سوشل میڈیا کے فوائد و نقصات

Bilal Ahmad Hajazi
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: بلال احمد حجازی
یہ بات تو مْسّلم ہے مواصلاتی نظام کی بدولت انواعِ انسان اقوام و عوام بلکہ اس سے مْنسلک کل جہاں گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر گیا۔
ظاہراً دیکھا جائے تو ہر کوئی سوشل میڈیا کے نقصانات پر نکتہ چین ہے، لیکن پسِ دیوار حقیقت حال کچھ اور ہے ۔
سطروں میں صفحات کا خلاصہ لکھوں تو یہ کہوں گا۔۔۔!!!
سوشل مِیڈیا کی مثال ایک اندھے گھوڑے کی سی ہے چلانے والا چاہے تو فحاشی عریانی کے ریگستان میں سر پٹ دوڑائے چاہے تو سے مْثبت پاکیزہ راہوں پر گامزن کرے۔
سوشل میڈیا کا ہر پلیٹ فارم خواہ وہ کوئی بھی ہو اپنی سوچ وافکار طورواطوار کی کیفیت کے مطابق چلتا ہے۔
اب آپکی سوچ مْثبت ہو، آپ آپکا ایمان پختہ ہو نفسی شیطانی طغیانی کا طلاطم آپکی گرفت میں ہو تو سوشل میڈیا کا ہر پلیٹ فارم آپ کیلئے مفیدو مددگار مثبت کار ہے۔
ورنہ بصورت دیگر آپ بند کمرے میں مثل نواجون اور سوشل میڈیا سجی سنوری ایک دوشیزہ ہے جسکے ایمانی ڈاکوؤں سے اپنی عِزّت و عِفّت بچانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ومحال ہے!!!!۔
نیز ہر شخص اس حقیقت سے باخوبی واقف ہے اخلاقی و اسلامی قواعد و نظریات کی دھجیاں اڑا دینے کیلئے سوشل میڈیا سے زیادہ بھیانک کوئی ہتھیار نہیں..!!!۔
اس دہائی سے ذرا پچھلی دہائی میں قدم رکھیں جب مواصلاتی نظام اتنا جدید اور مربوط نہیں تھا ،گذرے دریچے کھولیں تو ماں ،ماپ ، بہن ،بھائی، دوست احباب کی محبتوں کی ایک عجیب و غریب فقید المثال تصویر نظر آئے گی۔اب تو جدت نے محبتوں کو رواجی پوشاک پہنا کر مختصر کر دیا ہے۔
وہ ماں کا اک بیٹے کو کہنا جاؤ فلاں بن فلاں سے بھائی کی خبر گیری لے آؤ وہ سمندر پار تیرے بھائی کے ساتھ ہوتا ہے، یہ اب نہ رہا اب تو سمندر پار بیٹھے بیٹے کی صبح اول سے شب اخیر تک ہر نشست و برخاست ماں کی نظروں کے سامنے مواصلاتی سکرین پر ہے۔۔۔!!!!!!۔
دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کسی بھی اس پر ایکٹو شخص کا مکمل بائیو ڈیٹا ہے۔اس پر موجود کسی کی سر گرمیاں اسکے اندر کی انسانیت کی مکمل سیکن رپوٹ ہیں ،کیونکہ کسی کے نظرو فکر کا میعار اتار چڑھاؤ اسکی اندر کی انسانیت کا پتا دیتا ہے۔
خیر مختصراً و انتہاء
ایک طرف ہر با شعور خوب سیرت اسکے فوائد کا ادراک بخوبی کر سکتا ہے تو دوسری طرف ہر لاشعور بد چلن اسکے نقصانات سے خوب آشنا ہے ،مجھ ناکارہ کایہاں فواہدونقصانات کو گنوانا تحصیل حاصل ہے۔
تحصیل حاصل کی مثال جیسا کہ آپ کو پتا ہو مینار پاکستان لاہور میں واقع ہے ،میں پھر بھی جتلاؤں کہ محترم مینار پاکستان لاہور میں واقع ہے۔۔۔!!!!
خیر ذرا سوچیں تو سہی اس سے زیادہ سوشل میڈیا کی افادیت کیا ہو سکتی ہے۔ہم سوشل میڈیا کے فوائدونقصات اسی سوشل میڈیا سے ہی وائرل کرنے پر گامزن ومجبور ہیں کیوں کہ یوں لمحوں میں برسوں کا سفر طے کرکے ہمارا ما فی الضمیر اگلے کے گوش و گذار ہو جاتا ہے..!!!۔

Short URL: http://tinyurl.com/yy8f9367
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *