دہشت گردی کیوں جاری ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: ڈاکٹر میاں احسان باری
2سال تک تومسلسل فوجی عدالتیں تیزی سے خصوصی مقدمات کا فیصلہ کرتی رہی ہیں اورشہیدوں کے خاندان کے سپوت جناب راحیل شریف کے دور میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا تھا مگر جونہی فوجی عدالتوں کی میعاد مدت ختم ہوئی توملک دشمنوں کو خوف دور ہوتا نظر آیا جس کا ثبوت یہ ہے کہ اب دہشت گردی دوبارہ ذور پکڑ رہی ہے اور دہشت گرد دوبارہ اپنی زیر زمین بلوں سے نکل کر وارداتیں کرنے لگے ہیں۔تازہ ترین وقوعہ خیبر ایجنسی میں افغانستان سے ہماری بارڈر پوسٹ پر حملہ کیا گیا جس سے ہمارے دو جوان شہادت پاگئے فوری جواب دیکر ان کے تین افراد جہنم واصل کیے گئے اس وقوعہ سے12گھنٹے قبل دربار لعل شہباز قلندر سیون شریف پر ایک برقعہ پوش دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے اڑا لیاجس سے اب تک 90بچے خواتین اور مرد شہید ہو چکے ہیں اور اڑھائی سو سے زائدشدید زخمی ہیں علاج معالجہ کی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔یہ دھماکہ تو بقول بلاول بھٹو علاقائی ثقافت تہذیب و تمدن پر حملہ ہے ۔
لاہور میں حالیہ بزدلانہ حملے سے ابھی چودہ شہداء کے جنازے ہی اٹھ رہے تھے اور ان کا کفن دفن جاری تھاکہ پشاور کے علاقہ حیات آباد میں بارودی دھماکہ کرڈالا گیا جس کا ٹارگٹ اعلیٰ عدالتوں کے جج تھے جنہوں نے غالباً ان دہشت گردوں یا ان کے لواحقین کے خلاف فیصلہ سنا کر کاروائی کا حکم دیا ہو گا اس طرح دو بڑے صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز کے عوام کورلا ڈالا گیا۔بعد ازاں مہمند ایجنسی اورڈیرہ اسماعیل خاں میں بھی سیکورٹی اداروں پر حملے کرکے انھیں شہید کرڈالا گیا۔
بڑے شہروں میں تو ہر چوک اور گلی کے موڑ پر تو پولیس موجود رہتی ہی ہے مگر پھر بھی دہشت گرد اپنی مذموم کاروائیاں اور وارداتیں کر گئے حکومتی اداروں اور اہم انتظامی افرادکو دو ہفتے قبل ہی انٹیلی جنس اداروں نے بتا دیا تھا کہ دہشت گرد اپنے مخصوص اسلحہ و دھماکہ خیز مواد کے ساتھ داخل ہو چکے ہیں لاہور کے واقعہ کے شہید ڈی آئی جی تو ہڑتالی ادویات فروشوں کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے بار بار کہہ رہے تھے کہ ٹریفک کو چلتا رہنے دیں و گرنہ دہشت گردی کا امکان ہو سکتا ہے اور وہی ہواکہ چند منٹ بعد ہی دہشت گرد نے پولیس وین کے قریب ہی اپنے آپ کودھماکے سے اڑا لیا۔جس میں ڈی آئی جی خود ایک ایس ایس پی اور دیگر ایک درجن افراد لقمہ اجل بن گئے اور ان کی روحیں جنت الفردوس کو سدھار گئیں۔آج تک عوام کے لیے سوالیہ نشان موجود ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں قبل ازوقت بتا دیتی ہیں کہ فلاں علاقے میں دہشتگرد بمعہ اسلحہ کے داخل ہوچکے مگر وہ ان دہشت گردوں کو شاید جانتے بوجھتے ہوئے بھی مزید معلومات کیوں نہیں دیتے ان کی نشاند ہی ان کے حلیہ اور جس علاقہ میں وہ”آرام “فرما رہے ہوتے ہیں ان کی جگہ وقوعہ بتانے میں کیا حرج ہے ؟دوسرا سوال یہ کہ انتظامی افسران اور ہماری پولیس ورینجرز اطلاعات ملنے پر بھی کیوں موثر حفاظتی اقدامات نہیں کرتیں؟کیا ایسا کرنا ان کے فرائض منصبی میں نہیں آتا ؟در اصل قوم پر سستی کی جو لہر آئی ہوئی ہے اس سے محنت نہ کرنے اور یوں کام چوری کی عادت پڑ گئی ہے۔نشہ آور ادویات نے بھی انسانوں کے اجسام کو آرام طلبی پر لگا دیا ہے بیشتر افراد رات کو نیند آور گولیاں کھا کر سوتے ہیں 9/11کے بعد امریکہ نے عالم اسلام کے ممالک پر بغیر کسی مخصوص وجہوں کے حملوں کے سلسلے شروع کردیے۔القاعدہ کی تلاش میں افغانستان کو مکمل بھسم کر ڈالنے کا پرو گرام بنایا جس کے لیے ہمارے کمانڈو جناب مشرف انھیں ایک ہی فون کال پر “مکمل مہیا ہو گئے” اور افغانستان میں طالبان کی وہ بنی بنائی حکومت جسے پاکستان نے بھی تسلیم کر لیا تھا کو تہس نہس کرڈالا گیا ۔وہ تو آج تک اس ملک کے عوام ہی اتنے جری اور خوددارنکلے کہ اب تو وہ بیرونی سامراجی فوجوں کا مقابلہ کرکے کوشاں ہیں کہ انہیں واپس بھگا ڈالیں اور امریکہ بھی فوجوں کو نکالنے اور واپسی کے لیے تیار ہو چکا ہے ۔پاکستان کے اندر بھی مشرف کے دور میں ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا بظاہر تو وہ دہشت گردوں کے خاتمہ کے لیے حملے کرتے تھے مگر گہیوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے کی طرح کئی معصوم افراد بچے بچیاں اور خواتین بھی جو کہ قطعاً مجرم نہ تھے وہ بھی ہلاک کیے جاتے رہے شرح میں کیا شرم جو معصوم افراد ڈرون حملوں کی زد میں آئے ان کے لواحقین بہن بھائیوں کے اندر سخت رد عمل نے جنم لیا اور بدلہ لینے کے لیے وہ انتہا پسند تنظیموں کا رخ کر گئے۔یہیں سے دہشت گرد بمباروں نے جنم لیا جلتی پر پٹرول جناب مشرف نے ڈال دیا اسلا م آباد کی لال مسجد پر زہریلی گیسوں سے سینکڑوں حفاظ بچیوں کو بھسم کر ڈالا گیا ور ان کے جلے ہوئے اعضاء و ہڈیاں تک گٹروں میں بہا ڈالیں۔تو ان کے لواحقین اور عزیز و اقارب بھی بدلہ کی غرض سے انتہا پسند بن گئے ہوں گے۔نواب اکبر بگٹی کو غاروں میں گھس کر مشرف کا قتل کرواڈالنا بھی بلوچستان میں امن عامہ کا مسئلہ بنا رہا اور بلوچستانیوں کے دلوں میں نفرتوں کی چنگاریاں بھر ڈالی گئیں۔ یوں ادلوں سے بدلوں اور بیرونی پاکستان دشمن ملکوں کی فنڈات سے یہ سلسلہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہا فوجی عدالتیں جلداز جلد سزا ئیں دے ڈالتی تھیں تو دہشت گرد چھپ کر اپنی زندگیاں بسر کر رہے تھے اب دوبارہ فوجی عدالتوں کی بحالی کے لیے ہمارے نام نہاد سیاستدانوں کا کئی میٹنگوں کے بعد بھی اتفاق نہیں ہو سکااور لوگ دوبارہ دہشت گردوں کی ہٹ پر آگئے ہیں۔سیون شریف ،لاہور، پشاور،ڈیرہ اسماعیل خان کے تازہ واقعات کے بعد دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی گرفتاریاں جاری ہیں انٹیلی جنس اداروں کے پاس نیک و بد افراد کی مکمل رپورٹس موجود ہوتی ہیں تو پہلے ہی انھیں گرفتار کر لیا جانا چاہیے تھا۔مگر نہ جانے کس مصلحت کے بعد ایسا عمل نہ کیا گیا؟اب رینجرز کی طرف سے پورے ملک میں دن رات دہشت گردوں کی سرکو بی کا عمل جاری ہے جو کہ اچھا شگون ہے اس سے ملک دشمنوں کی کمر توڑنے میں خاصی مدد ملے گی۔
جوں جوں ہمارا ملک اندرونی طور پر خلفشار میں مبتلا ہو تا جارہا ہے عوام اپنے آپ کو بے یار و مدد گار سمجھنے لگ گئے ہیں خوف کے مارے لوگ بچوں کو سکول بھیجنے سے کتراتے ہیں کسی اجتماع یا فنکشن میں جانے سے گریز کرتے ہیںیوں ہمارا سماجی ڈھانچہ بھی بکھرا پڑا ہے دوسری طرف بیرو زگاری ،غربت کی انتہاء اور معیشت کی زبوں حالی بھی دہشت گردی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں نے بیرونی ممالک کی امداد سے مہنگائی اور غربت کے ستائے ہوئے لوگوں کو زیادہ ریٹ اور معاوضوں پر بھرتی کرنا شروع کردیا ہو گا اور معصوم بچوں کو تو جنت الفردوس اور حوروں کی لوریوں کے بہانے ورغلایا جاتا ہے اور سیدھے بہشت میں جانے کے لالچ پر بار ہ چودہ سال کے نا بالغ بچے ہر قسم کی واردات کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔بحر حال قوم افواج پاکستان کی پشت پر کھڑی ہے اور ان کی طرف سے موثر اقدامات کی توقعات رکھتی ہے۔اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی کرپشنوں سے توبہ تائب ہو جائیں خدا کے عذاب سے ڈریں اور خوامخواہ کی آپس کی سر پھٹول ،گالی گلوچ لڑائی جھگڑوں سے باز رہ کر ملک کے اندر اتفاق و اتحاد کی کیفیت پیدا کریں۔علماء بھی فرقہ واریت اور مسالک کے جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں تاکہ دشمن کے مذموم مقاصد پورے نہ ہو سکیں ۔

615 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y9jhc9pw
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *