سورج نے زمین کو تنور بنا دیا، طویل لوڈشیڈنگ جاری، شہریوں کا احتجاج

Print Friendly, PDF & Email

دن چڑھتے ہی سورج نے آنکھ دکھانا شروع کر دی جبکہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ گرمی کے باعث لوگ گھر وں میں دبک گئے۔ ملک میں چند روز سے جاری خشک موسم  اور سورج کے آگ برسانے سے گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ اور دوپہر کے وقت لو چلنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جس کے باعث ائیر کنڈیشنر کا استعمال بڑھنے لگا اور شہریوں نے مشروبات کا استعمال شروع کر دیا اور سڑکوں اور بازاروں میں  ہجوم کم ہونے لگا۔ درجہ حرارت شدید بڑھ گیا جبکہ بار بار لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے دو دن مطلع صاف رہے گا اور گرمی کی شدت ميں بھی اضافہ ہو گا اور دوسری جانب گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث بجلی کی آنکھ مچولی میں بھی اضافہ ہو گیا۔  شارٹ فال بڑھنے سے 18سے 20گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ ہر تین گھنٹوں ميں آدھا گھنٹہ بجلی آتی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے شہریوں اور تاجروں نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے بجلی کے نظام کو فوری بہتر بنانے ، لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کمی اورشیڈول کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو بہت پریشان کر رکھا ہے اس کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔  شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے گرمیوں میں 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے گرمی شروع ہوتے ہی دم توڑ گئے۔ واپڈا اہلکار اپنی من مانی پر بجلی بند کر دیتے ہیں جس سے شہریوں کو گرمی کی شدت میں اور بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مرمت کے نام پر بھی کئی فیڈرز بند کر دئیے جاتے ہیں ۔  18سے 20گھنٹے تک بجلی غائب رہنے کی وجہ سے گھروں اور مسجدوں میں پانی ختم ہو جاتا ہے ۔رات کو بجلی مسلسل بند رہنے کی وجہ سے بچے اور والدین سو نہیں سکتے ۔ اس کے علاوہ سٹوڈنٹس کو امتحان کی تیاری کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم کر کے ٹائم ٹیبل جاری کیا  جائے۔ تاکہ عوام کو غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے ۔

 1,335 total views,  2 views today

Short URL: http://tinyurl.com/zdsp2al
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *