حوا کی بیٹیاں

Print Friendly, PDF & Email

تحریر: مونا شہزاد، کیلگری، کینیڈا
آج عالم ارواح میں بے چینی کا سماں تھا. ہر طرف بنت حوا کے گروہ چہ میگوئیوں میں مصروف تھے. آخر کار سب سے نئی آنے والی ایک روح جو زندگی میں عورتوں کے حقوق کی علمبردار اور مشہور وکیل تھی بولی: یہ اتنی بے چینی کیوں ہے؟ ” ایک سیانی بولی: آج عورتوں کا عالمی دن فانی دنیا میں زور و شور سے منایا جارہا ہے. آج ملک عزیز میں بھی عورتوں کے حقوق، آزادی اور ترقی پر تقاریر ہونگی، سیمینار ہونگے. اخبارات ان تقاریب کی کوریج کریں گے اور اس کے بعد سب لوگ بھول بھال کر اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوجائینگے. ”
آسیہ بی بی سب سے پرانی روح نے اس نئی آنے والی روح کا ہاتھ پکڑا اور کہا: آج آپ کو میں مختصر الفاظ میں اپنی ساتھیوں کی کہانی سناتی ہوں. یہ شکیلہ ہے اس کو یہاں آنے پانچ سال ہونے کو آئے ہیں. اس کی موت ”کاری ” کا نتیجہ ہے، جائیداد کا بٹوارہ نہ ہو اس لئے اس کہ سوتیلے بھائی نے بدچلنی کا الزام لگا کر اس کو ”کاری ” کردیا. یہ نسرین ہے اس کا حق شفع کردیا گیا تھا اور جب اس نے آواز اٹھانے کی غلطی کی تو پھر اس کی آرام گاہ قبرستان بن گیا. یہ عائشہ ہے اس کی موت چولہا پھٹنے سے ہوئی. چولہے کیوں اور کیسے پھٹتے ہیں،آپ تو واقف ہی ہیں. یہ عائزہ ہے اس نے اپنی پسند کی شادی کرنے کی غلطی کی اور جس دن اس کے بھائی کو اس کا پتہ ملا اس دن دوپہر کو یہ یہاں پہنچ گئی تھی. 
یہ رانیہ ہے اس کا گناہ یہ ہے کہ یہ نرینہ اولاد نہیں پیدا کرسکی. یہ جو ننھی بچیاں کونے میں بیٹھی ہیں اس میں سے زینب سے تو آپ واقف ہی ہونگے، ان کے ساتھ کیا گزری، وہ بیان کرنے کی مجھ میں سکت نہیں. ” اچانک ہر طرف سکوت چھاگیا. ان ساری کہانیوں کے کردار اور ذمہ داران کون تھے؟ شاید ہم اور آپ جو حقوق و فرائض کا ڈھنڈورا تو پیٹتے ہیں مگر عمل کے وقت لمبی تان کر سو جاتے ہیں

Short URL: http://tinyurl.com/y4svjpsa
QR Code:


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *