سزا، عذاب یا جنگ۔۔۔۔ تحریر: ایس اے زیبؔ

Print Friendly, PDF & Email
اس وقت ہم یہ طے کرنے سے کیوں قاصر ہیں کہ ہم کوئی سزا بھگت رہے ہیں یا کسی عذاب سے گزر رہے ہیں۔کوئی بھی یہ گوتھی سلجھا نہیں رہا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔حالانکہ ملک میں ایک بڑا طبقہ بڑی سوچ رکھنے والا موجود ہے۔وہ کیا کر رہا ہے وہ طبقہ کہاں گم ہے۔کیوں وہ بھی تماشائی بنا ہوا ہے۔میں بس اس پر حیران ہوں۔ آخر وہ تعلیم یافتہ طبقہ کھل کر سامنے کیوں نہیں آ رہااور کیوں وہ قوم کو مستقل بنیادوں پراس سزا اور عذاب کی کیفیت سے آزاد نہیں کروا رہااور نہ ہی یہ بات باورکروا رہا ہے کہ ہم ان دونوں حالتوں میں نہیں ہیں بلکہ ہم اس وقت ایک تیسری حالت میں ہیں۔۔۔وہ ہے حالت جنگ۔۔۔یہ بات مسلسل کہنے میں اس طبقے کو کیا پریشانی ہے ۔میری سمجھ سے باہر ہے۔یا تو یہ طبقہ بھی ان درندوں سے جنگ ہار گیا ہے، یا اسے قوم کا اعتماد حاصل نہیں رہا۔۔۔یا ان کے پاس وہ دلیل نہیں رہی جو قوم کو سزا، عذاب اور جنگ کے مطلب سے متعلق اعتماد میں لے سکے۔
جہاں تک سزا عذاب جنگ کے زمینی یا فلکیاتی مطالب یا حقائق ہیں، تو ان میں سزا کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔۔۔لیکن عذاب کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔۔۔کیونکہ سزا محدود بنیادوں پراور عذاب لامحدود بنیادوں پر ہوتاہے۔۔۔ سزا انفرادی ہوتی ہے اور معاشرتی طور پر فرد طے کرتے ہیں اور اس مین تمیز ہوتی ہے۔۔۔عذاب اجتماعی ہوتا ہے اور اس کو افراد طے نہیں کرتے اس کے اندر نیک و بد کی کوئی تمیز نہیں ہوتی اسکی حدود وقیود نہیں ہوتی اسے افراد کسی پر مسلط نہیں کرتے بلکہ یہ مطلق حادثاتی اور قدرتی ہوتا ہے.یہ جب آ جاتا ہے تو اس کا روکنا محال ہو جاتا ہے۔
ایک ہوتیہے جنگ اس کے پیچ ہے ایک سوچ ہوتی ہے،کوئی مقصد ہوتا ہے،اس کے حصے دار ہمیشہ افراد ہوتے ہیں۔اور یہ زمینی مقاصد کے قبضے اور اس زمین کے باسیوں پر اپنے اقتدار کے لئے لڑی جاتی ہے۔جنگ کوئی سزا یا عذاب نہیں ہوتی یہ بس جنگ ہوتی ہے.یہ کھیل کی طرح ہے اس میں بھی ہار اور جیت ہوتی ہے.جنگ بھی ہار اور جیت کی بنیاد پر ہی لڑی جاتی ہے۔کسی بھی قوم پر جنگ مسلط کرنے کے کئی مقاصد ہوتے ہیں۔ کبھی زمین پر قبضہ کرنا مقصد ہوتا ہے تو کبھی مذہب، کبھی کسی کو کمزور کرنا مقصد ہوتا ہے تو کبھی بس اپنا اقتدار جمانے کے سے عزائم ہوتے ہیں۔۔۔اس وقت ہم پر ایک مذ ہبی متعصبانہ سوچ کا حملہ ہوا ہے جس کے اپنے عزائم اور مقاصد ہیں۔ اب اگر ہم اس حملے کو سزا اور عذاب سے تعبیر کریں تو یہ ہماری بیوقوفی ہو گی۔۔۔اس میں ایک طاقت کا دوسری طاقت پر براجمان ہونا مقصد ہے یہ ایک فورس کا دوسری فورس کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ہمیں آج ان کے متعلق وہی جذبات رکھنے ہوں گے جیسے ہم انڈیا کے خلاف جنگ میں رکھتے ہیں۔ یہ کوئی چند لوگ نہیں نہ ہی یہ کوئی چھوٹا سا گروہ ہے۔
ہماری یہ سوچ بھی غلط ہے کہ یہ دودہایاں پہلے پیدا ہوئے۔یہ بہت طویل قصہ ہے اس گروہ کی کہانی کا ذکر پھر کبھی سہی کیونکہ بات موضوع سے ہٹ جاے گی اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یہ اچھی طرح جان لیں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں نہ کہ کسی سزا یا عذاب میں۔۔۔ہم پر حملہ ہو چکا ظالم نے اپنا ظلم ڈھا لیا۔۔۔اب ہمیں اس حملے کا اس کو جواب دینا ہے مل کر پوری قوت کے ساتھ متحد ہو کر اپنے تمام داخلی و خارجی اختلاف بھلا کر ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اس سے جنگ کرنی ہے اور اپنے اس دشمن کو ہر صورت شکست فاش کرنا ہے۔جنگی بنیادوں پر ہم نے اس سوچ کے افراد سے لڑنا ہے۔یہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں ہم ان کا نامونشاں مٹا دیں گے۔
بلاتفریق مذہب و ذات میرے دوستو ہو جاو ایک ساتھ۔۔۔اس سوچ سے لڑو جو تمہیں مارنا چاہتی ہے تمہیں مذہب کی آڑ میں ختم کرنا چاہتی ہے۔فرقہ وارایت کو ہوا دے کر تمہارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اس سوچ کے متعلق اپنے اردگرد لوگوں کو آگاہی دو۔۔۔تاکہ یہ جنگ جیتی جا سکے۔۔۔

892 total views, 2 views today

Short URL: //tinyurl.com/hde5kd3
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *