شہیدوں کا افسوس اور پانی جیسا خون

ahmar-akbar
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: احمر اکبر، بوریوالہ

ہم مسلمانوں کا کعبہ اور قبلاء ایک ہونے کے باوجود ہمارے کئی فرقے ہیں ،ہم زبان ،ذات اور علاقوں کے علاوہ بھی ایک پہچان رکھتے ہیں وہ ہے ہمارا مسلک،
ہم اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے ہیں ، کفر کا فتویٰ لگا کر ان کا قتل عام کر کے جنت میں حوروں کے لالچ میں خوکش دھماکے کرتے ہیں اور دھماکے کے فوراً بعد پورا ملک دو دن سوگ میں ڈوب جاتا ہے۔ سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی جاتی ہے پکڑ دھکڑ شروع کر دی جاتی ہے ۔ہم ریلیاں نکالنے کو ترجیح دیتے ہیں ہم شہیدوں کے خون پر سیاست کرنے کو ایک ہنر سمجھتے ہیں ، ہم وقت سے پہلے آنی والی اطلاع پر کان نہیں دھرتے اس کے بعد پورے ملک میں ایمرجنسی نافد کر دیتے ہیں ۔ہم ایک اچھے اور سچے مسلمان ہیں جو حوروں کی لالچ میں اپنے ہی بہن بھائیوں کو بم سے اڑانے میں بھی اپنی جیت تصور کرتے ہیں .
پاکستان میں حالات بہت بہتر ہو چکے تھے سابقہ آرمی چیف صاحب نے بلا کسی تفریق کے ان مسلح دہشت گردوں کے خلاف اپنے مشن کو کامبابی سے ہمکنار کیا تھا مگر ہم سمجھے تھے شاید ہمارے ملک سے تخریب کاری ختم ہو چکی ہے ہمارا ملک اب دہشتگردی سے پاک ہو چکا ہے مگر ایک ہی ہفتے میں پورے پاکستان کو نشانہ بنانے والی دہشتگرد تنظیموں نے نہ صرف ہماری سیکورٹی کا پول کھول دیا ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ وہ ابھی بھی تازہ دم گھات لگاے بیھٹے ہیں سکولوں کی دیواروں کو اونچا کرنے سے دہشتگردوں کی کاروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ کراچی میں گینگ وار کا خاتمہ کرنے سے بھی ہمارا یہ مسلہ ابھی تک ویسے کا ویسا ہے کیونکہ ہمارے سیاستدانوں کے پاس اپنے ذاتی معملات کے لیے تو وقت ہے مگر ملک میں موجودہ بحران کی فکر کسی کو نہیں ہے۔
دہشتگردوں نے سیہون میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی درگاہ کو نشانہ بنایا جو 8 سو سال سے برصغیر اور خصوصاً سندھ کے عوام کے لیے فیوض و برکات کا مرکز رہی ہے۔ سندھ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کا اصل نام سید عثمان مروندی تھا ان کی ولادت 538 ہجری بمطابق 1143 عیسوی آذر بائیجان کے علاقے مروند میں ہوئی۔ لعل شہباز قلندر مشہور صوفی بزرگ، شاعر اور فلسفی تھے، ان کا تعلق سلسلۂ سہروردیہ سے تھا، سندھ کے شہر سیہون شریف میں واقع ان کا مزار سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے جو 1356ء میں تعمیر ہوا، جسے آج دہشت گردوں نے نشانہ بنایا۔ اس درگاہ پر ہر شام رش ہوتا ہے، لیکن جمعرات کی شام رش کچھ زیادہ ہی تھا، دھماکا درگاہ کے اندرونی گیٹ پر ہوا جس وقت درگاہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔دھماکے کے بعد ہر طرف افراتفری کا عالم تھا، زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال تک پہنچانے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اردگرد طبی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔ رات کا اندھیرا ہونے کےباعث ریسکیو کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
لاہور دھماکے کے بعد اپنی موم بتی مافیہ روڈ پر آنے کی کوشش کر رہا تھا کہ دشمنوں نے ہماری کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوے سہون شریف میں دھماکہ کر دیا اور اس دھماکے میں 100 لوگ اب تک شہید ہو چکے ہیں اور بہت سے زخمی بھی ان میں شامل ہیں۔
ان شہدا میں ایک وہ کمبخت کمینہ بھی شامل ہے جو حوروں اور پیسے کی لالچ میں ایک عظیم ہستی کے مزار کی بے حرمتی کرنے کے علاوہ انسانی جانوں کا بھی قاتل ہے اس کی دہشت گرد تنظیم کو اگر لگتا ہے کہ وہ ہزاروں گھروں کو اجاڑ کر اب جنت میں حوروں کے درمیان بیٹھا ہو گا تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے ۔
ایک بےقصور انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور اس قتل میں تمام تخریب کاروں کے علاوہ وہ تمام لوگ بھی برابر کے شریک ہیں جن کے ذمے سیکیورٹی کے انتظامات تھے ۔ہم کیوں پورے ملک کا انحصار فوج پر کرنے لگ چکے ہیں ہم کیوں سوچتے ہیں ؟
کیا ان دہشتگردوں کا مقابلہ صرف فوج کرے گی ؟
ہم کیوں نہیں اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ؟
ہمارے ادارے کیوں اپنا اپنا فرض ادا نہیں کرتے ؟
ہم کیوں دوسرے ملکوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہمارے مسلے حل کریں ؟
دہشتگردی پاکستان کا اندرونی مسلہ ہے اور اس کا حل بھی ہم سب کو کرنا ہے ہم اکیلی فوج کے ذمے ڈال کر خود آرام کی نیند سوتے ہیں فوج پکڑ کر پھانسی دیتی ہے تو فوجی عدالتوں کا بھی بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے ۔ ہم سب افسوس کے علاوہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے عملی طور پر کب سامنے آئیں گے ؟
ہم کب ایک ریلی اور افسوس کے لیے تعزیتی کانفرنس کے علاوہ اپنی اپنی درخواست حکومت کو دیں گے تاکہ حکومت کوئی ٹھوس کاروائی کے لیے مجبور ہو جاے ؟
افسوس کرنے سے ۔۔۔ اپنی ڈی پی تبدیل کرنے سے دہشت گردی ختم ہونے والی نہیں ہے اس کے لیے پوری عوام ایک جان ہو کر ایک آواز ہو کر ہڑتال کرنے کی بجاے اپنی مدد آپ کے تحت کوئی طریقہ نکالیں اور دنیا کو بتائیں ہم مسلمان ہیں ہم شیعہ ،سنی،دیونبدی اور فلاں فلاں نہیں ہیں ہم بس مسلمان ہیں ہمارا ایک قرآن ہے ایک کعبہ ہے ایک نبی ہے ایک خدا ہے اور ہمارا مسلک مسلمان ہے ۔پھر ہم اپنے اندر آرام سے ایسے خارجی عناصر کو تلاش کر سکیں گے جو اپنے مقصد کے لیے اولیا اللہ کے مزارات کو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں آتے ۔
میرے اور آپ کے افسوس کرنے سے نہ کسی ماں کا بیٹا واپس آے گا، نہ کسی کا شوہر، نہ کسی بہن کا بھائی اور نہ یتیم ہونے والے بچوں کا باپ آے گا تو براے کرم احتجاج کا طریقہ بدل لو ۔ہماری لاشوں پر سیاست مت کرو ۔ہر ٹی۔وی پر آپ کے افسوس کا ٹکر چل جانے سے کسی کے گھر کا ماتم کم نہیں ہو گا اس کا حل کریں ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ایک ہو کر کاروائی کریں اپنی سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر ملک پاکستان کے لیے کوئی موثرکام کریں کیونکہ ہم سب کی پہچان پاکستان ہے اگر اس کا امن خراب ہو گیا تو کوئی وزیر ،کوئی مشیر ،کوئی بیوروکریٹ ،کوئی سیاست دان نہیں رہے گا کیونکہ ہم سب کی یہ عزت پاکستان کی بقا سے ہے اب ایک ہونے کا وقت ہے پاکستان فوج کا بھی ساتھ دیں اور ان دہشت گردوں کو بتا دیں ہمارا خون پانی نہیں ہے ہم لاوارث قوم نہیں ہیں ۔
شہیدوں پر افسوس کی بجاے ان ظالموں کو بتا دیں ہمارا خون پانی نہیں ہے ہم ہر قطرے کا حساب لیں گے


Short URL: http://tinyurl.com/y8l33lhz
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *