ذرا سوچیئے

A R Tariq
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: اے آر طارق

تجھے کیا بتاؤں اے ہم نشین
میرے غم کا قصہ کتنا طویل ہے 
میرے گھر کی لٹ گئی آبرو
ہوا غیر جب سے دخیل ہے۔
تھوڑی سی ترمیم کے ساتھ۔ ۔ ۔
تجھے کیا بتاؤں اے ہم نشین
میرے غم کا قصہ کتنا طویل ہے
میرے گھر کی لٹ گئی آبرو
ہوا سی ٹی ڈی جب سے دخیل ہے۔

سانحہ ساہیوال کو تقریبا20دن گزر چکے ہیں،ابھی کوئی سرا ہاتھ میں ملتا نہیں ہے،مبصرین اور دانشور اس کی گتھیاں سلجھانے میں مصروف ہیں اور ارباب بست وکشادالجھاؤ در الجھاؤپیدا کر رہے ہیں صرف سی ٹی ڈی کے غیر دانشمندانہ اور سفاکانہ طرز عمل کو جواز بخشنے کے لیے، کیا کیا پاپڑ بیلے جارہے ہیں لیکن ابھی انصاف ’’ہنوذدلی دور است ‘‘ کے مترادف ہے۔
میں نے دیکھی ہیں ہر پھول کی آنکھیں پرنم 
کیسے کہہ دوں کہ گلشن میں بہار آئی ہے
اس سانحہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کڑوا سچ کے عنوان سے بہت ہی پیارے ساتھی دوست ممتاز صحافی ؍سینئر کالم نویس راجہ وحید احمد رقمطراز ہیں کہ ’’ہماری بدقسمتی ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ساہیوال کا سانحہ پیش آگیا،عثمان بزدار کا کرب میں مبتلا عمیر کو پھول پیش کرنا،فواد چودھری اور راجہ بشارت کی پریس کانفرنس اگر بے حسی کی انتہاء تو عمیر کا جے آئی ٹی کو دیا گیا بیان ہمارے بوسیدہ نظام کے منہ پر وہ تھپڑ ہے، جو صدیوں یاد رکھا جائے گا۔عمیر کے بیان کے مطابق پہلے گاڑی کے ٹائر پر فائر کیا گیاپھر ذیشان جو گاڑی چلا رہا تھا اس کوگولیاں مار کر موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا،اس دوران خلیل نے پولیس والوں کو پیسوں کی آفر کی،پھرپولیس والوں نے کسی سے فون پربات کی،فون پر بات کرنے کے بعد انھوں نے ایک دفعہ پھر گاڑی پر نشانہ بازی کی مشق کی،اس نشانہ بازی میں خلیل ،خلیل کی بیوی اور بیٹی اریبہ جاں بحق ہوگئے، پھر بچوں کو گاڑی سے نکال کر ،یہ تسلی کرنے کے لیے ،ان میں سے کوئی زندہ نہ ہوجائے،دوبارہ گاڑی پر فائرنگ کی گئی ۔اگر آپ اریبہ کی میڈیکل رپورٹ پڑھیں تو آپ حیران ہونگے کہ اس کمسن بچی کو اتنے قریب سے اس قدروحشیانہ انداز میں گولیاں ماری گئیں کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ گئی اور جہاں گولی لگی،اس کے اردگرد کی جگہ گولیوں کی تپش کی وجہ سے جلی ہوئی ہے،اپنے وحشیانہ جذبے کی تسکین کے بعدزندہ بچ جانے والے تینوں بچوں کو زخمی حالت میں ویرانے میں پھینک دیا گیا،اس کیس کا انجام بھی ماڈل ٹاؤن واقعہ سے مختلف نہیں ہوگا،سالوں سال انکوائری چلے گی،پہلے جے آئی ٹی پھر جوڈیشل کمیشن،اس وقت تک لواحقین بھی دھکے کھاکھا کر تنگ آجائیں گے،پھر خلیل اور ذیشان کے گھر والوں کو بھی لوگ سمجھائیں گے،جو ہونا تھا ،ہوگیا،بہتر یہ ہی ہے کہ جو پیسے ملتے ہیں وہ لے لواورخاموشی اختیار کر لو،اس نظام کے تحت یہ ہی ہوسکتاہے ،اس کے علاوہ کچھ نہیں۔صرف طاقتور حلقوں سے ایک گزارش ہے کہ جو دکھ اور غم ان خاندان والوں کو ملنا تھاوہ مل چکا،صرف ایک دفعہ آپ لوگ ذیشان کی والدہ کا دکھ بھرا قائمہ کمیٹی کے سامنے دیاگیا بیان اور مایوسی کے لبادے میں لپٹی ان کی آواز سن لیں اور ایک دفعہ ذیشان کی وہ بچی ،جس کو یہ بھی نہیں پتا کہ اس کے اوپر کون سی قیامت گزر چکی ہے اور ہوسکتاہے کہ اپنی آئندہ کی زندگی اس کو دہشت گرد کی بیٹی کے لیبل کے ساتھ گزارنی پڑے گی،جس کی وجہ سے ہر روز اس کی موت واقع ہوگی،اس کے بارے میں سوچ لیں،اس کے بعد بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان درندوں کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے آپ کو ذیشان کو دہشت گرد ثابت کرنا ہے توبسم اللہ‘‘۔مذکورا بالا سطور کی روشنی میں ارباب بست وکشاد ذرا جائزہ لیں،کہتی ہے خلق خدا تجھے غائبانہ کیا۔

Short URL: http://tinyurl.com/yxk2fkw8
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *