سمجھنے اور سمجھانے کی باتیں ۔۔۔۔ تحریر: ایم سرورصدیقی، لاہور

M. Sarwar Siddiqi
Print Friendly, PDF & Email

قظب الدین ایبک شکار کھیلتے کھیلتے دور نکل گیا آبادی کے کچھ آثار نظر آئے تو وہ سستانے کے لئے رک گیا کچھ فاصلے پر ایک شخص نظر آیا اس نے گھوڑے پر سوار مسافرکو دیکھا تو دوڑتاہوا آیا اسے علم نہیں تھا یہ نووارد بادشاہ ہے۔۔۔ اس نے پانی کا ایک برتن مسافرکے پاس رکھ دیا اور پوچھا آپ کہاں سے کیسے اِدھر آئے ہیں۔۔مسافرنے کہا میں اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر اس طرف آنکلاہوں۔۔۔ قظب الدین ایبک کو اس شخص کی باتوں سے دانائی کی مہک آرہی تھی ۔۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا کیا کرتے ہو؟
’’محنت مزدوری۔۔۔گذر اوقات کے لئے کچھ گائے،بکریاں ،بھینسیں پال رکھی ہیں ،جنگل سے لکڑیاں بھی کاٹ کر فروخت کردیتاہوں۔
،،پھر بھی دن میں کل ملاکر کتنا کما لیتے ہو؟۔۔ قظب الدین ایبک نے سوال کیا
’’زیادہ سے زیادہ چار پیسے۔۔۔ اس شخص نے جواب دیا
’’ان پیسوں کا کیا کرتے ہو؟۔۔۔ اس شخص نے ایسا جواب دیا جس کی قظب الدین ایبک کو توقع ہرگزنہ تھی اس نے کہا ایک پیسہ خود پر خرچ کرتاہوں۔۔۔ ایک پیسہ قرض دیتاہوں۔۔۔ ایک پیسہ قرض واپس کرتاہوں اور چوتھا پیسہ کنوئیں میں ڈالنا میرا معمول ہے۔۔۔۔ قطب الدین ایبک نے حیرانگی سے کہا تمہاری بات سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔۔ اس نے کہا مطلب ظاہر ہے۔۔ ایک پیسہ گھرکی ضروریات پر خرچ ہوتاہے۔۔۔ ایک پیسہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر صرف کرتاہوں جب ہم میاں بیوی بوڑھے ہو جائیں تو اولاد ہماری خدمت کرکے یہ قرض لوٹا دے۔۔۔ ایک پیسہ اپنے بوڑھے والدین کی ضروریات اور دوا پر خرچ کرتاہوں یہ ان کا مجھ پر قرض ہے اور ایک پیسہ جو میں کنوئیں ڈالتاہوں نیکی کر دریا میں ڈال کے مصداق۔۔ یہ خیرات کرتاہوں تاکہ آخرت میں مجھے اس کا اجر ملے۔۔
ایک قدیمی چرچ کے خوبصورت بڑے سے ہال میں ایک میت تابوت میں رکھی ہوئی ہے دنیا بھر سے
VVIP
مندوبین سوگوار کھڑے ہیں ان میں سے درجنوں اینے اپنے ملک کے صدر، وزیرِ اعظم یا آرمی چیف ہیں، بیشتر اتنے مالدار کہ اپنی ہر خواہش کو پورا کرنے پر قادر ہیں وہ باری باری مرنے والے کا آخری دیدار کررہے تھے یہ میت ان کے روحانی و مذہبی پیشوا پوپ جان پال کی تھی تعزیت کرنے کیلئے آنے والے دنیا کے انتہائی با اثر لوگ۔۔ جن کے ایک اشارۂ ابرو پر تیسری دنیا کے ممالک اور ان کے سربراہان کی تقدیر کا فیصلہ ہو نا چھوٹی سی بات ہے ۔۔ جنگ یا امن ان کی خواہش کا نام تھا اس وقت یہ سب انتہائی بے بس تھے۔۔۔ یہ سارے کے سارے مل کر بھی آنجہانی کو چند سیکنڈ زندگی یا گنتی کی کچھ سانسیں نہیں دے سکتے تھے یقیناًقدرت اور فطرت کے سامنے ان کی ایک نہیں چل سکتی۔
ایک انتہائی مالدار کنجوس بسترِ مرگ پر تھا مرض بڑھتا گیا جوں جو ں دواکی کے مصداق اس کی دن بہ دن حالت بگڑتی جارہی تھی عیادت کو آتے جاتے لوگ اسے مشورے پہ مشورہ دیئے جارہے تھے تمہارا آخری وقت آگیاہے اللہ کے نام پر کچھ تو دیتے جاؤ وہ سنی ان سنی کردیتا۔۔ایک روز وہ لگتا تھا کہ گھڑی پل کا مہمان ہے عزیز و اقارب، دوست احباب اور محلے دار مالدار کنجوس کی چارپائی کے گرد جمع تھے کہ حالت سنبھل گئی اتنے میں مولوی صاحب تشریف لائے انہوں نے تلقین کے انداز میں کہا حضرت!وقت قریب ہے اللہ کے نام پر کچھ دیتے جاؤ سب نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔ کنجوس نے ہمت کرکے سر اٹھایا کچھ کہنے کیلئے لب کھولے مولوی صاحب کے چہرے پر رونق سی آگئی سب متوجہ ہوگئے تو اس نے جل کر کہا کم بختو! جان تو دے رہا ہوں اور کیا دوں؟۔۔۔ہمارے معاشرے میں روپے پیسے کے معاملہ میں بیشترلوگوں کا رویہ ایسا ہی ہے زندگی کی آخری سانسوں تک دولت کی محبت دل سے نہیں جاتی۔
ایک بار مدینہ منورہ میں قحط پڑ گیا لوگ بھوک کے ہاتھوں مجبورہوکر فاقے کرنے لگے ایک روزبڑے میدان میں عوام الناس کو بہترین کھانا دینے کااہتمام کیا گیاایک شخص نے کھانا تقسیم کرنے والے منتظم سے دو افراد کے کھانے کا مطالبہ کیا۔۔۔ منتظم نے پو چھا سب اپنا اپنا کھانا لے رہے ہیں تم دو افراد کیلئے کیوں مانگ رہے ہو۔۔۔
’’ایک اپنے لئے اور ایک اس کیلئے جو باسی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہا ہے ‘‘اس شخص نے دور بیٹھے بارریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا
’’تم اسے جانتے ہو؟‘‘ منتظم نے دریافت کیا
نہیں۔۔۔اس شخص نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہامیں جانتا تو نہیں لیکن اسے باسی روٹی پانی میں بھگو کر کھا تے دیکھ کر بڑا ترس آیا کہ سب اچھا کھانا کھا رہے ہیں وہ کیوں نہیں؟
وہ۔۔منتظم نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا ہمارے امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیقؓ ہیں آپ سب لوگوں کیلئے کھانے کااہتمام ان کی طرف سے ہی کیا گیاہے وہ شخص یہ سن کر دنگ رہ گیا۔۔۔۔
وہ ایک سخت گیر حکمران کے طورپر مشہور تھا ۔۔ دنیا کا امیر ترین بادشاہ۔۔۔ مخالفین کیلئے معافی کا لفظ اس کی لغت میں نہیں تھاجہاں سے سورش کی افواہ بھی ملتی یا کسی سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا بے رحم اپریشن کے ذریعے ان کو کچل دیا جاتا عراق میں کئی مقامات پر اجتماعی قبریں اس کی درندگی کی واضح نشانیاں تھیں جب امریکہ نے طوطے کی طرح آنکھیں پھیریں تو سخت گیر حکمران صدام حسین کیلئے اپنا ہی ملک اجنبی بن گیا اتحادی فوجوں کی یلغار کے بعد اسے چھپنے کیلئے بہروپ بدلنا پڑا اس دوران اس کے بیٹوں کو قتل کردیا گیا جب صدام حسین کو گرفتار کیا گیا تو اس پر عوام کے قتلِ عام اور جنگی جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلایا گیا اور آخر کار موت کی سزا سنائی گئی عید کے روز جب اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا اس نے کما ل جرأت سے پھانسی کا پھندہ خود اپنے ہاتھوں اپنے گلے میں ڈال لیا جلادنے لیور دبایا اور وہ رسے کے ساتھ ہوا میں جھول گیا بے پناہ اختیارات، مال و دولت اور بادشاہت پانی کا بلبلہ ثابت ہوئے
ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی کو کون نہیں جانتا کئی صدیوں تک اس کا خاندان حکمرانی کرتا آرہاتھا اس کے دور میں اختلاف رائے بھی جرم تھا مخالف تو مخالف چڑیا کا بچہ بھی پر نہیں مارسکتا تھا ایران میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب آیا تو سب کچھ ختم ہوگیاشہنشاہِ ایران کے سب سے بڑے دوست امریکہ نے بھی اس سے نگاہیں پھیر لیں اسے زندگی بچانے کیلئے فرارہونا پڑا۔اس کا جہاز سمندر پر کئی گھنٹے پرواز کرتا رہا ،چکر لگاتا رہا دنیا کا کوئی ملک اسے پناہ دینے کیلئے تیار نہ تھا
سمجھنے اور سمجھانے کو اور بھی باتیں ہیں لیکن اتناہی کافی ہے ہم سمجھ لیں کہ دھونس،لالچ اور اختیارات سے انسان کبھی بڑا نہیں بن سکتا بڑا وہی ہے جس میں انسانیت ہے۔

Short URL: http://tinyurl.com/znmqewe
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *