رحمٰن کے بندوں کی تیرہ صفات

Shariq Yousaf
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: شارق یوسف
شعبان کا مہینہ آتے وقت رمضان کی نوید ساتھ لاتا ہے. جیسے جیسے شعبان کا چاند گھٹتا ہے رمضان کا قرب بڑھتا جاتا ہے. یہی قربت کا احساس دلوں کو محبت کے جذبات سے سرشار کرتا ہے۔ مسلمان کتنا ہی گناہ گار ہو رمضان کی آمد پر عقیدت و احترام کے کونپل اس کے دل میں پھوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔یہی ایک مسلمان کی شان ہے کہ وہ شعائر اللہ کی تعظیم دل و جان سے کرتا ہے. جب بہارِ رمضان کی خوشبو مسلمان کے دل میں موجود ایمان کو ایک نئی حلاوت بخشتی ہے تو اس کے جوش ایمانی کا سمندر اس وقت ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے. یہی چیز انسان کے بدلنے اور بدی سے نیکی کی طرف راغب ہونے کا سبب بنتی ہے. یہی وقت ہوتا ہے کہ انسان کو رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بغیر کسی تردد کے سیدھی راہ پر آسانی سے چل سکے. اور ایک ایسے رہنما کی جو اس کی انگلی پکڑے تاکہ وہ بھٹکنے نہ پائے. اگر طلب سچی ہو تو یہ اضطراب اسے حقیقی رہنمائی کی طرف لے جاتا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے، دور جانے کی ضرورت نہیں وہی قرآن مجید جس کا نزول ہی بندے کی رہنمائی کے لیے ہوا، آج پھر انسان کا ہاتھ تھامنا چاہتا ہے، دیر ہے تو ہاتھ بڑھانے کی. قرآن مجید خود بتانا چاہتا کہ اللہ تعالیٰ کا محبوب و مقبول بندہ کیسے بنا جائے. یہ جو جذبہ رمضان کی وجہ سے پیدا ہوا اس کو عملی جامہ اور استقامت کا لباس کیسے پہنایا جائے. قرآن مجید آپ کو ان تیرہ علامات سے روشناس کراتا ہے جسے اپنا کر انسان اللہ تعالیٰ کے ان بندوں میں شامل ہوسکتا ہے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنا بندہ کہا. اس سے بڑھ کر سعادت اور کیا ہوگی کہ اللہ تعالیٰ بندے کو خود اپنی طرف منسوب کر کے “اپنا بندہ” کہے یہی تو مقصود اور یہی منتہی ہے۔
آئیے سورة الفرقان میں بیان کی گئی ان تیرہ صفات کو پہچانتے ہیں جنہیں اپنا کر ہم بھی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کی صف میں شامل ہوسکتے ہیں۔وہ صفات نمبروار درج ہیں:
سب سے پہلی صفت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کی بیان فرمائی وہ یہی “عبد” یعنی “بندہ ہونا” ہے. عبد کہتے ہیں بندے اور غلام کو جو اپنے آقا کا مملوک ہوتا ہے. جس کی اپنی کوئی مرضی اور خواہش نہیں ہوتی بلکہ وہ وہی کرتا ہے جو آقا چاہتا ہے. اللہ کے نیک بندے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں جو ہر قدم پر اللہ کی رضا اور حکم کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اپنی خواہش اللہ کی خواہش پر قربان کرتے ہیں۔
دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ زمین پر چلتے ہیں تو عاجزی اور تواضع کے ساتھ ان کی چال میں تکبر یا اکڑ نہیں ہوتی. حضرت حسن بصری رح نے فرمایا کہ وہ حقیقت میں تندرست اور توانا ہوتے ہیں لیکن اللہ کے سامنے خود کو عاجز اور ذلیل بنایا ہوتا ہے، لوگ دیکھ کر انہیں معذور سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کا خوف ہوتا ہے جو دوسروں میں نہیں پایا جاتا۔
تیسری صفت یہ ہے کہ جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوں تو یہ ان کی جاہلانہ باتوں پر سیخ پا نہیں ہوتے بلکہ سلامتی کے ساتھ انہیں رخصت کرتے ہیں اور ان سے انتقام نہیں لیتے درگزر کرتے ہیں۔
چوتھی صفت: اللہ کے نیک بندے دن کو تو سراپا اطاعت و فرمانبرداری کے پیکر ہوتے ہی ہیں لیکن ان کی راتیں بھی دنوں سے مختلف نہیں ہوتی. شب بیداری اور رات میں اللہ کے سامنے سر بسجود ہوکر راز و نیاز کرنا ان کا معمول ہوتا ہے۔
چھٹی صفت: وہ خرچ کرتے ہوئے اعتدال کا دامن چھوٹنے نہیں دیتے، جہاں خرچ کرنے کا حکم ہو وہاں خرچ کرتے ہیں اور بقدر ضرورت کرتے ہیں. نہ تو ہاتھ روکتے ہیں کہ بخل ہو اور نہ حد سے تجاوز کرتے ہیں کہ اسراف میں شامل ہوجائے۔
آٹھویں صفت: وہ شرک نہیں کرتے۔ نویں صفت: ناحق قتل اور زنا سے بچتے ہیں. دسویں صفت:جھوٹ اور فضول مجلسوں سے دور رہتے ہیں. چاہے اغیار کی عیدیں یا میلے ہو یا ناچ گانوں کی محفلیں وہ ان کی طرف التفات نہیں کرتے. اسی طرح جھوٹ خواہ گواہی کی شکل میں ہو یا کسی بات کو نقل کرنے میں وہ اس سے ہمیشہ احتراز کرتے ہیں. گیارہویں صفت: اگر اتفاقاً کسی فسق و فجور کی مجلس پر گزر ہو تو وہ اسے برا سمجھتے ہوئے شرافت کے ساتھ وہاں سے گزر جاتے ہیں. یعنی انہیں حقیر سمجھتے ہیں اور نہ ہی خود کو پاکیزہ خیال کرتے ہیں. بارہویں صفت: جب انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات یاد دلائی جائے تو وہ سن کر اس میں غور و فکر کرتے ہیں پھر عمل کرتے ہیں۔ مغفلین کی طرح اندھے بہرے ہوکر اعراض نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی بغیر تحقیق کے عمل پیرا ہوتے ہیں. تیرہویں صفت: وہ اپنے اہل و عیال کے لیے اطاعت اور تقویٰ کی دعا کرتے ہیں، یعنی صرف خود کی اصلاح پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنے گھر والوں کی فکر بھی رکھتے ہیں۔
یہ تیرہ صفات زندگی کے تیرہ جامع اصول ہیں جو عبادات، معاملات اور معاشرت سب کو شامل ہیں. یہ صفات نہ صرف فرد کی زندگی سنوارتے ہیں بلکہ معاشرے کو بھی ایک مثالی معاشرے بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Short URL: http://tinyurl.com/yxfskwrn
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *