غیرت۔۔۔۔ شاہد شکیل

Print Friendly, PDF & Email

فرینکفرٹ میں ایک افغانی نے غیرت کے نام پر اپنی چوبیس سالہ بیٹی کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا ۔
یہ واقعہ گزشتہ سال دسمبر کو فرینکفرٹ میں پیش آیا لیکن پولیس کو گزشتہ دنوں اس واردات کی مکمل رپورٹ اور چند تصاویر موصول ہوئیں ۔ رپورٹ کے مطابق اِ س واقعہ کہ فوراً بعد ہی پڑوسیوں نے مقامی پولیس کو اطلاع دی اور اُنہوں نے جائے وقوع پر پہنچ کر تصدیق کی کہ قاتل باپ نے زبردستی لڑکی کے ہاتھ پیچھے باندھ کر اور منہ پر ٹیپ لگانے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا ۔ابتدائی تحقیق میں پولیس نے بتایا کہ قتل کے پیچھے خاندانی وجوہات ہیں ، لڑکی کا باپ جرم کرنے کے بعد افغانستان فرار ہو گیا اور ابھی تک وہیں ہے ۔
آہستہ آہستہ قتل کے پس منظر سے پردہ اُٹھ رہا ہے اور صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ لڑکی کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا ۔ لڑکی جس کا نام نعیمہ بی بی بتایا گیا ہے پڑوسیوں کے مطابق ایک خوش اِخلاق اور تعلیم یافتہ لڑکی تھی جبری شادی کے بعد اسے افغانستان منتقل ہونے پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا تھا جس پر اس نے صاف انکار کر دیا اور لڑکی کے باپ نے اس انکار کو اپنی انا اور غیرت کا مسئلہ بنا لیا کہ میری بیٹی ہو کر بات نہیں مانی اور اس کا گلا دبا دیا ۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ لڑکی کو قتل کرنے کے بعد اس کے باپ نے لاش کی تصاویر لیں تھیں اور اپنی فیملی کے علاوہ لڑکے والوں کو بھی دکھائیں اور کہا یہ ہوتا ہے انکار کا انجام ۔ پولیس کے مطابق اس جرم کو صرف غیرت کے نام پر قتل ہی کہا جائے گا کیوں کہ اس کے پس منظر میں تہذیبی اور مذہبی محرکات ہیں ۔
پانچ سال قبل برلِن میں۔ پاپت یا۔ نام سے جبری شادیوں اور گھریلو تشدد کی روک تھام کے لئے ایک اون لائن پروجیکٹ متعارف کروایا گیا تھا جس میں گمنام اون لائن مشورہ دیا جاتا ہے پروجیکٹ کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے بتایا کہ اب تک جبری شادی اور گھریلو تشدد سے مناسبت رکھتی ایک سو اکیاون نوجوان لڑکیوں نے ان سے رابطہ کیا ہے جن میں چھبیس لڑکیاں صوبہ ہیسن اور خاص طور پر فرینکفرٹ اور اس کے گرد ونواح سے تعلق رکھتی ہیں جن کی عمریں اٹھارہ اور بائیس سال کے درمیان ہیں اور ہماری تحقیقات کے مطابق یہ ہی وہ عمریں ہوتی ہیں جب انہیں جبری شادی پر مجبور کیا جاتا ہے ، ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ اس قسم کے جرائم سے فوری پولیس کو مطلع کریں تاکہ لڑکیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے اور کافی حد تک اس کی روک تھام کرنے میں کامیاب ہیں ۔ نعیمہ کے والد کے ساتھ پولیس یا عدالت کیا کرے گی یہ ہم نہیں جانتے ،آیا اس کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری ہو گا یا نہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے بہتر جانتے ہیں ۔نعیمہ کی والدہ کو اپنی بیٹی کی موت کا شدید دکھ اور افسوس ہے لیکن وہ چاہتی ہے کہ اُس کی دوسری دونوں کمسن بیٹیوں پر اُن کے باپ کا سایہ نہ پڑے ۔
یہ اور اِس سے مشابہت رکھتے واقعات مسلمانوں اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں روزانہ ہر جگہ رونما ہوتے ہیں ۔ لگ بھگ تیس سال قبل اِسی قسم کے واقعات امریکا اور یورپ میں رونما ہوتے رہتے تھے اُس وقت ترکی اور ایرانی اِ س قسم کی جہالت ( غیرت ) میں مبتلا تھے آج کل یہ دورہ پاکستانیوں اور افغانیوں پر چڑھا ہوا ہے برطانیہ میں ہزاروں واقعات رونما ہونے کے بعد کافی حد تک قابو پا لیا گیا اور یورپ کے دیگر ممالک میں چیدہ چیدہ ہی ایسے واقعات دیکھنے یا سننے میں آتے ہیں ۔
لیکن پاکستان میں آج پہلے سے زیادہ یہ بیماری پھیل چکی ہے اس کی روک تھام نہ کی گئی ، ٹھوس لائحہ عمل یا قانون نہ بنایا گیا تو کل لوگ بیٹی پیدا ہوتے ہی اس کا گلا دبا دیا کریں گے جیسے مہان ہندوستان میں جاری و ساری ہے وجوہات بھلے کچھ بھی ہوں۔نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
یاد رہے اسلام میں زور زبردستی کی شادی ممنوع ہے، آج کے ترقی یافتہ دور میں نوجوان نسل کو بے راہ روی اور جرائم سے دور رکھنے کے لئے ان کے جائز مطالبات کو افہام وتفتہم سے حل کرنے میں ہی ماں باپ اور ان کی اولاد کی بھلائی ہے ،آج کے دور میں ہم بچوں کو صدیوں پرانی روایات کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے وگر اس کا نتیجہ بہت بھیانک ہوگا جیسے کہ گزشتہ دنوں لاہور ہائی کورٹ کے باہر جو واقعہ رونما ہوا اسے دنیا بھر کے میڈیا میں بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا اور پاکستان میں آئے دن غیرت کے نام پر ہونے والی قتل وغارت کو شدید تنقیدی نشانہ بنایا گیا ۔اس قسم کے واقعات نہ تو مذہب کا اور نہ ہی تہذیب کا حصہ ہیں یہ صرف جہالت ہے اور یہاں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ تعلیم اور شعور کی کمی کے باعث ایسے واقعات روزانہ رونما ہوتے ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گے لیکن ان کی روک تھام کے لئے والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا صرف اپنی برادری سسٹم کو مد نظر رکھ کر یا اپنی غیرت اور انا کا مسئلہ بنا کر اپنی جوان بیٹیوں اور بہنوں کو دن دیہاڑے سر عام سڑکوں پرقتل کرکے کون سا اسلامی اور تہذیبی کارنامہ انجام دیا جا رہا ہے ملک میں اور تمام دنیا میں پاکستان کا نام بدنام کرنے سے بہتر ہے لڑکی پیدا ہوتے ہی اسے مار دیا جائے اس کے تین فائدے ہونگے نمبر ایک عزت انا اور غیرت پر آنچ نہیں آئے گی نمبر دو کوئی قانون کی گرفت میں نہیں آئے گا نہ پولیس نہ کورٹ کچہری نمبر تین پاکستان او ر اسلام پر غیر ملکی جو کیچڑ اچھالتے ہیں اس سے بھی چھٹکارا مل جائے گا ۔سوال یہ ہے کہ جب لڑکا اپنی مرضی سے شادی کر سکتا ہے تو لڑکی کیوں نہیں؟
پاکستان میں صدیوں پرانے کلچر اور مذہب کے نام پر جو غنڈہ گردی کی جارہی ہے کیا یہ ملک کبھی اس چھٹکارہ پاسکے گا یا نہیں؟

 1,135 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/grn8jwo
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *