زہر آلود محبت

Print Friendly, PDF & Email

تحریر قراۃ العین، سراے عالمگیر 
آج وہ بہت خوش تھی کیوں کہ آج وہ اس ہستی سے ملنے جا رہی تھی جسکو پچھلے کئی دنوں میں اس نے دیوانوں کی طرح سوچا تھا ، پلیز زویا پک اپ دا فون! رانیہ نے کوئی پانچویں دفعہ زویا کا نمبر ڈایل کیا لیکن جواب ندارد! رانیہ دل ہی دل میں زویا سے اچھی طرح خفا ہو چکی تھی کہ اس کی کال پک کر لی گئی ، ہیلو جی میڈم کون آپ؟ اور رانیہ وہ سن کہاں رہی تھی وہ تو اس آواز کی دلکشی میں کھو گئی تھی۔پھر یہ سلسلہ چل پڑا محض ایک رانگ کال نے رانیہ اور جازب کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا اور رانیہ جازب پہ اندھا اعتماد کر بیٹھی۔اپنی ساری روٹین کی باتیں وہ جازب سے ڈسکس کرتی۔جازب کی چکنی چپڑی باتوں میں رانیہ کو اپنا آپ گم ہوتا محسوس ہوتا اور وہ سوچتی کہ وہ ان لمحوں کی قید سے نکلی تو جی نہ پاے گی۔رانیہ کی آنکھیں اس وقت کھلی جب جازب نے کہا کہ وہ شادی کر رہا ہے۔ یار سمجھا کرو میری مجبوری ہے شادی کرنا؟ تم ملو تو کوئی حل نکالتے ہیں اور رانیہ وہ تو ہواؤں میں اڑنے لگی کہ جازب اس سے شادی کرے گا۔ شہر کے بہترین ریسٹورنٹ میں وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔شیطان کی نظریں مسلسل حوا کی بیٹی کو گھور رہی تھیں۔ایک نگاہ میں لالچ اور عفریت جبکہ دوسری نگاہ میں پاکیزگی تھی۔ رانیہ اگر تم میری خواہش پوری کردو تو میں تم سے شادی کر لوں گا۔ جازب کی آواز جونہی رانیہ کے کانوں میں پڑے وہ ہوش کی دنیا میں لوٹ آئی۔ لیکن جازی؟؟؟ لیکن ویکن کچھ نہیں میری بات مانو ورنہ راہ لو اپنی۔ اور وہ خود کو کوسنے لگی کہ کیوں اس کی اتنی عادت ڈالی۔کیوں وہ اپنی حد بھول گئی؟ رانیہ کو جازب کے چہرے پہ جو عفریت نظر آئی اس نے رانیہ کو اندر تک ہلا کہ رکھ دیا۔اپنے حواسوں کو اس نے بحال کیا اور اٹھنے کی کوشش کی۔ایسے کیسے جا سکتی ہو تم؟؟آخر کو اتنا وقت خرچ کیا ہے تم پہ؟ اور وہ پاگل لڑکی جسکو محبت سمجھ رہی تھی وہ دھوکہ اور سراب نکلا۔جونہی اس کے حواس بحال ہوئے اس نے سرپٹ گھر کی طرف روڑ لگا دی۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے سکون کی سانس لی کہ اس کے پیارے رب نے اس کی عزت رکھ لی اور اسے جازب نامی عفریت سے بچا لیا چار سال بعد رانیہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہی ہے۔وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتی کہ جس نے اس گناہ گار کو اتنی محبتوں سے نواز اور وہ جو اپنی زندگی اس سراب کے پیچھے تباہ کرنے جا رہی تھی آخر میں کیا بچتا اس کے پاس ذلت,رسوائی اور بدنامی۔ رانیہ اپنی ڈائری میں روز ایک ہی بات لکھتی ہے، محبت,عزت اور شان و شوکت سوہنا رب دیتا ہے اگر بندوں کے بس کی بات ہو تو وہ دوسروں کو نوچ ڈالیں اور ان کا جینا حرام کر دیں 

 885 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y3jg7l96
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *