ذہنی دباؤ سے بچئے

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: منور حسین عاجز 
اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ عالمی ادارہ صحت ہر سال 7 اپریل کو صحت کا عالمی دن مناتا ہے۔اس دن کے منانے کا آغاز 1950 سے ہوا۔ہر سال ایک مخصوص تھیم کے تحت اس دن کو منایا جاتا ہے۔اس سال کا عنوان ہے ڈیپریشن۔ اس کا مطلب ذہنی دباؤ ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً17 کروڑ افراد ڈیپریشن کا شکار ہیں۔ جب کہ تقریباً 50 کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں۔ پاکستان میں 5 کروڑسے زائد افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں۔جب کہ ان کے علاج کے لیے صرف پانچ سو کے قریب تربیت یافتہ ماہرین موجود ہیں۔ اور صرف چار سرکاری ہسپتال ہیں جو حیدرآباد، لاہور، پشاور اور مانسہرہ میں ہیں۔اب جبکہ صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے۔ صوبوں کو دماغی امراض کے مراکز پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ 
ڈیپریشن کا مریض اچانک کسی بات پر بھڑک اٹھتا ہے۔چڑچڑاہٹ، بیزاری،، وہمی اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اپنے بھی اس کو دشمن لگنے لگتے ہیں ۔یہ ایک خطرناک دماغی مرض ہے۔ اس سے دل کی شریانیں متاثر ہوتی ہیں ۔ہائی بلڈ پریشر کی تکلیف ہونے لگتی ہے۔ انسان کا کسی بھی کام میں جی نہیں لگتا۔
ڈیپریشن کے شکار مریض دوسرے فرد کی بجائے خود بہتر طریقے سے اس کو کنٹرول کر سکتا ہے۔سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ اپنے مسئلے کے متعلق کسی سے گفتگو کریں۔آپ کے بہت سے مخلص اور خیر خواہ موجود ہوں گے۔ ان سیاپنی پریشانیوں کا تذکرہ کریں۔یقیناً وہ آپ کو اس کا بہتر حل پیش کریں گے۔ اپنی پریشانیاں ہمیشہ دوسروں سے شئیر کریں۔ اس سے آپ کا دماغ ہلکا ہو جائے گا۔آپ خود کو ڈیپریشن سے آزاد اور پرسکون محسوس کریں گے۔اپنی پریشانیاں دوسروں کو بتانے سے ان کا آدھا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔آپ ہی ایسا ہی کیجیے۔
اس کے علاوہ روزانہ 7گھنٹے پرسکون نیند لیجیے۔15 منٹ روزانہ مراقبہ کیجیے۔نیم اندھیرے کمرے میں آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیے۔ ذہن کو تمام خیالات سے خالی کر لیجیے۔ یہ دماغ کو بہترین طاقت فراہم کرے گا۔جسم کا مساج کرانے سے بھی ذہنی دباؤ کافی حد تک دور ہو جاتا ہے۔ہر وقت تنہا رہنے سے بچیں۔ اسی طرح ہر وقت لوگوں کے ہجوم میں بھی نہ رہیں۔ کچھ وقت ایسا نکالیں کہ اس کو اپنی مرضی سے استعمال کر سکیں ۔اس کے لیے کسی پرفضا مقام یا پارک میں جا کر پرندوں، پودوں اور بہتے ہوئے پانی کا نظارہ کرنا بہت مفید ہوتا ہے۔
ایک ایسی چیز جو انسان کو ڈیپریشن سے بچاتی ہے وہ مسکرانے کی عادت ہے۔ آپ لوگوں سے ملتے ہوئے ہمیشہ مسکرائیں۔تحمل مزاجی اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔لوگوں سے میٹھے انداز میں بات کریں اور خوش رہنا سیکھیں۔تلخ کلامی سے بچیں۔ یہ بہت سے مسائل کا سبب بن جایا کرتی ہے ۔ اپنے خیالات کو مثبت سمت میں لے جائیں۔ منفی سوچ کو اپنے پاس نہ آنے دیں تا کہ کوئی بات بری نہ لگے۔ انسان کو غصہ تب آتا ہے جب کوئی بات اس کو بری لگتی ہے۔ غصہ ڈیپریشن کی بنیادی وجہ ہے۔اپنے آپ کو غصے سے بچائیں اس میں آپ کا ہی نقصان ہے۔
روزانہ ورزش کرنے سے انسان 16 فیصد ڈیپریشن کے خطرے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے یوگا سب سے بہترین ورزش ہے۔صبح کی سیر کو اپنا معمول بنا لیجیے۔کچھ دیر روزانہ تیز قدموں سے پیدل چلنے کو اپنی عادت بنائیے ۔کسی بھی کھیل میں سرگرمی سے حصہ ضرور لیجیے۔اپنے آپ کو چست رکھنے کی کوشش کیجیے۔ سست لوگ ہی ڈیپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔اپنے آپ کو پارک میں جانے کا عادی بنایئے۔ ہم نے پارک ویران چھوڑ دیئے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ہسپتال آباد ہوچکے ہیں ۔تندرستی ہزار نعمت ہے۔ جسم تندرست ہو تو دماغ بھی تندرست ہوتا ہے۔اپنی صحت کا خیال رکھئیے۔ اس سے آپ کو ڈیپریشن سے نجات ملے گی۔
ڈیپریشن کے خاتمے کے لیے لوگوں کو معاف کرنے کی عادت اپنایئے۔ روزانہ رات کو سونے سے پہلے تمام لوگوں کو تہہ دل سے معاف کر دیجیے۔لوگوں کی تمام زیادتیوں، کوتاہیوں اور لغزشوں کو بھول جایئے۔ اس سے آپ ہلکے پھلکے رہیں گے۔اس سے ڈیپریشن کا سایہ بھی آپ پر نہیں پڑ سکے گا۔ دیر نہ کیجیے۔یہ عمل ابھی سے شروع کر دیجیے۔

 468 total views,  3 views today

Short URL: http://tinyurl.com/y9rhelr8
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *