عورت کا مقام معاشرے کی نظر میں

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ام حبان، بہاول پور
رات کے اس پہر بچے کو فیڈر دینے کے لئے اپنی دھن میں چلتی ہوئی آرہی تھی کہ کچن کے دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا اپنی بے باک حیا سے عاری نگاہیں اس باپردہ، معصوم، متقی و پرہیزگار پر جماتے ہوئے بولا ”اکثر یاد کرتا ہوں تمہیں، اگر کہو تو چیک پر سائن کردوں جب اور جتنی رقم چاہئیے مجھ سے مانگ لیا کرو،”. کانپتے ہاتھوں سے چولہا جلایا اور دودھ گرم گرم کرنے لگی اور دماغ سے کچھ دیر قبل سنے ہوئے الفاظ جھٹکنے کی کوشش میں کڑے ضبط سے گزری، چہرے کی رنگت ہنوز متغیر تھی مگر برداشت کرنا تھی کہ اس بے حیائی پر مبنی الفاظ کہنے والا شخص رشتے میں خالو ہونے کے ساتھ ساتھ بہن کا سسر بھی تھا اور زبان کھولنے کا مطلب دو گھروں کی بربادی۔یار کیا ادائیں ہیں، کیا شانِ بے نیازی ہے مگر مجال ہے کسی کی پیش قدمی پر بھی ملتفت ہو، جیسے فقرے دفتر میں کام کے دوران کانوں میں پڑتے رہتے ہیں مگر کان لپیٹ کر گزر جانا مجبوری تھی کہ اس کا خاندان معاشی طور پر اس پر انحصار کرتا تھا۔اور اسے اس حقیقت کا بھی بخوبی ادراک تھا کہ اس کے معاشرے میں عورت کے گریز کو بھی اس کی ادا سمجھا جاتا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ خاصی طرح دار ہیں، دل چاہتا ہے اب ہمیشہ بیمار ہی رہوں، آخر کو روز ڈاکٹر صاحبہ کے قریب رہنے کا بہانہ ملے گا، سن کربھی ان سنا کردیا کہ کیا کیا جاسکتا تھااتنی رقم لگا کر مڈل کلاس باپ نے میڈیکل کی تعلیم دلائی تھی۔اور سرکاری ہسپتال کی ملازمت ہاتھ سے جانے کا مطلب ناقابل تلافی معاشی نقصان تھا۔بنک کی رونق ہے جس دن بنک سے غیر حاضر ہوتی ہے بنک میں خزاں کا بسیرا ہوتا ہے، سہہ گئی اپنے یتیم بچوں کے معصوم چہرے نظروں کے سامنے تھے۔دکان دار کو سختی سے منع کردیا شکریہ ہم خود جوتے پہن کر چیک کرلیں گے،مایوس ہوکر دکان دار نے اپنا فون نمبر ایک پرچی پر لکھ کر پرچی بِل کے ساتھ اس کی طرف بڑھادی۔ٹریولننگ ہوسٹس ہے تو بہانے بہانے سے آواز دینا کیونکہ وہ تنخواہ لیتی ہے اس کام کی۔ یار خواتین فیس بک پر ہوتی ہیں تو چھیڑ چھاڑ کا الگ ہی مزہ ہے۔مردوں کے بیمار دل اور دماغ کی عکاسی کرتا یہ وہ مسخ چہرہ ہے ہمارے معاشرے کا یہاں ان مناظر میں موجود سب خواتین مکمل حجاب میں پھر بھی ان کو اتنی بے باکی سے موضوعِ گفتگو بنایا جاتا ہے۔افسوس تو اس بات کا ہے ہماری عورت اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں، چار دیواری میں بھی ہراساں کیا جاتا ہے عورت کو۔اللہ رب العالمین نے عورت کو پردے کا حکم دینے سے پہلے مرد کو پردے کا حکم دیا ”مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں۔ یہی ان کے لئے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالیٰ سب سے خبردار ہے۔”سورہ النور (30۔31) ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کوظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہو۔”مردوں کے نام ہمارا پیغام عورت کی عزت اس کا احترام اس بات کا پتہ دیتی ہے آپ کے گھر میں ایک عورت ہے جس نے آپ کو اپنے خون سے سینچ کر، اپنی چھاتی سے نکلتا دودھ پلا کر، اس میں اپنی تربیت کا رنگ ڈال کر پروان چڑھایا ہے خدارا اس تربیت کی لاج رکھیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/y3cexm7n
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *