زمیں پہ جنت

Shahbaz Akbar Ulfat
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شہباز اکبر الفت
کچھ دن پہلے میں نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ اب پاکستان نہیں رہنا یا پھر کم از کم کچھ دنوں کے لیے کہیں اور چلے جانا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ آج کل میرا کہیں اور کسی کام میں دل نہیں لگ رہا ، گھر اور دفتر کے علاوہ شہر بھر کے ہوٹلوں، پارکوں، فیس بک اور وٹس ایپ حتیٰ کہ کتابوں سے بھی کافی حد تک اکتا کر مجھے ماحول کی تبدیلی کے لیے ہجرت کا تصور کچھ بھلا محسوس ہوا، ابتدائی طور پر کراچی، ملتان، اسلام آباد، کوئٹہ ، پشاور یا شمالی علاقہ جات وغیرہ جانے کے بارے میں سوچا لیکن دل کوئی بڑی تبدیلی چاہ رہا تھا اور میرے خیال میں یہ تبدیلی کہیں بیرون ملک جائے بغیر ممکن نہ تھی۔
جیب میں ٹکا نہ ہونے کے باوجود ایسے خواب دیکھنا ہم غریبوں کا پسندیدمشغلہ ہے اور ویسے بھی خواب دیکھنے پر بھلاکون سا ٹیکس لگتا ہے۔
تو۔۔۔۔ میں کہ رہا تھا کہ 
کچھ دن پہلے میں نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا کہ اب پاکستان نہیں رہنا یا پھر کم از کم کچھ دنوں کے لیے کہیں اور چلے جانا ہے۔
سوال یہ تھا کہ کب، کہاں اور کیسے جاؤں؟
مختلف ممالک کے حدود و اربع، رہن سہن، ثقافت، معروف مقامات، قیام، کرنسی مالیت ، ویزہ پالیسی اور سفری اخراجات کی معلومات کے لیے انٹرنیٹ سے بہتر کوئی ذریعہ نہ تھا ، گوگل اور یو ٹیوب پر گھنٹوں سرچ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ دنیا میں 40 سے زائد ممالک ایسے ہیں جہاں جانے کے لیے بطور پاکستانی ہمیں ویزے کی بھی ضرورت نہیں اور کئی ممالک ایسے بھی ہیں جہاں معمولی فیس کے عوض ای ویزہ کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر بھی آسانی سے جایا جاسکتا ہے ، متعدد ممالک کی کرنسی کی مالیت پاکستان سے بھی انتہائی کم ہے اور کرنسی کے شرح تبادلہ سے محض ایک لاکھ روپے میں وہاں کروڑ پتی کہوایا جاسکتا ہے، واضح رہے کہ دنیا کی سب سے مہنگی کرنسی کویت اور سب سے سستی کرنسی ایران کی ہے اور دونوں اسلامی ممالک ہیں (قواعد وضوابط سے آگاہی کے بعد ایک متوسط پاکستانی بھی کئی افریقی، خلیجی اورسارک ممالک سمیت وسط ایشیائی ریاستوں میں سیر کا شوق پورا کرسکتا ہے) ان ممالک میں جانے کے لیے ہوٹل بکنگ، ریٹرن ٹکٹ اور اخراجات کی مد میں مطلوبہ رقم کا ہونا ضروری ہے۔
ذاتی طور پر مجھے سیر سپاٹے کے لیے نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ کے علاوہ ازبکستان اور آذربائیجان کافی پسند حد تک پسند آئے، ان ممالک میں جانے لیے زیادہ بجٹ کی ضرورت بھی نہیں تھی اور وہاں کی معتدل آب و ہوا اور قدرتی نظاروں سے مجھے کافی افاقہ ہوسکتا تھا۔
لیکن۔۔۔ مسئلہ پھر وہی کہ غریب صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے، انٹرنیٹ پر ویڈیوز، نقشوں اور تصاویر کی مدد سے دنیا بھر میں گھوم پھر کر دفتر سے باہر نکلا تو اچانک ہی طبیعت کا بوجھل پن کافی حد تک کم ہوگیا، پتہ نہیں کیوں اب سارا منظر، سارا ماحول کچھ بدلا بدلا سا لگنے لگا تھا۔
میں نے سڑک پر کھڑے ہوکر دور تک نظر دوڑائی، صاف ستھرا ماحول، کشادہ سڑکیں، قیمتی گاڑیاں، عالیشان گھر، بڑی بڑی دکانیں اور بلند و بالا پلازے،پارکوں اور باغات کی بھیکمی نہ تھی، چاروں موسم، جنگل، پہاڑ،ہری بھری وادیاں، دریا، سمندر، چٹیل میدان اور ریگستان بھی موجود مجھے تو ہر شخص اپنی جگہ مطمئن اور خوش حال نظر آیا، حتیٰ کہ فقیرکے لبادے میں بھی جدت اور خوش حالی نظر آئی 
میں نے پھر غور کیا، دنیا بھر کی معلومات لے کر بھی مجھے پاکستان کسی سے کمتر ملک نہیں لگا، کہیں سے بھی یہ پتہ نہیں چلا کہ غربت صرف پاکستان کا مسئلہ ہے، ٹوٹی ہوئی سڑکیں ، دھول، مٹی، بھوک،منشیات، عصمت فروشی، جوئے کے اڈے، قتل و غارت گری ہر جگہ قدرمشترک تھی، اپنی فطری حب الوطنی سے ہٹ کر بھی مجھے اپنا وطن دنیا کے بیشتر ممالک سے کہیں زیادہ خوب صورت، پرامن اور خوش حال نظر آیااور جب خود اپنا وطن ہی زمین پر جنت کے کسی ٹکڑے سے کم نہ ہو تو پھر کہیں اور جانے کا فائدہ؟ جس کا یہاں دل نہیں لگا، اس کا ساری دنیا میں کہیں اور نہیں لگے گا ۔
اس بات کا اب مجھے پختہ یقین ہوگیا ہے 
آپ کیا کہتے ہیں؟

Short URL: http://tinyurl.com/y4zcjur3
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *