رنگوں کا خوبصورت امتزاج۔۔۔۔ تحریر: فرحین ریاض، کراچی

Farheen Riaz
Print Friendly, PDF & Email

اس دنیا کی تمام تر رنگینی اس کے رنگوں میں پنہاں ہے اگر رنگ نہ ہوتے تو دنیا بہت بے روق اور پھیکی نظر آتی اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو سات رنگوں میں رنگ دیا ہے کار ہائے قدرت کے کارخانے میں رنگوں کی ابتداء قوس و قزح سے شروع ہوئی سائنسی نقطۂ نظر سے بھی رنگوں کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے کیونکہ کچھ رنگ نہ صرف انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ ان کا ہر جان دار پر کسی نہ کسی طرح ہوتا ہے رنگوں کی اہمیت اسلامی حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے ہر مذہب میں رنگوں کی بہت اہمیت ہے اس سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا اس میں ہر قسم کے رنگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ رنگ شوخ ہیں تو کچھ مدھم ، کچھ گہرے ہیں تو کچھ پھیکے۔انہی رنگوں سے دنیا کا حسن وجود میں آتاہے ا س میں ہر قسم کے رنگ پائے جاتے ہیں۔ کچھ رنگ شوخ ہیں تو کچھ مدھم ، کچھ گہرے ہیں تو کچھ پھیکے۔انہی رنگوں سے دنیا کا حسن وجود میں آتا ہے مگر کچھ شوخ اور گہرے رنگ بظاہر آنکھوں کو تو بہت بھاتے ہیں مگر وہ تاریکی اور اندھیرے کا باعث بنتے ہیں ، جبکہ کچھ رنگ جو بظاہر تو پھیکے اور مدھم ہونے کی وجہ سے زیادہ اہمیت نہیں حاصل کر پاتے لیکن یہ مدھم اور پھیکے رنگ اکثر مل کر بہت خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔
ہماری اس خوبصورت دنیا کاایک دریا ایسا بھی ہے جس کے پانی میں کم از کم پانچ رنگ پائے جاتے ہیں،اس دریا پر نظر پڑتے ہی انسان محو حیرت رہ جاتا ہے جونہی جولائی کا مہینہ آتا ہے تو اس کے پانی میں رنگ چھلکنا شروع ہوجاتے ہیں اور نومبر تک ان کی چمک دمک اور رنگینی اپنی بہاریں دکھاتی رہتی ہے۔ اس کے رنگوں کی وجہ سے اسے ’’پنج رنگا دریا‘‘ یا ’’آبی قوس قزح‘‘ بھی کہا جاتا ہیاس دریا میں کہیں سرخ رنگ نظر آتا ہے تو کہیں سبز، کہیں نیلا تو کہیں نارنجی دراصل اس کی تہہ میں سرخ رنگ کے پودے میکارینیا کلیو پگیرا اُگتے ہیں جس کی وجہ سے ساری تہہ سرخ ہوجاتی ہے اورسورج کی روشنی پڑنے سے یہ تہہ قرمزی، نارنجی اور دیگر رنگ بھی اختیار کرسکتی ہے۔ان رنگوں میں پانی کا نیلا رنگ، چٹانوں کا کالارنگ، ریت کا سبز رنگ اورپیلا رنگ بھی شامل ہوجاتا ہے تو دریا کا پانی سات رنگوں کا حسین امتزاج نظر آتا ہے جن میں سے کم از کم پانچ رنگ اکثر نمایاں نظر آتے ہیں۔
دنیا کا کوئی رنگ نہیں جو خوبصورت نہ ہو اس کے علاوہ قدرت نے نہ صرف حیوانات اور انسانوں کو الگ الگ رنگ دئیے بلکہ تتلیاں ، چرند ، پرند ، پھول پودے ، سمندر، پہاڑ ،آسمان، ، دریا ، اور صحرا کو بھی الگ الگ رنگ دئیے تاکہ ان میں نکھار پیدا ہو جو خزانہ سمند ر کے اندر موجودہے اسے بھی بہت خوبصورت رنگ دئے ہیں ہر رنگ و نسل کی مچھلی اور مختلف اقسام کے آبی مخلوقات پیدا کی ہیں ان کے رنگ اتنے حسین ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
اس دنیا میں بھی ہر قسم کے لوگ موجود ہیں جن میں سے کچھ لوگ جو بظاہر آنکھوں کو اچھے لگتے ہیں اپنی شوخی اور گہرے پن کی وجہ سے ،لیکن یہ لوگ ہماری زندگی کو تاریکیوں اور اندھیروں سے بھر دیتے ہیں جن کے حصار سے نکلنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے برعکس وہ لوگ جو اپنی دھیمی اور مدھم طبیعت کی وجہ سے توجّہ نہیں حاصل کر پاتے وہی لوگ زندگی میں اکثر رنگ بھر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ خود تو دھیمے ہوتے ہیں مگر دوسروں کی زندگی میں رنگ اور خوشی انہی کے دم سے ہوتی ہے۔ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں اور وہ لوگ بھی بہت کم ہوتے ہیں جو ان لوگوں کو پہچانتے ہیں۔اپنی زندگی کو ان گہرے اورآنکھوں کو وقتی طور پر بھانے والے لوگوں سے بچانا بہت مشکل تو ہے مگر نا ممکن نہیں۔بہت سے لوگ رنگوں کی اہمیت اور افادیت نہیں سمجھتے اپنی زندگی کو بچانے کے ساتھ، ساتھ ان مدھم رنگوں کا بھی خیال رکھنا لازمی ہے کچھ رنگ حرارت کو جذب کر لیتے ہیں جیسے کالا رنگ ، کچھ رنگ علامتی طور پر بھی استع،ال کئے جاتے ہیں مثلاً سفید رنگ امن اور پاکیزگی کی ، کالا رنگ غم کی علامت ، لال رنگ خوشی کی علامت سمجھا جاتا ہے
یہ دنیا انہی گہرے اور مدھم رنگوں کا حسین امتزاج ہے اور یہی رنگ اسکی خوبصورتی کا باعث بھی ہیں۔ اس دنیا میں کامیاب صرف وہی ہے جو ان رنگوں کے فرق کو سمجھ سکتے ہوں ،انکی خوبصورتی کے راز کو بھی جان پائے اور انکے ذریعے سے اس دنیا کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنے۔ رنگوں سے ہر قوم کی شناخت ہوتی ہے اس وجہ سے ثقافت اور معاشرت اہمیت کا دائرہ ان ہی رنگوں کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے سب سے اہم بات یہ نظر آتی ہے ہے کہ رنگوں کا یہ حسین امتزاج یہ خوبصورت تحفہ ہمیں قدرت کی طرف سے ودیعت ہوا ہے یہ ہمارے لیے قدرت کی طرف سے ایک حسین تحفہ ہے ۔

Short URL: http://tinyurl.com/zvtu45x
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *