عدم توجہ۔۔۔۔ شاہد شکیل

Shahid Shakil
Print Friendly, PDF & Email

دنیا میں بیشتر افراد بالخصوص بچے اور نوجوان طبقہ عدم توجہ(اٹینشن ڈیفیسٹ ہائپر ایکٹیویٹی ڈِس آرڈر) جیسے مرض میں مبتلا ہیں یہ کوئی بیماری نہیں جس پر ریسرچ کی جائے محض انسانی ذہن کا فتور ہے جو منجمند نہیں رہتا بلکہ ہر سیکنڈ میں سوچ تبدیل کرتا رہتا ہے
لیکن کسی بھی بات کو سننے اور سمجھنے کیلئے توجہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے اورانسان عدم توجہ کا شکار دو صورتوں میں ہوتا ہے یا تو اسکی سماعت کمزور ہے یا موضوع غیر دلچسپ،اور دونوں صورتوں میں کئی بار اہم اور ضروری بات کو نظر انداز کرنے پر نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
جرمنی کے وفاقی سینٹر رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ برائے بچے ،نوجوان،صحت اور تعلیم نے بچوں اور نوجوان طبقہ میں پائی جانے والی عدم توجہ پر تحقیق کی اور حالیہ رپورٹ میں چند مفید مشورے اور تجاویز پیش کیں جنہیں جرمنی کے ایک معروف میگزین نے شائع کیا جس میں بتایا گیا کہ توجہ کی محرومی کوئی بیماری نہیں ہے اکثر بچے آرام سے نہیں بیٹھ سکتے اور مختلف حرکات سے اپنے آپ کو مصروف رکھنے یا اپنی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتے ہیںیا انہیں کسی بات کی طرف مرکوز کرنے اور سمجھانے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ چند بچے ہائپر ایکٹی ویٹی کا شکار ہوتے ہیں اس مرض پر طویل عرصے سے تشخیص کی جارہی ہے تاہم مکمل طور پر حل دریافت نہیں ہو سکا کہ بچے اور نوجوان کیوں توجہ کی کمی سے دوچار ہیں،ہر بچے کی سوچ اور صلاحیت دوسرے بچے سے مختلف ہوتی ہے جو پیدائشی طور پر ان میں پائی جاتی ہے تاہم کچھ بچے جارحانہ انداز کا استعمال کرتے جبکہ کچھ بچے نرم دل اور صلاحیتوں سے مالا مال ہوتے ہیں۔
اسباب۔محرکات۔خطرات۔کیوں چند بچے اور نوجوان ہائپر ایکٹیویٹی کا شکار ہیں؟اس بارے میں آج تک مکمل طور پر کوئی تحقیق نہیں کی جاسکی لیکن شاید مختلف وجوہات کا اس مرض سے کافی گہرا تعلق اور کردار ہے،مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ توجہ سے محروم بچوں اور نوجوانوں کے دماغ کے کچھ حصوں میں تسلسل کو کنٹرول کرنے کی کمی پائی جاتی ہے جس سے وہ پریشان ہوتے ہیں کیونکہ دماغ اور سوچ میں عدم توازن ہوتا ہے جس سے وہ شدید متاثر ہوتے ہیں اس عدم توازن کی وجہ سے ان کے دماغی فلٹر پر شدید بوجھ پڑتا ہے جس سے غیر مرئی قوت کے حصار یا سوچ میں مبتلا رہنے کی وجہ سے عدم توجہ کا شکار ہوتے ہیں اور عمل درآمد میں دشواری پیش آتی ہے علاوہ ازیں مختلف عوامل اور وجوہات کی شراکت کے باعث ان کی نفسیات میں خلل پڑتا اور اضافہ ہوتا ہے،غیر مستحکم ماحول اور خاندانی مسائل اس مرض کے اہم جز ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے لڑکیوں کی نسبت لڑکے زیادہ متاثر ہوتے ہیں موروثی مرض کے علاوہ وہ خواتین جو دورانِ حمل نکوٹین،الکوحل یا دیگر منشیات کا استعمال کرتی ہیں اس سے بچے کا ذہن شدید متاثر ہوتا ہے اسکی ذہانت میں کمی واقع ہوتی ہے اور بچہ عدمِ توجہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
علامات۔ماہرین کا کہنا ہے ہائپر ایکٹیویٹی چند بچوں میں بنیادی طور پر والدین کی ناقص توجہ اور دیکھ بھال سے بھی عمل میں آتی ہے اور اس مرض کی علامات بچے کے پہلے سات برسوں کے دوران ظاہر ہوجاتی ہے کہ بچے کی سوچ یا توجہ کتنی پائدار ،مثبت اور باصلاحیت ہے یا جارہانہ ہے،بچے کی کم عمری میں اگر اسے منصفانہ ،پرخلوص اور مشفقانہ ماحول نہیں ملے گا تو اس کی صلاحیت متاثر ہوگی کیونکہ گھریلو زندگی بچے کی ایکٹیویٹی ان تمام معاملات سے منسلک ہوتی ہے ،گھریلو زندگی اور ارد گرد کا ماحول بچے کے لئے زیادہ اہم ہے دوسرے مرحلے میں نرسری یا کنڈر گارڈن جانے سے بچے میں پوشیدہ صلاحیت اجاگر ہوتی ہے کیونکہ عمر کے ساتھ ساتھ اس کے دماغی فلٹر کی لہریں سگنل دیتی ہیں جس کی بنا پر وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر مثبت عوامل یا جارہانہ رویے کی طرف ہی مائل ہوتا ہے،مثلاً کھیل کود ،تعمیری کام ،سوشل سوچ کے تحت دوستی کرنا یا جارہانہ رویے سے توڑ پھوڑ اور بے جا ضد کرنا وغیرہ اور دیگر کئی منفی وجوہات کی بنا پر مزید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔
تیسرے مرحلے میں سکول کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے اور اکثر بچے عدم توجہ کا شکار ہوکر مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ہوم ورک اور سکول کے دیگر معاملات پر توجہ نہیں دیتے،سکول اور ہم جماعتوں کا رویہ بھی بچے کی سوچ اور صلاحیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے،لکھنے پڑھنے ، ہندسوں کی پہچان اور دیگر معاملات کم ذہین یا عدم توجہ کے شکار بچوں کیلئے ایک چیلنجز کا مقام رکھتے ہیں کیونکہ گھریلو زندگی کے منفی اثرات سکول میں بھی بچے پر اثر انداز ہوتے اور ڈپریشن کا باعث بنتے ہیں اس پر نفسیاتی دباؤ کے اثرات کا خدشہ تشویشناک حد تک بڑ ھ جاتا ہے خود اعتمادی کا فقدان عمل میں آتا ہے اورانجانے خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔
تشخیص۔ہائپر ایکٹیویٹی کے اثرات کی ابتدا اکثر تین سال کے بچے سے ہوتی ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا جائے تو تا حیات بھی برقرار رہ سکتی ہے،ماہرین کا کہنا ہے کم عمر بچے اکثر مکمل چیک اپ کروانے سے خوفزدہ ہوتے ہیں لیکن صحت کیلئے ہر حربے کا استعمال جاری رہنا چاہئے۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنے میگزین میں بچوں کے ڈاکٹرز سے اپیل کی ہے کہ علامات ظاہر ہونے پر بروقت علاج کیا جائے اور کوئی موقع ضائع نہ ہو،والدین سے تفصیلی گفتگو کو لازم قراد دیا ہے تاکہ دورانِ علاج مزید آسانیاں پیدا ہوں۔
درست علاج کیلئے ڈاکٹرز مکمل چیک اپ کرتے ہیں جس میں سماعت اور آنکھوں کا ٹیسٹ بھی شامل ہیں،ان ٹیسٹس سے ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ بچے میں سماعت یا بصری معذوری کی وجہ عدمِ توجہ تو نہیں ،خصوصی ٹیسٹ میں لکھنے پڑھنے اور دیگر تعلیمی یا غیر تعلیمی ایکٹیویٹی بھی شامل کی جاتی ہے کہ بچہ دوران ٹیسٹ کن مواقع یا سوالات میں ذہانت استعمال کررہا ہے اور کن نکات پر عدم توجہ کا شکار ہے یا دلچسپی نہیں لیتااگر ضروری ہو تو سپیشل ٹیسٹ مثلاً دماغ کی لہروں کی پیمائش وغیرہ سے علامات ظاہر ہو جاتی ہیں۔
تھیراپی۔عدمِ توجہ کے علاج کے کئی پہلو اور کیٹا گریز ہیں جن میں میڈیسن کا اہم کردار ہے اور کئی بار ادویات کے بغیر ہی علاج ممکن ہوجاتا ہے تاہم دورانِ علاج والدین، نرسری ،کنڈر گارڈن اور سکول کے درمیان تعاون زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
ادویات سے علاج۔ اس مرض سے نمٹنے کیلئے جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں ان میں مختلف اجزء اور مرکبات شامل ہوتے ہیں مثلاً ریٹالین ،آٹو موکسٹائن وغیرہ جو دماغ اور جسمانی ہارمون میں توازن برقرار رکھنے ،پرسکون اور توجہ پر مرکوزرکھنے کیلئے مفید ہیں،تاہم ان ادویات کے سائڈ ایفیکٹ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مثلاً بھوک میں کمی ،متلی، چکر آنا ،پیٹ درد وغیرہ یا نیند کی محرومی۔
غیر دواؤں سے علاج۔عدمِ توجہ کے شکار بچے خصوصی امداد کے طلب گار ہوتے ہیں ان کے روزمرہ کے مسائل ،مطالبات اور معمولات سلجھانے کیلئے ملبوسات ،خورد نوش اور ہوم ورک کو احسن طریقے سے انجام پہنچانا غیر دواؤں سے علاج میں شامل ہے،ایک منظم روزمرہ اصول اور پابندی کے تحت معمولات کو حل کرنے میں والدین ہی اہم دوست اور ساتھی کا کردار ادا کرکے بچوں میں چیلنجز ز سے نمٹنے کی قوت پیدا کر سکتے ہیں جس سے بچوں کو خود اعتمادی ،خود مختاری سے اپنی صلاحیتوں کا درست استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے،ان عوامل سے بچوں کی سوچ کا محور بکھرنے کی بجائے قائم رہتا ہے اور عدم توجہی سے رفتہ رفتہ چھٹکارا حاصل ہوتا ہے،والدین کا فرض ہے ان حالات میں بچوں کو تنہا نہ چھوڑیں اور تربیتی پروگرامز کا اہتمام کریں جس سے بچے بغیر کسی خوف یا جھجھک کے حصہ لے سکیں مثلاً مشترکہ طور پر سیر و تفریح ،کھیل کود یا وہ عمل جس سے بچے خوش رہیں اور عدم توجہ ،خدشات یا شک وشبہات میں پڑنے سے متاثر نہ ہوں۔
پاکستان میں بچوں کی تربیت اور صحت پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے اور اسی کمی سے بچے عدم توجہ ،مثبت و تعمیری سوچ سے محروم رہتے ہیں، والدین اکثر اپنی مصروفیات کا بہانہ بنا کر بچوں سے دور بھاگتے ہیں اور انہیں قریبی رشتہ دار ،محلے والے کے حوالے یا گلیوں میں کھلا چھوڑ دیتے ہیں،اور جب تک بچے کو گزند یا تکلیف پیش نہیں آتی اپنی پرسنل زندگی میں تبدیلی نہیں لاتے مثلاً اکثر مائیں اپنے بچوں کو کسی کے حوالے کرنے بعد من پسند ٹی وی سیریل میں دل بہلاتی ہیں اور والد حضرات اپنے دوستوں میں بیٹھ کر رات گئے تاش کھیلتے ہیں، اور ایسے والدین کے درمیان اکثر جھگڑا ہوتا ہے ایسے والدین ہی لاعلمی میں اپنے بچوں کی صحت و تربیت میں دراڑوں اور روکاوٹوں کا آغاز کرتے ہیں،والدین کو چاہئے روزمرہ زندگی کووقت کی پابندی ، اصول اور منظم طریقے سے بسر کرنے میں اہم کردار ادا کریں اور بچوں کو مثبت اور تعمیری عمل سے روشناس کرائیں تاکہ انکی صحت ، تربیت اور مستقبل پر منفی اثرات نہ پڑیں۔ماہرین کا کہنا درست ہے کہ بچے پہلے مرحلے میں گھریلو اور دوسرے مرحلے میں ماحول کا شدید اثر لیتے ہیں اور انہی وجوہات کی بنا پر عدم توجہ کا شکار ہو جاتے ہیں جو انکے مستقبل اور زندگی کیلئے شدید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/haqae8w
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *