حکومت الہیہ اور انسانی حکومتوں میں فرق

Rehmat Ullah Baloch
Print Friendly, PDF & Email

تحریر: رحمت اللہ بلوچ

حکومت الہیہ ایک نظریاتی حکومت ہے جو اس اصول پر قائیم ہوتی ہے کہ جو اللہ تعالی ہمارا خالق ہے ہمارا رازق ہے ہماری موت و حیات کا مالک ہے اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ہمارا حکمران اور قانو ساز بھی ہو قرآن کریم میں اس نظریے کو یوں واضع کیا گیا ہے/الاعراف یاد رکھئے کہ پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے/اور وہ اسلئے کہ جس اللہ نے انسان کو پیدا کیا وہ جو بھی حکم دیگا وہ انسان کے ذہنی اور نفسیاتی تقاضوں کے عین مطابق ہوگا اسکے علاوہ انسان کی عقل محدود ہے جبکہ اللہ تعالی کی نگاہ میں کائنات کا ذرہ ذرہ اور اسکا ماضی اور حال یکساں طور پر واضع ہیں لہذا اتنے وسیع علم کی بنیاد پر بنا ہوا قانون انسان کے بنائے ہوئے قانون سے کہیں زیادہ اعلی انصاف پر مبنی اور پائیدار ہوگا/حکومت الہیہ کی اہمیت/ تاریخ کے مختلف ادوار میں قسم قسم کی حکومتیں بنی ہیں اور مٹی ہیں قبائلی نظام نے ملوکیت کو جنم دیا ملوکیت نے جاگیرداری کی شکل اختیار کیا پھر سرمایہ داری آئی اس کے رد عمل کے طور پر اشترکیت اور اشتمالیت ابھریں آخر انسان نے عافیت کی تلاش میں جمہوریت کے سائے میں پناہ لی جو بھی طرز حکمرانی برسر اقتدار آیا اس نے اپنے مفاد کے مطابق قوانین وضع کئے اور اپنی قوت کے ساتھ انکا نفاذ بھی کیا لیکن انسانیت کو کبھی سکھ کا سانس لینا نصیب نہ ہو سکا کمزور ابھی تک طاقتور کے رحم و کرم پر ہے انصاف ابھی تک تصور سے حقیقت تک کا سفر طے نہیں کر سکا خلوص و صداقت ابھی تک خواب و خیال ہی کا دوسرا نام ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر قانون بنانے والے فرد یا جماعت نے عوام کی بہبود سے زیادہ اپنے دور حکمرانی کو طول بخشنے والے قانون بنائے اسلئے ہر قانون ناکام ہوتا رہا اور ہر طرز حکومت کے رد عمل کے طور پر اسکی دوسری انتہا کا اس سے بد تر طرز حکومت سامنے آیا چونکہ حکومت الہیہ میں قانون ساز اللہ تعالی خود ہوتا ہے اسلئے اللہ تعالی کی دوسری صفات کی طرح اسکے قانون احکام کو بھی دوام حاصل ہے بشرطیکہ انکو مکمل طور پر نافذ کیا جائے کسی ملک میں جس حد تک حکومت الہیہ کے قوانین نافذ ہوتے ہیں اسی حد تک وہاں یہ اپنے مفید ثمرات ظاہر کرتے ہیں سعودی عرب میں قرآن کا حدودتعزیرات کا قانون نافذ ہے وہاں جرائیم کی تعداد بہت کم ہے طالبان نے افغانستان میں حکومت الہیہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی وہاں جب تک طالبان کی اسلامی حکومت رہی امن و امان قائیم رہا اب وہاں امریکہ برطانیہ کی ہر قسم کی مہلک اسلحہ سے لیس لاکھوں کمانڈوز پر مشتمل فوج اسکا عشر عشیر بھی امن قائیم نہیں کر سکی حاصل مقصد اسلامی ملک میں قانون الہیہ قائیم نہیں ہوتی تب تک وہاں معاشی بد حالی امن و امان کی خراب صورت حال لاقانونیت غریب کی ہر چیز امیر کیلئے مباح جتنے بھی سسٹم بنیگے وہ غریب عوام کی حقوق کے خلاف اور جاگیردار سرمایہ دار نواب سردار کے مفاد میں بنیں گے غریب عوام کی اصلاح کی ضرورت ہے مگر اصلاح کون کرے گا::::

Short URL: http://tinyurl.com/y4yt5t8t
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *