شعور اور سمجھ۔۔۔۔ محمد رضوان خان

Muhammad Rizwan Khan
Print Friendly, PDF & Email

چند سال پہلے کی بات ہے ایک مایہ ناز ٹی وی اینکر نے واپڈا کے ایک لائن مین کو کراچی کی ایک شاہراہ پر گھیررکھا تھا ۔ لائن مین بے چارے کی حالت کیمرہ اور مائیک دیکھ کر انتہائی غیر ہورہی تھی اوپر سے اینکر صاحب چنگیز خان بنے ہوئے تھے اور باربارجلال میں ایک ہی سوال دہرارہے تھے ۔ تم نے اس علاقے کی بجلی بند کی ہوئی ہے جواب دو کس کے حکم پر تم نے ایسا کیا ۔ لائن مین کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جا رہا تھا ۔ کیمرے کے سامنے تو ہمارے اسمبلی ممبرز کی گھگھی بند ھ جاتی ہے یہ تو پھر بے چارہ کمزور سرکاری ملازم تھا ۔ خیر چند منٹ یہ شو چلتا رہا ۔ اینکر صاحب نے کافی دیر شیر کی مانند اسے دبوچے رکھاپھر نیم مردہ کرکے چھوڑ دیا اور بڑی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ واپس اپنے ویورز کی طرف متوجہ ہوئے ۔ میں بڑا ہنسا کہ یا تو ان اینکر صاحب کو معلوم نہیں کہ بجلی منقطع کرنے کے احکامات کون دیتا ہے ۔ ان پر عمل درآمد کہا سے کیا جاتاہے۔ اس بے چارے لائن مین کا تو دور تک اس عمل میں کچھ لینا دینا ہی نہیںیہ اس کی ڈیوٹی ہی نہیں۔ لوڈ شیڈنگ کا شیڈول تو ایک الگ ڈپارٹمنٹ کے پاس ہوتاہے ۔ اگر ان اینکر صاحب کو واپڈا کے ذیلی اداروں کے کام کرنے کا طریقہ کار معلوم بھی تھا تب بھی وہ اس بے چارے اہلکار کو مفت کا رگڑا لگارہے تھے جو سراسر ناجائز اور زیادتی تھی اکثر اوقات ٹی وی پر ہڑبونگ میں جو خبریں اداروں کے متعلق نشر کی جارہی ہوتی ہیں وہ نا مکمل اور ادھوری ہوتی ہیں قصور رپورٹر حضرات کا بھی نہیں کہ انہوں نے جو دیکھا دکھا دیا جو سنا وہ بول دیا۔ آگے سنٹر نے بھی اس کو جیسے موصول ہوا ویسے ہی نشر کردیا ۔ابھی حال ہی میں NA-149کے الیکشن والے دن ایک صاحب نے مجھے کال کی اور بڑے غصیلے انداز میں پوچھا کہ آپ ووٹ ڈالنے اپنے آبائی شہر نہیں گئے میں نے جواب نفی میں دیا ۔وجہ پوچھی تو انہوں نے خاصے غصے میں کہا کہ کیا آپ ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے ۔میری ہنسی چھوٹ گئی میں نے ان کے نالج میں اضافہ کیا کہ حضور غصہ جانے دیں یہ ضمنی الیکشن ہے جو چند مخصوص حلقوں میں ہورہے ہیں نہ کہ پورے ملک میں اس پر وہ صاحب ذرا ٹھنڈے ہوئے ۔ شعور اپنی جگہ پر لیکن ان کی تعلیمی قابلیت کے خانے میں ماسٹر ڈگری درج ہے اور ویسے بھی خیر سے پڑھنے پڑھانے کے شعبے سے منسلک ہیں۔ یہ تو خیر ایک عام شہری تھے اب ذرا نامور اینکر اور کالم نگار طلعت حسین صاحب کی باتیں ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ انہوں نے ملتان کے الیکشن اور ووٹر ٹرن آؤٹ کے بارے میں خاصہ پر مغز تجزیہ کیا ان کی معلومات یا تو ادھوری تھیں یا پھر ان کو جس نے جو بتایا انہوں نے اسے من و عن اپنے تجزیے میں شامل کرکے کالم بنا دیا ۔ان کا خیال تھا کہ اگر تحریک انصاف کا تبدیلی کا دعوی سچ ہے تو پھر ملتان میں ووٹر ٹرن آؤٹ کیوں اتنا کم تھا۔ تو جناب ضمنی الیکشن کے حوالے سے ایک لاکھ کے لگ بھگ ووٹ کاسٹ ہونا ایک انوکھی بات تھی اکثر جگہوں پر تو یہ کھیل پندرہ بیس ہزار سے آگے نہیں جا پاتا دوسری بات اکثر لوگوں کو تو اپنے حلقے کی حدود کا ہی پتا نہیں ہوتا ۔ بہت سے لوگ جن کاووٹ ہی اس حلقے میں نہیں ہوتا جوش جذبات میں ووٹ ڈالنے پہنچ جاتے ہیں اور اکثر لوگ جن کا ووٹ اس حلقے میں درج ہوتا ہے وہ لا علم ہوتے ہیں ۔ تیسری وجہ الیکشن والے دن بھلے ہی اس حلقے میں چھٹی کا اعلان کردیا گیا لیکن بہت سارے ووٹرز جو دوسرے شہروں میں ملازمت یا کاروبارکی غرض سے مقیم ہوتے ہیں ان کو چھٹی کی سہولت بھی میسر نہیں ہوتی لہذا وہ ووٹ کاسٹ نہیں کر پاتے ۔ قصور طلعت صاحب کا بھی نہیں کیوں کہ ان کو شائد وہی چیزیں نظر آرہی تھیں جن کو وہ دیکھنا چاہ رہے تھے۔ اس کے علاوہ بھی ان کی بہت سی باتیں مضحکہ خیز تھیں ان پر بات کرنا فضول ہے جب تک کہ ان کی عینک تبدیل نہیں ہوجاتی۔
ایم پی اے اور ایم این اے حضرات کے شعور اور سمجھ کے حوالے سے تو ان گنت واقعات آئے روز خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔جہاں وزیراعظم صاحب کی قابلیت کا یہ عالم ہو کہ وہ چار لائنیں فی البدیہی نہ بول سکتے ہوں وہاں ان کے پیچھے باقی کنبہ جس طرح کا ہوگا وہ سمجھنا کچھ خاص مشکل نہیں۔ خالی ووٹ لے لینے سے وہ بھی ایسے ووٹ جو کہ ریکارڈ میں مل ہی نہیں رہے عوام کے مسائل کا حل نہیں ہو جاتا ۔ میں بہار کے سابق وزیراعلی صاحب کے کارناموں کا ذکر پڑھ رہا تھا ۔ جن کے چھوٹے میاں صاحب بھی بڑے مدا ح ہیں۔ میں جوں جوں بہار کے صوبے میں ان صاحب کی لائی ہوئی تبدیلیوں اور اصلاحات کو پڑھتا گیا میرے اندر اضطراب بیدار ہوا کہ ایسے کارنامے انجام دینے والے صاحب کی تعلیمی قابلیت جاننا ازبس ضروری ہے ۔ کافی کھنگالنے کے بعد معلوم پڑا کہ وہ صاحب انجینئر ہیں۔ کرپشن کے علاج کے لئے اقدامات سے پہلے انہوں نے اپنے تمام اثاثے جو کہ ایک گھر ایک آلٹو کار چند ہزار بینک بیلنس تھے انٹر نیٹ پر پورے ملک کے سامنے ظاہر کئے اس کے بعد کرپشن کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کیا تو حضور ان کا نام لینے اور ان کی تعریف کرنے سے دل تو ضرور خوش ہو سکتا ہے لیکن عوام کے دکھ درد دور نہیں ہوسکتے ۔ یہاں تو دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر ایم این اے اور ایم پی اے بس ایک ہی کام پر اپنے ہرکارے لگائے لگتا ہے کہ کوئی فوت ہوجائے جہاں بڑا جنازہ ہونے کا چانس ہو تو فورا اطلاع کی جاوے اگر کوئی صاحب حیثیت شادی کر رہا ہوتو مجمع کی تعداد کا اندازہ لگا کر شمولیت کا کارڈ حاصل کیا جاوے ۔پٹرول پمپ کا افتتاح ہو تب بھی حاضری دی جائے اس کے علاوہ مقامی انتظامیہ جو بھی تعمیر کروائے اس کے افتتاح کے لئے افسران کو دعوت نامہ بھیجنے اور تختی لگانے پر مجبور کیا جائے۔ ایک جگہ تو حد ہی ہوگئی میرے ایک دوست نے اپنے پرائیویٹ سکول کی دوسری برانچ شہر سے ذرا دور دیہی علاقے میں کھولنے کا ارادہ کیا اس کا پروگرام تھا کہ شہر کی کسی مشہور ادبی شخصیت کو برانچ کی افتتاح کے لئے بلائے گا ۔لیکن مقامی ایم این اے صاحب پیچھے پڑ گئے کہ ان کے چھوٹے کو دعوت دی جائے اور افتتاح اس سے کروایاجائے ۔ تقریر کے شوق میں چھوٹے نے تقریب میں وہ گل کھلائے کہ مزہ آگیا ۔ عوام ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتی رہی اور چھوٹا سمجھتا رہا کہ اس کی تقریر کا عوام سواد لے کر داد دے رہے ہیں۔ کیا وقت نہیں آگیا کہ ہم اس ملک کے ساتھ مذاق کو بند کرکے صوبہ بہار کی خالی مثالیں دینے کی بجائے ویسی ہی قابلیت کے حامل افراد کو وزیر اعلی اور وزیر بنانے کا ارادہ کریں ۔اچھے پڑھے لکھے افراد کوٹکٹ دیں یہ اقدامات آخر کار کرنا ہی پڑینگے کیوں کہ بلٹ ٹرینوں کے دور میں آخر ہم کب تک چھکڑوں کواکاموڈیٹ کرتے رہیں گے۔ ہم کب تک عقابوں کے مقابلے میں الو اڑاتے رہیں گے ۔آخر کب تک ہم سیلابوں کا مقابلہ شہروں اور شہریوں کے ساتھ کرتے رہینگے۔

Short URL: http://tinyurl.com/zrbblch
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *