رشوت کی لعنت اور حسد

Mehar Ishtiyaq Ahmad
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مہر اشتیاق احمد ، سیالکوٹ 
حسد اور رشوت ملتے جلتے ہی دہ کام ہیں جو معاشرتی بگاڑ پیدا کرتے ہیں ۔ حسد انسان کو اندر ہی اندر ہی کھا جاتا اہے ۔ دوسرے لوگوں کی خوشحالی دیکھ کر ااور اپنی خوشحال زندگی گزارنے والوں سے حسد ، لالچ ، بعض رکھتے ہوئے مختلف طریقوں سے پیسے بٹور نے کو رشوت کہتے ہیں ۔ اسلام جہاں حلال ذریعے سے روزی کمانے کی تعلیم دیتا ہے وہیں حرام ذرائع سے اجتناب کرنے کا حکم بھی دیتا ہے ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رشوت ایک حرام اور نا جائز ذریعہ آمدن ہے اور اسلام حرام سے بچنے کا حکم دیتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اے انسانوں زمین م یں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ اور اور شیطان کی پیروی نہ کرو ، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (البقرہ )ایک اور جگہ اللہ پک نے ارشاد فرمایا ’’ رشوت دینے والا اور رشولت لینے والا دونوں جہنمی ہیں ‘‘۔رشوت ایک ناجائز ذریعہ آمدن ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعے دوسرے آدمی کی حق تلفی بھی ہوتی ہے اور اُسے اُس کے حق یا عہدے سے محروم کر دیا جاتاہے ۔ جسکا وہ حق دار ہوتا ہے ۔ درجہ بالا تفسیر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہی خبیث اور حرام ہے کہ دوسرے کا حق تلف کیاجائے ۔قرآن مجید فرقانِ حمید میں بار ہا مرتبہ فرما دیا گیا ہے کہ ہر ناجائز ذریعے سے مال کھانے سے منع کرتے ہوئے حکم دیا گیاااور آپس میں ایک ودسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ اور نہ حکام کے سامنے پیش کرو ۔ نہ گنا ہ کے ساتھ جانتے پوجھتے لوگوں کے مال کھاؤ (البقرہ)اس ارشادِ خدا وندی کا عام ترجمہ یہ ہے کہ باطل اور ناجائز طریقے سے کسی کا مال نہ کھا ؤ ۔اس میں کسی کامال غضب کر لینا مثلاً چوری ، ڈاکا ، سود ، جوا ، رشوت ، حرام اشیاء کی تجارت ، ناجائز معاملات ،جھوٹ بول کر یا جھوٹی قسم کھا کر کوئی مال حاصل کرنے کے باطل اور حرام طریقے ہیں ۔ یہاں کھانے سے مراد صرف کھانا نہیں بلکہ ان کا ہر قسم کا استعمال بھی حرام ہے ۔ حکام کے سامنے پیش کرنے سے مراد دوسروں کے مال کی ملکیت کا دعویٰ لے کر حاکموں کے پاس جانا بھی ہے اور حکام کو رشوت دے کر دوسروں کی ملکیت پر غاصبانہ قبضہ بھی حرام ہے ۔قرآن مجید کی طرح احادیث بنویؐ میں بھی حرام مال کھانے کی مذمت کی گئی ہے ۔ نبی اکرم ؐ کا ارشادِ پاک ہے کہ ’’ جس انسان کا گوشت پوست ظلم اور سود سے بنا ہے تو اس جسم کیلئے جہنم کی آگ زیادہ بہتر ہے ۔‘‘ آپؐ کا ایک اورارشاد مبارک ! حضرت ابو بکر صدیقؓ سے منقول ہے کہ ’’جس بدن کو حرام کی غذا کھلا کر پالا گیا ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ‘‘ اللہ کے رسول (حضرت محمد ؐ )نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے ۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں سخت حرام کی تشریح کرتے ہوئے رشوت اور زناء کی آمدنی کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ سخت آمدنی اور دو درازے ہیں جن سے لوگ کھاتے ہیں ایک رشوت اور دوسرا عصمت فروشی ۔ آپؐ نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی اور اس پر بھی جو رشوت کا معاملہ کرائے (ابن ماجد ، ترمزی شریف)ان احادیث سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ صرف رشوت لینا ہی جرم نہیں بلکہ رشوت دینا بھی جرم ہے اور دونوں کو جہنم کی آگ کا بندھن بننا پڑھے گا۔ نیز انکے ساتھ رشوت کا معاملہ کر وانے والا بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہے گا۔ افسوس ہے کہ ان مسلمانوں پر جو اتنی واضع قرآنی ہدایات اور نبی کریم ؐ کے ارشادات کے باوجود تھوڑے سے دنیا وی فائدے کیلئے رشوت کھاتے ہیں اور اپنے آپ کو جہنم کا ایندھن بناتے ہیں ۔ رشوت کسی معاشرے میں اُس وقت جنم لیتی ہے جب وہاں عدل و انصاف کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان خود غرضی اور مفاد پر ستی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ جسکی وجہ سے لوگوں کو حقوق جائزطریقے سے بھی حاصل نہیں ہوتے ۔ رشوت کے نتیجہ میں اعلیٰ اخلاقی اقدار ، عدل ، ایثار ،رواداری ،اخوت وغیرہ ختم ہو جاتے ہیں ۔ انسان میں لالچ اور خود غرضی پیدا ہو جاتی ہے جسکے نتیجہ میں وہ صرف اپنے فائدے کیلئے سوچتا ہے ۔جو کہ اسلامی تعلیمات کے بر عکس ہے ۔ اسلام انفرادی فائدے کی بجائے اجتماعی فائدے کی تلقین کرتا ہے اس لیے وہ سود کو حرام قرار دے کر زکوۃ کو عام کرتاہے ۔ کیونکہ زکوۃ کے نتیجہ میں پورے معاشرے کو فائدہ پہنچتا ہے ۔ دولت چند ہاتھوں کی لونڈی نہیں بنتی ۔ بلکہ ایک عام آدمی بھی دولت کے فوائد حاصل ک سکتا ہے ۔ اسلام خود غرضی اور لالچ کی بجائے ایثار قربانی کے جذبات اور عمل کو فروغ دیتا ہے ۔ ایثار اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینے کا نام ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں مکتب بنویؐ کے تربیت یا فتہ صحابہ کرامؓ خود بھو کے رہتے اور دوسروں کو کھانا کھلاتے ہیں اپنے احوال میں اپنے مہاجر بھائیوں کو حصہ دیتے ہیں تاکہ اُنکی ضروریات پو ری ہو سکیں ۔ جنگِ تبوک میں خود تو پیسا سے شہید ہو جاتے ہیں لیکن دوسرے مسلمانوں کو پیاسا نہیں دیکھ سکتے ۔ جب کہ رشوت کے ہاتھوں ان تمام نیک جذبات کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح حسد بھی ہے ۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؓ نے فرمایا۔ ’’ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے کہ جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے ، اور صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بھجا دیتا ہے ‘‘۔(صحیح بخاری ، ابن ماجد )حضرت ابو ہریرہؓ سے مر وی ہے کہ رسولِ اکرمؐ نے فرمایا ’’تم گمان سے بچو اس لیے کہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے ۔ تم آپس میں حسد نہ کیا کرو ، جاسوسی نہ کیا کرو ، بغض نہ رکھا کرو ۔بے رخی نہ برتا کرو ، دام بڑھانے کیلئے بولی نہ لگایا کرو۔ بلکہ اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کرو ۔ ‘‘ حسد کا مفہوم کسی نعمت یاخوبی کا زوال چاہنا یا اس کے چھیننے کی خواہش کرنا ہے ۔ جب کہ رشک میں کسی خوبی سے متاثر ہونا اور اُس جیسا بننے کی کوشش کرنا ہے ۔ حسد ایک منفی جب کہ رشک ایک مثبت جذبہ ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ؐ کو فرماتے ہوئے سُنا ’’کہ حسد ، رشک ، صرف دو چیزوں پر جائز ہے ۔ایک وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اُسکو راہ حق پر خرچ کرنے کی قدرت دی اور دوسرا وہ شخص جیسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (علم )دی اور وہ اسکے ذریعے فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے ۔ (صحیح بخاری ، جلااول )صدقہ جاریہ کا نام تو ہم سنتے رہتے ہیں ۔ بعض جگہوں میں رشوت جاریہ بھی ہوتی ہے ۔ رشوت کسی کی ذات کو نہیں بلکہ عہدے اور منصب کو ملتی ہے ۔ جو بھی اس منصب پر فائز ہوتا ہے رشوت لینا اس کا فطری حق سمجھا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض عہدوں کیلئے با قائدہ بولیاں لگتی ہیں ۔ ہمارے ہاں کے بعض محکمے اس سلسلے میں کافی نیک نام بھی ثابت ہوئے ہیں ۔زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مقدس اور قابلِ احترام پیشے بھی اب ناپاک کمائی سے پاک نہیں رہے ۔ پہلے طبیب بسم اللہ پڑھ کر ’’ ہو الشافی‘‘ لکھ کر نسخہ لکھتے تھے ۔ مریض کی آواز سن کر اس کی شکل دیکھ کر اور نبض پر ہاتھ رکھ کر اپنی فراست سے مرض کی تشخیص کی آواز سن کر اس کی شکل دیکھ کر اور نبض پر ہاتھ رکھ کر اپنی فراست سے مرض کی تشخیص کر لیا کرتے تھے ۔ آج ٹیسٹوں کی بھر مار ہوتی ہے ۔ گھر پر دیکھنے اور کلینک پر دیکھنے میں فر ق ہوتا ہے ۔ بعض جگہ ڈاکٹر آپریشن کو ضروری بتا کر مزید رقم کا مطالبہ کرتے ہے ں ۔ بڑے ہسپتالوں میں کیش کی صورت میں آپریشن کیلئے پیشگی رقم جمع کر انا ضروری ہے ۔ اگر چہ مریض تڑپ رہا ہو ۔مگر ڈاکٹروں کے دلوں میں رحم نہیں ظاہر ہے جو انہوں نے بڑے بڑے ہاتھی انہوں نے پال رکھے ہیں ۔ ان کا پیٹ بھرنے کیلئے کثرت سے آپریشن ضروری ہیں ۔ ان دنوں بھی دل میں ناقص اور غیر معیاری ، سستے اسٹنٹ مہنگے داموں میں فروخت کا چرچا ہو رہا ہے ۔ اغضا پوری ہونے، گردے غائب ہونے کی خبرین ٓئے دن اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں ظاہر ہے کہ ہرکام کسی نیم حکیم یا معمولی سرجن کا تو نہیں ہو سکتا ۔بلکہ اس کیلئے اعلیٰ مہارت ، فرواری آلات اور منظم طریقہ کار کی ضرورت ہے ۔ڈاکٹروں اور طبابت کے ساتھ معلمی کا پیشہ بھی انحطاط کا شکار اور روبہ زوال ہے ۔ اسلامی معاشرے میں معلم کا مقام بادشاہ وقت سے زیادہ ہوتا ہے ۔ مگر جب سے علم کو تول کر فروخت کرنے کاعمل شروع ہوا ہے اور علم کا مقصد صرف پیٹ کی آگ بجھانا رہ گیا ہے اس وقت سے علم سے نور اوربرکت ختم ہو گئی ہے ۔ ڈاکا صرف ہتھیار کے ذریعے زبردستی مال چھیننے کانام نہیں ہے ۔ جولوگ قلم کے ذریعے لاکھوں کروڑوں ،اِدھر سے اُدھر کر ریتے ہیں وہ بھی ڈاکا ہی ڈالتے ہیں ایک جاہل آدمی کو ڈاکٹر یٹ کی ڈگری دے دی جاتی ہے وہ کیسے ؟ اُس نے کچھ سبق پڑھا ہوتا ہے ۔؟اُسنے کچھ پیپر دئیے ہوتے ہیں؟ نہیں اُس نے صرف ایک سبق پڑھا ہوتا ہے رشوت کا ۔رشوت معاشرتی بگاڑ اور انتشار کا سبب بن چکاہے انسان کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں مگرہوس کسی کی پوری نہیں ہو تی ۔ یہاں تک کہ بادشاہوں کی بھی نہیں ۔ا علیٰ عہدوں پر افسران سے لے کر ایک عام آدمی تک رشوت نے بیڑھا غرق کیا ہواہے ۔ اعلیٰ افسران کے پاس دولت کی کمی ہوتی جاہ و جلال کی کمی ہوتی ہے ؟ بھائی ہوس کسی کی پوری نہیں ہوتی۔ لالچ منہ کھولے رہتا ہے ۔ اگر قانون سے جرائم کا انسداد ممکن ہوتا تو آج کی دنیا سب سے بڑی عابدو زاہد ہوتی کیونکہ جتنے قوانین آج درائج ہیں ۔ اس سے پہلے کبھی نہ تھے ۔ جہاں تک ایک طالب علم کی حیثیت سے جانتا ہوں ایک جمہوری ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں ۔ مقننہ ،عدلیہ ، انتظامہ ، مقننہ کاکام ہی قانون سازی ہے ۔ خود مملکت خدا دادِ پاکستان میں ہزاروں قوانین نافذ ہیں ۔ہر محکمے کے قوانین جدا اور اس کیلئے الگ عدالتیں موجود ہیں ۔مثلاً بینکنگ کی ، فیملی کورٹ ، کمپنیوں کی ،دیوانی دعوے اور فوج داری جرائم کی عدالتیں الگ الگ ہیں ۔مگر انصاف کتنا ہے ۔ مظلوم کو کتنی داد رسی ملتی ہے ۔ عوام کا اعتماد ان اداروں پر کس قدر ہیں؟ سب لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کسی کو بد دعا دینی ہو تو اسے کورٹ کچہری کی بددعا دی جاتی ہے ۔ عملی صورت حال یہ ہے کہ لوگ ان عدالتوں کا رخ نہیں کرتے بلکہ باہر ہی ایک دوسرے کونقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انصاف کی اُمید ایک نسل سے دوسری نسل میں چلی جاتی عدالتوں کے چکر پہ چکر لگتے رہتے ہیں انصاف نہیں ہو پاتااور خرچ اتنا ہوتا ہے کہ مرغی کے متعلق انصاف دری رہو تو بھینس قربان کرنا پڑتی ہے اور اس کے علاوہ قانون کی زبان ایسی ہے جو یہاں کے اسی فیصد لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہے ۔ اب اسے انصاف کی فراہمی کہا جائے گا یا قانون کا خون۔یہ مظلوم کی داد رستی ہے یا اس حقوق کی پامالی ، یہ نظام عدل ہے کہ نظام جور وظلم ، فیصلہ ہم اُ ن پر چھوڑتے ہیں جو بینا آنکھیں ، کان اور سوچنے والا دل رکھتے ہیں ۔رشوت ایک گنا ہے ۔ حسد ایک مہلک بیماری ہے ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس دنیا و آخرت میں ان جیسی لعنتوں سے محفوظ رکھے اور اِ نکی تباہ کاریوں سے اپنی حفیظ و امان میں رکھے ۔آمین ۔اس زمانے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو گندگی سے دامن بچائے ہوئے ہیں یہ مٹھی بھر لوگ جو تعداد میں بہت کم مگر وزن میں بہت زیادہ ہیں یہی وہ لوگ ہیں خوفِ خدا اور فکر آخرت رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی خاطر جو اس جہاں میں ہو گی وہ اپنی جگہ ، دنیا میں بھی اصل دولت اور حقیقی نعمت ان ہی کے پاس ہے ۔ اگر بادشاہوں کو معلوم ہو جائے تو فوجیں لے کر ان پر حملہ آور ہو جائیں وہ دولت دل کا اطمینان او ر سکون ہے جو لذت انہیں اطاعت الٰہی اور عشق نبوت میں ملتی ہے اس کا موازنہ دنیا کی کسی لذت سے نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر دل کی آنکھیں کھلی ہوں تو ایسے لوگوں کے مطمین ضمیر اور ترو تازہ چہرے نظر آ سکتے ہیں ۔

Short URL: http://tinyurl.com/y2pnf47l
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *