عورت کی آزادی۔آزادی یا بے حیائی؟۔۔۔ڈاکٹر ایم اے قیصرؔ

Dr. M. A. Qaisar
Print Friendly, PDF & Email

مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہئے ہیں۔جس کا اگر ایک پہیہ خراب ہو جائے تو صرف ایک پہئے پر گاڑی نہیں چل سکتی۔ ہم عورت کے حقوق کی بات کرتے ہیں کہ عورت اور مرد کو برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ عورت ہر و ہ کام کر سکتی ہے جو ایک مرد کر سکتا ہے۔ عورت ڈاکٹر بن سکتی ہے، انجنیئر بن سکتی ہے، پروفیسر بن سکتی ہے، وکیل بن سکتی ہے، سیاستدان بن سکتی ہے، مینجر بن سکتی ہے۔ گو کہ عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو ایک مرد کر سکتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ آ ج کی عورت نے یہ سب عملی طور پر کر کے دکھایا اور ثابت کر دکھایا کہ عورت مرد کے شانہ بشانہ کام کر سکتی ہے۔ یہ کہاوت تو آپ نے سنی ہو گی کہ ”کوّا چلا ہنس کی چال ، اپنی چال بھی بھول گیا“۔ایسا ہی کچھ اُن عورتوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جو خود کو مردوں کے کاموں میں تو کامیاب کر لیتی ہیں لیکن ان کی گھریلو زندگی بری طرح سے متاثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ جو اُن کی اپنی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، ایک بہن ، بیٹی ، بیوی اورماں کی حیثیت سے وہ ان کو ٹھیک طریقے سے نہیں نبھا پاتیں۔ جس کی وجہ سے اُن کی گھریلو زندگی میں کئی مشکلات جنم لیتی ہیں۔

آج کل بہت سی این جی اوز اور ٹی وی چینلز عورتوں کو حقوق اور آزادی دلانے کے لئے کوشاں ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ عورت کو اسلام میں بہت بلند درجہ دیا گیا۔ بہت حقوق دئیے گئے ہیں۔ لیکن ہمارا معاشرہ اُسے وہ حقوق نہیں دیتا۔ اُسے شرعی طور پر، قانونی طور پر اپنے حقوق وصول کرنے کا پورا اختیار ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ جس حق کی، جس آزادی کی بات کی جاتی ہے کیا اسلام اُس کی تلقین کرتا ہے؟ آج کی عورت آزادانہ گھومنا چاہتی ہے، اکیلی بازار جانا چاہتی ہے، غیر محرموں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہے(کام کے سلسلے میں کئی دن اور کئی راتیں گھر سے باہر بھی رہنا پڑھ سکتا ہے)، اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرنا چاہتی ہے، ہاتھ میں جھنڈا پکڑ کے روڈ پہ نکل کر جلوسوں میں شامل ہو کر نعرے لگانا چاہتی ہے۔ کیا ایسی آزادی کی اسلام اجازت دیتا ہے؟ کیا ایسی آزادی عورت کا حق ہے؟ یہ آزادی ہے یا آزادی کے نام پہ بے حیائی؟

میں عورتوں کے حقوق کی نفی نہیں کر رہا اور نہ ہی میں اس حق میں ہوں کہ مرد عورت کو اپنی جائیداد سمجھیں اور جیسے چاہیں استعمال کریں۔ عورت کو اسلام نے ہر روپ میں بلند مقام عطا کیا ہے، بیٹی کے روپ میں ”خدا کی رحمت“ بہن ہے تو ”محبت و شفقت“ ماں ہے تو ” قدموں میں جنت“ بیوی ہے تو ”دُکھ سکھ کی ساتھی“۔ گویا ہر روپ میں عورت کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ اگر کہیں عورت کو اُس کے جائز حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہو تو مخالفت کرنی چاہئے اُس کو اُس کا جائز حق دلانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ میں خود بھی ایک این جی او میں پیرا لیگل یوتھ ممبر کی حیثیت سے عورتوں کے حقوق کے ایک پراجیکٹ پر کام کر چکا ہوں۔ مگر آج جو حق کی آڑ میں آزادی کی بات کی جاتی ہے یہ آزادی ، آزادی نہیں بے حیائی ہے۔ خدارا ایسی آزادی نہیں ہونی چاہئے۔ عورت چار دیواری میں ہی محفوظ ہے۔

ہماری ایک بہت بڑی خامی یہ ہے کہ جب ہم کسی کی مخالفت کرتے ہیں تو تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں اور جب کسی کی حمایت کرتے ہیں تو بھی کسی حد کا خیال نہیں رکھتے۔ نجانے ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا دین، ہمارے نبی پاک ﷺ ہمیں میانہ روی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ہم کیوں بے جا مخالفت اور بے جا تقلید پر تل جاتے ہیں؟ ہم نے عورتوں کے حقوق کی بات تو بہت سنی ہو گی، لیکن جو حقوق کی بات کرتے ہیں اُس سے فرائض کی بات بہت کم سنی ہو گی۔ جہاں حقوق ہوں گے وہاں فرائض بھی ہوں گے کیونکہ حقوق و فرائض ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ 14۔ اپریل برور اتوارکو میں کوہِ نور ٹی وی چینل پر ”سارہ الیاس “ کا پروگرام ”بنتِ حوا“ دیکھ رہا تھا۔ اس میں آئمہ محمود صاحبہ عورت کے حقوق اور آزادی کی بات یوں کر رہی تھیں کہ ”ہمارے معاشرے میں عورت کو وہ حقوق،آزادی اور احترام حاصل نہیں جو اُسے اسلام نے دیا۔عورت مرد کی برابری نہیں کر سکتی۔ وہ اپنی مرضی سے جاب نہیں کر سکتی۔ یا تو جاب کرنے سے منع کر دیا جاتا ہے یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر بن جائے یا ٹیچر بن جائے، یعنی اُس میں بھی عورت کی مرضی نہیں جانی جاتی بلکہ مرد (بھائی ، باپ یا خاوند) اُس پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔“

آئمہ محمود کی طرح کی سوچ اور بھی بہت سے لوگوں کی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں عورتوں کو واقع ہی وہ حقوق نہیں دئیے جاتے ، جن کی اسلام نے ہمیں تلقین کی ہے؟ کیا مرد عورتوں پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں؟ سب سے ذیادہ غور طلب اور فکر انگیز بات یہ ہے کہ جس آزادی کی بات آج کی عورت کرتی ہے ، ایسی آزادی کی اسلام اجازت دیتا ہے؟ پہلی بات یہ کہ ” مرد اور عورت کو برابری کے حقوق حاصل ہیں“۔ آئمہ محمود صاحبہ یہ آپ کس اسلام کی بات کرتی ہیں؟ جبکہ خداوند کریم نے واضح طور پر قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ ”اَلرِّجَالُ قَوَّمُونَ عَلَی النِّسَآئِ بِمَا فَضَّلَ اللَّہُ بَعضَھُم عَلٰی بَعضٍ وَّ بِمَا اَنفَقُوامِن اَموَالِھِم “ (النسآء34:4) ترجمہ: مرد سرپرست و نگہبان ہیں عورتوں کے اس بنا پر کے فضیلت دی ہے اللہ نے انسانوں میں بعض کو بعض پراور اس بنا پر کے خرچ کرتے ہیں مرد اپنے مال۔

اس آیتِ مبارکہ سے تین باتیں واضح ہوتی ہیں، پہلی بات یہ کہ مرد کو عورت پر فضیلت حاصل ہے۔جب خدا تعالیٰ مرد کو عورت پر فضیلت عطا فرما رہے ہیں تو مرد اور عورت برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟ دوسری بات یہ کہ مرد عورت کا سرپرست و نگہبان ہے۔ عورت کے جاب کرنے میں کوئی برائی نہیں اگر وہ جاب با پردہ رہ کر کی جاسکتی ہو، کسی نامحرم کے ساتھ ایک پل کی بھی تنہائی نہ ہو، اُس عورت کا باپ، بھائی یا خاوند اس بات کی اجازت دیتا ہو کہونکہ وہ سرپرست ہیں اُس کے ۔ تیسری بات یہ کہ روزی کمانے کی ذمہ داری مرد کی ہے نہ کہ عورت کی۔ اللہ تعالیٰ اُن تمام مردوں اور عورتوں کو سمجھ عطا فرمائیں جو اسلام کے نام پر عورت کی آزادی اور آزادی کے نام پر بے حیائی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اور اُن تمام مردوں کو بھی جو عورتوں کو اُن کے جائز حقوق سے محروم رکھتے ہیںجو اسلام نے عطا فرمائے۔آمین۔

Short URL: http://tinyurl.com/j6wk5y2
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *