عمرہ کی تربیت کیوں اور کیسے ؟۔۔۔۔ تحریر: ڈاکٹر خالد محمود ، راولپنڈی

Dr. Khalid Mehmood
Print Friendly, PDF & Email

حج اور عمرہ پر جانے والے اللہ تعالی ٰ کے مہمان ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کا وعدہ ہے کے میرے گھر آؤ اور آئندہ زندگی اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات پر چلنے کا وعدہ کرو تو میں تم کو اسی وقت کر ایسے واپس بھیجوں کا جیسے ایک بچہ با لکل معصوم اور گناہوں سے پاک پیدا ہو تا ہے اللہ تعالی نے ہماری زندگی میں ہی اپنے گناہ معا ف کروانے کا موقع دے دیا ہے اور ہمیں اس کا بھرپور فائدہ اٹھا نا چاہیے جب آپ عمرہ کر کے واپس آئیں تو آپکو اپنے اندر اور دیکھنے والوں کو بھی آپکے اندر ایک واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے کہ یہ اللہ کا بند وعمرہ کر کے آیا ہے تو یہ پہلے جیسا نہیں ہے اسکے قول و فعل میں کچھ تبدیلی نظر آرہی ہے اور یہی آپکے عمرہ کی قبولیت کی نشانی ہے لیکن اگر بندہ جس طرح گیا تھا ویسا ہی واپس آگیا جو کام پہلے کرتا تھا واپس آکر بھی وہی کام کر رہا ہے تو پھر ایسے عمرہ کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ باقی ماندہ زندگی کو اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات پر انکی خوشنودہ حاصل کریں اور اپنے لیے جنت کو پکا کریں۔
عمرہ کی عبادت روز مرہ کی عبادت نہیں ہے اس لیے عام طور پر لوگوں کو اس بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا روز مرہ کی عبادات نماز ، روزہ اور زکوٰۃہے اس کے بارے میں سب کو علم ہوتا ہے لیکن عمرہ ہزاروں کلو میٹر دور سعودی عرب میں جا کر ہوتا ہے اس لیے عام طور پر لوگو ں کو اس بارے میں زیا دہ پتہ نہیں ہوتا ۔ حج اور عمرہ سیکھنے کے بارے میں تو قرآن شریف میں بھی آیا ہیللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ وَاَرِنَامَنَا سِکَنَا (القرآن) یعنی اے ہمارے رب ہمیں حج کے طریقے بھی یعنی مناسک بھی سکھا دے۔حضور پاک ؐ نے ارشاد فرمایا تھا، خُذُوْاعَنّیِ مَنَاسِکَکُمْ (ارشادِ نبوی)۔ یعنی مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو۔
جب یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے تو پھر حج اور عمرہ سیکھ کر جانا ہمارے لیے فرض اور واجب ہو جاتا ہے ۔
حج اور عمرہ اسلام کے بنیادی ارکان میں شامل ہے لیکن ہمارے نصاب تعلیم میں اس بارے میں کوئی مضمون وغیرہ نہیں رکھا جاتا ۔ حالانکہ چاہیے تو یہ کہ جس طرح ابتدا ئی تعلیم سے ہی کلمہ ، نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کے بارے میں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے اسی طرح حج و عمرہ کے بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔
عازمین عمرہ کی اکثریت مناسک عمرہ کی مکمل سمعی و بصری تربیت لئے بغیر ہی عمرہ پر روانہ ہو جاتی ہے۔ زیادہ تر عازمین عمرہ مناسک عمرہ کی تر بیت حاصل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ہیں ۔ عمرہ سے واپسی پرچلتا ہے کہ مناسک عمرہ کی ادائیگی کے دوران لاعلمی کی بنا پر بہت سی غلطیاں سرزد ہو گئیں ہیں اور کئی مناسک ادا نہ ہو سکے اور نہ ہی ان غلطیوں کا دم یا کفارہ ادا کیا گیا۔ اس طرح ان کا عمرہ ناقص رہ جاتا ہے۔ پہلی بار عمرہ پر جانے والے مرد اور خواتین کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب روانگی سے قبل مناسک عمرہ کی ادائیگی کی سمعی و بصری تربیت لازمی لیکر جائیں تاکہ ان کا عمرہ صحیح طور پر ادا ہوسکے ۔عمرہ کے منا سک سیکھنا انتہائی ضروری ہیں۔
لوگوں کا عام طور پر خیال ہوتا ہے کہ ہم جس ایجنٹ کے ساتھ جا رہے ہیں وہ ہمیں عمرہ کروا داے گا یا ہمارے گروپ میں کوئی حاجی صاحب ہیں وہ ہمیں کرا دیں گے یا سعودی عرب میں ہمارے دوست رشتہ دار ہیں وہ آکر ہمیں عمرہ کرا دیں گے لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے ہر ایک کو
اپنا اپنا عمرہ خود ادا کرنا ہو گا وہاں کوئی کسی کو عمرہ نہیں کراتا ہے اور نہ کوئی انگلی پکڑ کر کہے گا کہ آؤ میرے پیچھے پیچھے میں عمرہ کراتا ہوں۔ اب عمرہ کیسے ہو گا؟۔ عمرہ کے متعلق پتہ ہوگا تو عمرہ ادا ہوگا ۔ عمرہ کے فرائض واجبات پتہ ہو ں گے تو عمرہ ہوگا جس طرح نماز میں ، وضو میں فرائض اور واجبات ہوتے ہیں اسی طرح عمرہ میں بھی فرائض اور واجبات ہیں۔عمرہ کا فرض چھوڑ دیں گے یا غلط ادا کریں گے تو عمرہ ادا ہی نہیں ہو گا ۔ اگر واجب غلط ادا کریں گے یا چھوڑ دیں گے تو پھر جرمانہ دینا ہو گا جس کو دم کہتے ہیں اور وہاں پر ایک بڑی غلطی کا دم ایک بکرے کی قربانی ہے اور وہ بھی حدود حرم میں ۔
عمرہ پر جانے کے لیے احرام ، کپڑے ، جوتے اور بیگ وغیرہ خریدنا کوئی تیا ری نہیں ہے اصل تیاری وہ ہے کہ جو عبادت آپنے وہا ں جا کر کرنی ہے اسکے متعلق آپکو مکمل معلومات اور آگاہی ہونی چاہیے اگر باقی کاموں مثلا رہائش، سفر ، اور کھانے پینے میں کچھ کسر راہ جائے تو اس کا کوئی حرج نہیں ہے لیکن عمرہ کے منا سک اور ادایگی میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ عازمین عمرہ کی تربیت کے لئے عمرہ سیزن میں حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر مناسک عمرہ کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا۔ عازمین عمرہ کی تربیت بھی اتنی ہی لازمی اور ضروری ہے جتنی کہ عازمین حج کی۔

Short URL: http://tinyurl.com/hpgjqpl
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *