سیاسی جوتے

Print Friendly, PDF & Email

شینا زبان میں جوتے کے لیئے اردو کا لفظ پیزار یا بوٹ استعمال کیا جاتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس کے لیئے کسی شینا لفظ کا انتخاب کیا جائے تو اس کے لیئے میں شینا لفظ تھوٹی لکھنا اور کہنا پسند کرونگا ۔یہی تھوٹی ہمارے پہلے وقتوں کے جوتے ہوا کرتے تھے ۔غالباً یورپ میں بھی ۱۸۳۹ سے پہلے جوتے کا استعمال نہیں تھا شائد وہاں بھی یہی تھوٹی ہی جوتوں کے متبادل تھے۔ جوتے کا استعمال ۱۸۶۰ کے لگ بھگ دیکھنے میں آتا ہے جب پہلی بار پلاسٹک کے جوتے بننے شروع ہوئے ۔یہ جوتے بھی عجیب شے ہیں جو پائوں کی حفاظت سے لیکر بیماری کے علاج تک استعمال ہوتے آئے ہیں ۔جدید دور میں اگر جوتوں کی بات کی جائے تو جوتوں کا جو فائدہ آج انسان اٹھا رہا ہے اس کی مثال پیش کرنی مشکل ہے ۔ برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں جوتوں کی عظمت کا بھی پتہ چل جاتا ہے کیونکہ ایک زمانے تک یہاں لوگ غربت اور پسماندگی کے باعث ننگے پیر چلتے تھے اور جوتے پہنے ہوئے امیر لوگوں کو خوش قسمت سمجھتے تھے ۔اسی بات سے بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ جوتے واقعی کمال کی چیز ہے ان جوتوں کا کمال تو دیکھئے کہ برصغیر میں پرانے وقتوں سے لیکر اب تک مرگی کے مرض کا علاج جوتے سونگھا کر ہی کیا جاتا ہے اور پاکستان میں ہر پانچ سال یا چار سال بعد سیاسی مرگی کا مرض لاحق ہو جاتا ہے تو علاج کے لیئے جوتے ہی استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔واہ رے جوتا کیا کہنا تیرا ایک وہ وقت تھا۔جب تجھے ہم پائوں کی جوتی اور ناپاکی کی علامت سمجھتے تھے اور دہلیز تک تیرا مقام تھا لیکن آج یہ دور ہے کہ تیرا شمار قیمتی اور فیشن ایبل چیز میں درج ہوا ہے اور تو سب سے مہنگا اور قابل رشک بن چکا ہے تیری سیاسی ولیو اتنی بڑھ چکی ہے کہ انسان اپنے جوتے سے زیادہ دوسروں کے جوتے کی حفاظت پر معمور ہونے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ایسے میں جوتوں کے محاورے یاد نہ آئیں تو کیا یاد آئے میری جوتی کہنے والے شاز و نادر ہی پائے جاتے ہوں، جوتیوں کے صدقے دینے والے وافر میں ملتے ہیں اور اب تو حال یہ ہے کہ جو جوتیاں سیدھی اور نہیں اٹھائے گا وہ ہماری طرح صرف کالم لکھ کر جوتے ہی توڑے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سارے محاورے ہیں جو جوتوں کے بارے کہے گئے ہیں لیکن ان سے ہمارا لینا دینا نہیں ہمیں تو بس جوتے سیدھے اور جوتے اٹھانے کا محاورہ بھا گیا ہے ۔جوتے اٹھانا اور اور جوتے سیدھے کرنا کا کیا مطلب ہے اس سے سبھی واقف ہیں ۔جوتے سیدھے کرنا اور اٹھانا ہماری روایات میں ہے۔ہم نے انگریز افسروں سے لیکر پاکستانی افسروں تک سب کی جوتیاں سیدھی کی ہیں۔اور خدا کے فضل و کرم سے اب تک اپنی روایت سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں ۔بس ہم نے جوتے نہیں اٹھائے ہیں ہیں تو اپنے والدین کا اپنے بھائیوں کا اور اپنے محسنوں کا اور اپنے اساتذہ کا جس باعث ہمیں اب ہر قسم کے جوتے اٹھانے پڑ رہے ہیں۔ہر قسم سے دل چاہتا ہے کہ جوتوں کی اقسام کا بھی ذکر چھیڑوں لیکن پھر خیال گزرتا ہے کہ جوتوں کی اتنی اقسام اب مارکیٹ میں ہے کہ جن کا احاطہ بڑا ہی مشکل ہے ۔اتنا عرض کر دوں کہ آج کل سیاسی جوتے کی مانگ زیادہ ہے اور پاکستانی سیاست میں ان سیاسی جوتوں کی بڑی مانگ ہے اس لیئے سیاسی جوتے اٹھانے والوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہی دیکھنے میں آتا ہے اور اس میدان میں جو جتنا زیادہ جوتے سے محبت اور اسے اٹھا کر اپنے سینے سے لگا کر اسے پیار کرے گا وہی کامیابی سے ہمکنار ہوگا اس لیئے جوتے اٹھانے کے فعل کو علمی نقطہ نگاہ سے نہیں بلکہ سیاسی اور پاکستانی سیاست کے حوالے سے دیکھنا ہی بہتر رہیگا۔ ارے کوئی ہے جو میری جوتیاں سیدھے کرے کالم ختم ہونے کو ہے میں نے باہر جانا ہے

 345 total views,  3 views today

Short URL: https://tinyurl.com/y7who3b8
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *