عورت

Print Friendly, PDF & Email

تحریر ۔ساجدہ چوہدری، سرگودھا
عورت ایک نایاب پھول کا نام ہے عورت وہ پھول ہے جیسے ہر موسم میں کھلنا ہے جیسے ہر طرح کی مٹی میں خود کو زندہ رکھنا ہے دوسروں کی خوشی کیلیے دوسروں کی ضرورت کے لیے عورت ذات کے خوبصورت پل پرسکون ماحول ذہنی سکون کے پل وہ ہی ہوتے ہیں جو وہ بابل کے سنگ گزارے اس کے بعد تو اسے ایک ایسی ندی کا روپ دھارنا ہوتا جیسے ہر طرح کے راستوں کو عبور کرنا پڑے تو وہ باآسانی بنا کسی سے شکوہ شکایت کیے گزرتی جائے بابل کے آنگن سے رخصت ہوتے ہی عورت کا دل ایک سمندر کی تہہ کے جیسا ہو جاتا ہے جس میں روز ہزاروں احساس خواہشات اور دکھ درد اتارلیے جاتے ہیں اور پھر وہ کسی سمندر کی تہہ میں گم ہوجانے والے موتی کی طرح ہی ہو جاتے جہنیں تلاش کرنا یا جن کا اندازہ لگانا ابن آدم کے بس سے باہر کا کام ہے صدیوں سے یہ روایت چلتی آرہی ہے کہ مرد ذات ہے کسی کے آگے جھکنا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا جرم ہے اور ہاں عورت کی جب باری آتی ہے تو کہا جاتا ہے کوئی بات نہیں یہ تو چار دیواری میں رہے گی کوئی یہ کیوں نہیں سمجھتا کے چار دیواری ہو یا پیچ راہ عزت نفس پر چوٹ لگنے کی تکلیف ایک جتنی ہوتی گھر بچانا عورت کا فرض بچوں کی تربیت سے لے کر گھر کے کام کاج تک تو بنتا ہے مگر گھر میں طنزیہ کلام تلخ لہجے بھی کیوں عورت نے ہی سہنے ہوتے؟ اللہ رب العزت نے عورت کی مٹی میں ہی بے شمار برداشت اور ہمت رکھی ہے عورت کا وفا میں کوئی ثانی نہیں عورت ہر دکھ تکلیف برداشت کرنا باآسانی جانتی ہے مگر ایک مقام آتا ہے جہاں وہ ٹوٹ جاتی ہے اورصبر کے پیمانے چھوٹ جاتے ہیں وہ ہے اپنے شوہر اپنے محبوب کو کسی اور کے ساتھ شئیر کرنا بہت اذیت کاکام ہے یہاں آکر عورت پتھر دل ہوتی اور جب پتھر دل ہوتی تب ہر احساس مرجاتا ہے جب احساس مرجائے تو انسان بے حس ہو جاتا ہے پھر اس پر دنیا کی کوئی طاقت بھی اثر نہیں کر سکتی اسی طرح عورت بھی کئی روپ دھارے اس دھرتی پر موجود ہے کئی تو پرامن اور پرسکون ماحول میں جی رہی کسی جگہ رنجشوں میں کئی دکھوں میں مبتلا بہادری سے پھر بھی زندگی سے لڑ رہی ہے اور کئی بالکل بے حسی کا روپ دھارے ہوئے یہ تمام روپ وقت حالات خوش قسمتی بد قسمتی اچھے برے مقدر وسائل کی عدم دستیابی جذبات کو ٹھیس لگنا اور دوسری کئی وجوہات کی بنا پر دھارے گئے ہیں روپ کوئی سا بھی ہو اس دنیا میں عورت کے وجود کے بنا کچھ نہیں

Short URL: http://tinyurl.com/y3smvy3p
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *