غزل: یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی

Print Friendly, PDF & Email

جو حال دل کا سنایا تو ہم دیوانے لگے
ہمارے بول سبھی آپ کو فسانے لگے

کھلی فضا میں چہکنے کا ڈھنگ بھول گئے
قفس میں کون پرندے یہ گنگنانے لگے

چمن کی سیر کہاں، اور کہاں نصیب مِرا 
ہیں سارے اُلّو یہاں اپنا گھر بسانے لگے

تمہارے عشق کا جذبہ بھی کھوکھلا نکلا
بس اک قدم ہی چلے اور لڑکھڑانے لگے 

چہکتے مرغ چمن، اپنا کام کر ہی گئے 
چمن کے پیڑ سبھی بانسری بجانے لگے

یہ نفرتوں کے پجاری کی راجدھانی رہی
محبتوں کے ترانے کہاں سنانے لگے

نہ کوششیں ہیں یہاں اور نا ہی جنبشِ دل 
یہ کیوں چراغ امیدوں کے ہیں بجھانے لگے

وہاں تو کویل و بلبل کاکام ہی نہ رہا 
جہاں پہ زاغ و چچوندر ہوں گیت گانے لگے

میں میہمان رہا چند دن قیام مِرا
مجھے کیوں بارہا تم آئنہ دکھانے لگے

یہ کربِ زیست نہیں ہے تو اور کیا ہے نثارؔ 
نئے ہیں زخم مگر حادثے پرانے لگے

****
شاعر : احمد نثارؔ 
شہر پونہ، مہاراشٹر

Short URL: http://tinyurl.com/y8sruclt
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *