ذرا تصور کریں۔۔۔۔ تحریر: محمد رضوان خان

Muhammad Rizwan Khan
Print Friendly, PDF & Email

لاہور لاہور ہوا کرتا تھا مگر اب وہ لاہور اجنبی سا ہوگیا ہے ۔بڑا موٹی ویٹڈ لاہور پہنچا ۔ یونیورسٹی کی یادیں تازہ کرنے کا خیال دل میں لئے کہ اس دفعہ تو سب یادوں کو ماضی کی قبر سے نکال کر ان کے گرد خوب رقص کروں گا پرانے یاروں کو بھی اس رقص میں شرکت کی دعوت دونگا ۔ میٹرو کے جھولے لیں گے ۔ سڑکوں کے نئے جال میں الجھ کر پھر اس سے آزاد ہو کر حکومتی کارکردگی کا جائزہ لونگا ۔ لیکن اب تو ہم بے چارے پاکستانی ایسے حالات میں گھِر گئے ہیں کہ ہماری خواہش بھلے کتنی ہی کم مایہ ہو دم توڑ جاتی ہے ۔ جس شہر میں تعلیم حاصل کی اسے دیکھنے کا انجوائے کرنے کا خواب میرے جگری یار نے ملاقات کے پہلے دس منٹوں میں ہی توڑ دیا ۔ دن بھر اپنے کام میں جھونکنے کے بعد جب شام کو اس سے رابطہ کیا تو وہ وقت مقررہ پر مجھے پک کرنے آتو گیا لیکن بلا کا سنجیدہ اور خاموش ۔میں نے ازراہ تفنن کہا کہ میاں چپ تو ایسے ہو جیسے بھرے بازار میں کوئی تمہاری عزت کے ساتھ کھلواڑ کرکے فرار ہوگیا ہو ۔ مجھے شاک لگا جب اس نے کہا کہ کاش ایسا ہی ہوا ہوتا تب بھی میں سہہ گیا ہوتا مگر ہم سب گھر والوں کے ساتھ اس سے بھی زیادہ ہاتھ ہوگیا ہے۔ اب مجھے بھی مذاق ترک کرکے سنجیدہ ہونا پڑا ۔ بات یوں سمجھ میں آئے گی آپ ذرا چشم تصور میں اپنی آنکھیں بند کریں اگلا سین میں آپ کو بتاتا ہوں ۔ آپ اسے اپنے ذہن کے پردہ اسکرین پر نقش کرتے جائیں ۔ اتوار کا دن ہے آپ نے اپنی بیگم والدین کو ساتھ لیا دن بھر خوب ہلا گلا کیا رات کا کھانا باہر کھایا چمکیلا دن چمکیلی یادیں جب رات کا اندھیرا دن کوہڑپ کرگیا تو آپ لبرٹی سے آخری مزہ کشمیری چائے کا کپ پی کر سلو ڈرائیوکرتے اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے ۔ اچانک آپ کے پاس ایک کار آکر رکی تین اسلحہ بردار نوجوان آپ کے پاس آکر آپ اور آپ کے تمام اہل خانہ کو گن پوائنٹ پر لے لیتے ہیں آپ سے گھر کا دروازہ کھلواتے ہیں ۔ آپ کے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں آپ کے والد ذرا سا مزاحمت کرتے ہیں تو آپ کے سامنے وہ نوجوان ان کو لاتوں اور مکوں سے پیٹنے لگتے ہیں آپ کی والدہ چھڑوانے کے لئے بڑھتی ہیں ان کو بھی چوٹیں آتی ہیں ۔آپ اور آ پ کی بیوی دم بخود یہ سب دیکھ رہے ہیں آپ ان کی منت کرتے ہیں سماجت کرتے ہیں کہ جو چاہو لے لو مگر تشدد نہ کرو۔ وہ اس کے بعد تسلی سے آپ سب کو ایک کمرے میں بند کرکے باندھ کر اپنا مشن پورا کرتے ہیں پھر آپ کے اوپر والی منزل پر اقامت پذیر کرایہ داروں کو لوٹتے ہیں اور جاتے وقت ڈاکو یہ بھی دھماکہ کر جاتے ہیں کہ ہم سے پولیس نے دس لاکھ ڈیمانڈ کئے ہیں نہ دے سکنے کی صورت میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ہم پولیس مقابلہ میں ٹپکا دیں گے۔ آپ بڑی بے چینی سے خود کو کسی طرح رسیوں کی قید سے آزاد کرواتے ہیں۔ والدین کو کھولتے ہیں اب تک جو آپ نے بہادر بننے کی ایکٹنگ کی وہ دم توڑ جاتی ہیں اور بے عزتی کا احساس آپ کی آنکھوں کے کونوں سے بہہ نکلتا ہے عزت گئی مال بھی گنوایادرد الگ پایا ۔ رات کے اس پہر کو ڈاکوؤں کے انکشافات کے باوجودآپ پولیس اسٹیشن جانے کا فیصلہ کرتے ہیں شائد یہ ہمت آپ اس لئے کرتے ہیں کہ ڈاکوؤں نے آپکو ایسا کرنے سے روکا نہیں تھا ۔ تھانے پہنچ کر مزید ذلت کا احساس۔ کوئی آپ کی بات سننے کو تیار نہیں کیونکہ آپ ڈاکوؤں سے بھی بڑے مجرم ہیں کیونکہ آپ ایف آئی آر کٹوا کر پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان جو لگانا چاہ رہے ہیں ۔ پولیس آپ کو محض ایک درخواست دینے پر مجبور کرنا شروع کردیتی ہے۔ کیونکہ درخواست کا نہ تو کوئی ریکارڈ ہوگا اور اسے ردی کی ٹوکری کے حوالے کرنا بھی آسان کام ہے ۔لیکن آپ بڑے ہی نا سمجھ ہیں اپنی عزت اور مال گنوا دینے کے بعد آپ کا ارادہ پولیس کی عزت اور کارکردگی پر حملہ آور ہونے کا ہے ۔ آپ جانتے بھی ہیں کہ ایف آئی آر کٹ جانے سے بھی کوئی چمت کار تو ہو نہیں جائے گا لیکن آپ بھی اڑجاتے ہیں۔ آپ کے والد اپنا ایک پرانا دوست پولیس آفیسر دریافت کرتے ہیں نصف شب کے قریب آپ ایف آئی آر درج کروانے کی خوشی لئے خودکو ڈاکوؤں سے بھی بڑا فاتح سمجھ کر گھر آن پہنچتے ہیں ۔ پولیس کو نیچا دکھا لینے کی خوشی میں آپ ڈاکوؤں کو مال وبے عزتی سب کچھ بھلا چکے ہیں ۔ جی ہاں یہ ہے خوشیوں بھرا پاکستان۔
میرے دوست کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا ۔ اسکی کہانی سننے کے بعد بھلا میں نے کہاں لاہور کے باغ دیکھنے تھے اور کیا فوڈ سٹریٹ کے کھانے انجوائے کرنے تھے ۔ اس طرح کی سنی سنائی کہانیاں تو روز سنتا ہی رہتا ہوں لیکن آج کردار نے خود کہانی سنائی ۔ اس لئے اب یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آپ سب لوگوں کو حکومت کو پولیس کو بھی یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس طرح کی سب کہانیاں فرضی نہیں ہوتیں، لوگوں کے گھر ڈاکے بھی پڑ رہے ہیں ، سرعام مرد اور خواتین حضرات سے موبائل، پرس اور گاڑیاں بھی چھینی جا رہی ہیں. یہ تو صوبائی دارالحکومت کا حال ہے کیا ہی بہتر ہوتا کہ پہلے بے روزگار جوانوں کا بندوبست کر لیا جاتا، میٹرو کے بغیر بھی تو ٹرانسپورٹ سسٹم چل ہی رہا تھا۔ کچھ عرصہ اور بھی چل جاتا ۔لیکن اگر اس بے روزگاری کے سیلاب کا مزید بندوبست نہ کیا گیا تو یہ اکثر بڑے شہروں کو اگلی مون سون بارشوں سے پہلے بہا لے جائے گا۔ بڑے شہروں میں ہر چوتھا شہری اس طرح کی وارداتوں کا کم از کم ایک دفعہ تو ضرور شکار ہو چکا ہے جہاں پولیس خود شراب اور چرس پہلے پکڑتی ہو پھر وہ سپلائی بھی کرتی ہو تو اس کے بعد باقی کیا رہ جاتا ہے، چند دن پہلے پنڈی جانا ہوا تو وہاں بھی اس قسم کی کہانیاں سنیں، نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ لوگ پہلے گھر کے سامنے گلی کے گارڈ کو بلاتے ہیں پھر گاڑی روک کر گیٹ اپنے گھر کا گیٹ کھولتے ہیں، خدا ہر کسی کو برے وقت سے بچائے کیونکہ یہ کبھی پوچھ کر نہیں آتا، کارکردگی پر سوالیہ نشان تو تب لگائیں نہ کہ جب کوئی کارکردگی نظر بھی آئے۔ حکومتی کارکردگی کے تو کیا کہنے وہ تو بس ٹاک شوز میں چند قینچی کی طرح چلتی زبانوں سے ابلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ تو ہر طرف صدا کی اندھیری رات ہے،ہم بھی کتنے بے وقوف ہیں بھلا یہ ڈاکے چوریاں روکنا کوئی حکومت کا کام تو ہے نہیں، حکومت کا کام مال پکڑنا نہیں بلکہ مال بنانا ہے۔ اس سے جب فرصت ملی تب سوچیں گے۔

Short URL: http://tinyurl.com/hnpenkr
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *