سُود خور اور ڈی پی او میانوالی۔۔۔۔ تحریر: سیدصادق حسین شاہ

Syed Sadiq Hussain Shah
Print Friendly, PDF & Email

سُودی کاروبار کو اسلامی طرزِ معاشرت میں حرام قرار دیاگیاہے۔ یہاں تک کہ سود کے متعلق دستاویزات تیار کرنے والوں کو بھی اس مکروہ دھندے سے دُور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ واضح شرعی احکامات کے باوجود یہ کاروبار روز افزوں ترقی کرتا جارہاہے۔ اب تو ایسا محسوس ہوتاہے کہ لوگ اسے گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کرچکاہے۔
بنک ، مائیکروکریڈٹ کمپنیاں بھی سترہ فیصد شرح سُود پر نقد رقم کے علاوہ پُرتعیش ضروریات زندگی کی مختلف اشیاء جن کے پاس ٹھوس گارنٹی موجود ہوتی ہے کو فراہم کررہی ہیں۔
ایسے افراد جن کے پاس بنک گارنٹی نہیں ہوتی اور وہ ساتھ ساتھ اپنی سفید پوشی کا بھرم بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں، بدقسمتی سے ان انفرادی سُود خوروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں، زمیندار، دکاندار، ٹھیکیدار، ٹرانسپورٹرز اور معززین کی اچھی خاصی تعداد اب ان کے نرغے میں نظر آتی ہے۔
انفرادی سُود کی شرح منافع دس سے بیس فیصد تک ماہانہ ہوسکتی ہے، جو کہ سود لینے والے کی ساکھ اور اثاثہ جات کی مالیت کو مدنظر رکھ کر طے کی جاتی ہے، زرضمانت کے طور پر جائیداد کے کاغذات، سونا، دُکان، مکان، شخصی ضمانت، پرنوٹ اور اسٹامپ پیپرز وغیرہ ضروری ہوتے ہیں۔
سُود خور سے اگر کوئی شخص ایک لاکھ روپے سود پر رقم لیتاہے تو وہ پہلی قسط اسی رقم سے پیشگی نکال لیتاہے۔ تاخیر کی صورت میں عوامی مقامات پر گھیر لیتے ہیں تاکہ بے عزتی کے خوف سے رقم بروقت ادا کرتارہے۔
سُود خور ایک طاقتور مافیا کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ جو تعداد میں قلیل ہونے کے باوجود سماج پر اپنے خونی پنجے گاڑ رہے ہیں۔
یہ اپنے مستقل گاہکوں کو ایک دوسرے پر فروخت بھی کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو ماضی میں منشیات، اسلحہ کی اسمگلنگ، فوجداری مقدمات اور اسی سے ملتی جلتی بعض دوسری سماجی برائیوں میں ملوث رہے ہیں۔
اس کے علاوہ سُود کور مافیا کی فہرست میں ایک اور طبقہ بھی شامل ہے جو بظاہر تو انتہائی شریف، پانچ وقت کے باجماعت نمازی ہاتھ میں تسبیح ، سر پر سفید ٹوپی، ماہ رمضان میں عمرہ کرکے بھی غریب عوام کا فون چوس رہاہے۔ یہ طبقہ کریمنلز سے زیادہ خطرناک ہے اور کئی سفید پوش کاروباری حضرات کو دکانوں اورمکانات سے محروم کرچکاہے۔ سادہ لوح عوام ظاہری وضع قطع کو دیکھ کر دھوکہ کھاجاتے ہیں۔
شرح سُود زیادہ ہونے کی وجہ سے اس ناجائز کاروبار نے اتنی سرعت کے ساتھ کے ساتھ ترقی کی کہ سود خور چند سالوں کے دوران سائیکل سے ویگو اور چھوٹے چھوٹے گھروندوں سے عالی شان کوٹھیوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔ اب یہ معززین میں شمار ہونے لگے ہیں۔ کروڑوں روپے کا کالادھن جمع کیا لیکن سرکار کو ایک روپیہ ٹیکس نہیں دیا۔ یہ تمام چیزیں جن کا ذکر ہو رہاہے ریکارڈ پر ہیں۔ جانچ پڑتال کے بعد مزید انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔
بعض زمیندار اور کاروباری حضرات اپنی ساکھ بحال رکھنے کے لیے سُود پر رقم حاصل کر لیتے ہیں جن کی وج ہسے ان کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں اور وہ کیش اکانومی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
جس طرح کے حالات پیدا ہوچکے ہیں، اب وہ دن دُور نہیں جب بڑے بڑے سیاسی فیصلے سُود خوروں کے ڈیروں پر ہوا کرینگے۔
جیسا کہ دُنیا کے بعض ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں سیاسی پراٹیوں کی انتخابی مہمات پر سرمایہ کاری کرتی ہیں اور اقتدار میں آنے کے بعد ان حکمرانوں سے اپنے لیے منافع بخش پالیسیاں مرتب کرواتے ہیں۔
ہمارے ہاں بھی آہستہ آہستہ یہ دستور رواج پا جائے گا کہ سُود خور اپنی مرضی کے اُمیدوار نامزد کرکے ان پر سرمایہ کاری کریں گے۔ دولت، افرادی قوت اور اسلحہ ان کے پاس پہلے سے موجود ہے۔ عوام نے مزید کمزوری دکھائی تو یہ طبقہ بہت جلد سیاسی میدان پر بھی قابض ہو جائے گا۔
ضلع میانوالی کے گلے محلے تک سُود کی لعنت پھیلتی جارہی ہے۔ اب تو صورتِ حال اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ خواتین تک اپنے گردو نواح میں دوسری ضرورت مند خواتین کو سُود پر رقم فراہم کرتی ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی ہدایت پر میانوالی میں ڈی پی او میانوالی سرفراز خان وِرک کو اشتہاری ملزمان کی گرفتاری اور سُود کوروں کی بیخ کنی کا خصوصی ٹاسک دیا گیاہے۔ میانوالی کے عوام کو اس سماجی برائی کے خاتمے کا ایک موقع فراہم کیا گیاہے۔ سرفراز خان وِرک لوگوں کے پاس کود جاکر انہیں آگے آنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سُود خوروں کے خلاف چند مقدمات قائم کرکے عملی نمونہ بھی پیش کیاہے۔ معاشرے کے تمام طبقات کو ان کے ساتھ رہنا چاہیے۔ متاثرہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ ہمت کرکے اس برائی کے خلاف جہاد کریں۔ ڈی پی او میانوالی کی پیشکش کا بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ ضلع میانوالی کے عوامی نمائندوں کو عوام کی خاطر ڈی پی او کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہیں۔ عوامی طاقت کے ساتھ کسی بھی برائی کو ختم کیا جاسکتاہے۔ عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں تاکہ مل جل کر مٹھی بھر جرائم پیشہ افراد کا قلع قمع کیا جاسکے۔ پُرامن معاشرے کی تشکیل اور قانون کی حکمرانی کے لیے عوام کا عملی تعاون ناگزیر ہو چکاہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/gtg3xh4
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *