجی پر اتراتے پھرتے ہیں وہ سب یونان کی دین ہے، اس میں کچھ کریڈٹ ہمارے مسلمان فلسفی دانوں،کیمیا ء دانوں،علماء اور اہل قلم وادباء کو بھی جاتا ہے،دنیا نے ہمارے علم اور یونانی علوم کو اپنے سینوں میں کسی آسمانی صحفے کی آیات سمجھ کے محفوظ کیا اور ہم اسکو کسی خاطر میں نہ لائے،ہم فرنگی آقاؤں کے دیئے نظام اور علوم میں دلچسپی رکھتے ہیں،ہم یونان سے نہیں یورپ اور امریکہ سے امپریس ہوتے ہیں،انہیں کی زبان رسم و رواج کو اختیار کرنے میں اپنی شان سمجھتے ہیں،نتیجہ یہ نکلتا ہے نہ ہم فرنگی بن پائے نہ مکمل مسلمان،آدھا تیتر آدھا بٹیر کی مثال شاید ہمارے لئے ہی وجود میں لائی گی ہے،علم کی تلاش ہماری راہ نہیں ہے،اہل قلم اور انکی تخلیقات ہمارے نزدیک وقت کی بربادی ہے،دانشور کو ہم نظرانداز کرتے ہیں،کسی پروفیسر کو ہم خبطی اور نیم پاگل سمجھتے ہیں، اور انکے لطیفوں میں دلچسپی رکھتے ہیں،ہمارے اسلاف اور انکے کارہائے نمایاں کو کتابوں تک محدود رکھتے ہیں،ہم مسجدوں کو بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں نمازی بنانا ہمارا کام نہیں،ہم ایک وقت کا کھانے کا بل دس ہزار بھی دے دیتے ہیں،سال بھر میں ایک ہزار کی کتابیں نہیں خریدتے کہ یہ ہماری ضرورت اور ترجع نہیں ہے،ہم اپنے دانشوروں اوراستادوں کو اپنے سے الگ مخلوق سمجھتے ہیں ہم ہی نہیں ہماری حکومتیں بھی ہماری سوچ کی عکاسی کرتی ہے،ہم اہل علم اور اہل قلم کو محض ایک ارباب نشاط کا سا درجہ دیتے ہیں،ہماری حکومتیں بھی صدارتی ایوارڈ ،اعزازی ڈگریاں اور ملکی اعزا زات اپنے ہی وزیروں،کبیروں اور من پسند افراد کو دیتی رہی ہیں،چونکہ ہمارے \’\’ ایلیا \’\’ مرکز اور پی آر او سے دور رہتے ہیں،حکمرانوں کا اتنا ویژن اور ادراک نہیں کہ وہ \’\’ ایلیا \’\’ کو اپنے قریب کر سکیں،انکی محفل میں جینے کااعزاز حاصل کر سکیں، ا لٹاوہ تو \’\’ ایلیا \’\’ سے دور بھاگتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ ہم نے آج اپنے \’\’ ایلیا \’\’ کو تھرمیں آباد کیا ہوا ہے،جہاں موت،زندگی،بھوک اور پیاس سے مرنے والے کسی قطار شمارمیں نہیں آتے،ہم وہ قوم ہیں جو اپنے \’\’ ایلیا \’\’ کے نام پر فیسٹیول تو سجا لیتے ہیں لیکن کسی ایلیا کو دو گھونٹ پانی اور مٹھی بھر چاول تک نہیں دیئے پاتے، عزت و تکریم دینا تو بہت دور کی بات ہے، ہم تو انہیں ایک ہاری تک کا درجہ نہیں دیتے،یہی وجہ ہے کہ ہمارے فنون،ہمارے علوم کی کوئی قدرنہیں کرتا،حتیٰ کہ ہمارا گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو کوئی کسی کھاتے میں نہیں گنتا،ہم جتنا مرضی بغلوں سے اخروٹ توڑنے کا مظاہرہ کریں یا بغلیں بجایں،ہماری شہرت کا گراف بے توقیری کے انڈیکس کو چھوتا ہی رہے گا،یہاں جب تک کوئی خود سوزی نہ کرئے حکمرانوں کو پتہ ہی نہیں چلتا،پتہ چل بھی جائے تو روتی چیخوں اور جھلستے جسم کی قیمت مبلغ پانچ لاکھ روپے ہیں، جودیے کر میت کو قبر اور لواحقین کو گھر چلتا کرتے ہیں، وہ بھلا کیا کسی ایلیا کو عزت دیں گے،وہ کیا فنون لطیفہ کو پرموٹ کریں گے،جو خود مانگے تانگے کی حکومت اور ڈگریوں سے عزت حاصل کرتے ہیں،جو غالب اور جالب کوبھی مانتے ہیں ساتھ یہ اقرار بھی کرتے نظر آتے ہیں ….\” میں نہیں جانتا….میں نہیں مانتا \”۔
سرکاری اعزازات دینے کا ٹھیکہ برسوں سے ان کو دیا جاتا رہا ہے جو نہیں جانتے شعروسخن کس چڑیا کا نام ہے،بیوروکریٹ خود بدیسی ادب کا دلدادہ ہوگا،لیکن اپنے دیسی ادب سے الرجک نظر آئے گا،یوں وہ لوگ جو برسوں سے مرکز سے دورکسی مضافاتی علاقے میں یا شعر و سخن کے کسی تھر،تھل،چولستان میں علم و ادب کی آبیاری کر رہے ہوتے ہیں،وہ بے چارے نامور ہوتے ہوئے بھی گمنامی کی موت مر جاتے ہیں،لیکن کسی ملکی اعزاز سے محروم رہتے ہیں،اور جو شہرت کے آسمانوں کو چھو لیا کرتے ہیں انہیں پکڑ پکڑ کے لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ،صدارتی ایوارڈ،فلاں ایوارڈ تھماتے نہیں تھکتے،یہ رویہ اب بدلنا ہوگا،حقدار کو اسکا حق دینا ہوگا،اونچے شاہی ایوانوں سے نکل کر اب کسی علم و ادب کے تھر آنا ہوگا،جہاں آپ کوآج کے غالب اور جالب چکی اور شعروسخن کی مشقت کرتے بھوک پیاس سے نڈھال مل ہی جاہیں گے۔یقین کریں اس سے انکا نہیں۔۔آپ کے قدکاٹھ اور عزت و تکریم میں اضافہ ہوگا۔

Short URL: http://tinyurl.com/zmd9z9s
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *