جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں

Print Friendly, PDF & Email

تحریر : روشن آراء
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی ذد میں 
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
اسلام امن پسند مذہب ہے .اور پاکستان پرامن ملک،گو کہ پاکستان اپنی امن پسندانہ سوچ کے سبب کبھی بھی جنگ کا خواہاں نہیں رہا کیوں کہ جنگوں سے قومیں آباد نہیں برباد ہوتی ہیں.مگر بھارت کا جنگی جنون آج بھی عروج پر ہے اور مودی نفرت انگیز تقاریر میں اپنا کوئی ثانی ہی نہیں رکھتے .بھارت کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ بھارت میں بالعموم اور مقبوضہ کشمیر میں بالخصوص جب بھی کوئی حادثہ یا کوئی بھی غیر معمولی واقع رونما ہو تو فوری طور پر اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرایا جاتا ہے .یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بھارت نے پاکستان کو میلی نظر سے دیکھا ہو اس طرح کی مہم جوئی وہ پہلے بھی کئی مرتبہ کرچکاہے اور اس کا خمیازہ بھی جان و مال کے نقصان کی صورت میں متعدد بار بھگت چکا ہے .
اک عالم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی بھارت میں چناؤ قریب ہوتے ہیں تو وہاں انتہا پسند ہندوؤں کو مذہب کے نام پر اکساکر ملک بھر میں فساد برپا کیا جاتا ہے ہندو مسلم،ہندوسکھ فساد ہو یا مقبوضہ کشمیر میں افراتفری پیدا کرکے حالات بگاڑے جائیں اور پھر بندر کی بلا تبیلے کے سر کی مصداق پاکستان کو مورد الزام ٹہراکر دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی آڑ میں اپنے سیاسی مقاصد یا ووٹ بٹورے جاتے ہیں اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب مودی بھارت کے لیے موذی ہوچکے ہیں ایک مرتبہ پھر مودی سرکار نے کچھ ایسا ہی کھیل رچایا ،گذشتہ پانچ سالہ کارکردگی ان کی کچھ ایسی نہ تھی کہ وہ چناؤ جیت پاتے انہوں نے سوچا کیوں نہ پھر سے بھارت کی بھولی بھالی جنتا کو ماموں بنائیں اور یوں پلوامہ حملہ ان کے مکروہ عزائم کے لیے ہاٹ کیک ثابت ہوا .
جو آج صاحب مسند ہیں وہ کل نہیں ہونگے
کرایہ دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے
پلوامہ حملے کو دہشت گردی کا نام دے کر بھارت ایک مرتبہ پھر کسی بدمست ہاتھی کی طرح پاکستان پر چڑھ دوڑا بنا کسی تحقیقات کے مودی سرکار نے طبل جنگ بجادیا .۲۶ فروری کی شب بھارتی جنگی طیاروں نے پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بارڈر پار کرنے کی جرت کی ،سرحدوں پر دشمن کے ناپاک عذائم ناکام بنانے کے لیے پاک افواج چوکنا تھی اور دشمن کی ہر نقل و حرکت پر نگاہ جمائے تیار بیٹھی تھی جیسے ہی دشمن کے طیارے پاک سر زمین پر داخل ہوئے آن کی آن میں پاک فضائیہ کے شاہین حرکت میں آئے اور بھارتی جنگی طیاروں کو دبوچ لیا بس پھر کیا بھارتی طیاروں کو الٹے قدموں بھاگتے ہی بن پڑی .مگر اب وقت آگیا ہے کہ بھارت جیسے بے لگام منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالی جائے اور پھر ڈی جی آ ئی ایس پی آر اور وزیر اعظم عمران خان نے نہایت جرات و بہادری سے بلنگ و بانگ اعلان کرکے دشمن کو یہ باور کرادیا کہ اگر بھارت نے پاکستان میں دوبارہ دراندازی کی کوشش کی تو وہ جواب دینے کا سوچیں گے نہیں بلکہ جواب دیں گے .اور چشم زدن میں پاک فوج اور عمران خان کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہوگئے پوری قوم ،زرداری اور نواز اک عالم نے دیکھا وطن عزیز میں نہ کوئی بلاول رہا اور نہ کوئی مریم نواز ….تمام سیاستدان بھی ذاتی اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہم ایک مٹھی کی مانند ایک ہوگئے گویا بھارت کی اس مہم جائی نے پاکستان کی بکھری عوام کو ایک قوم بنادیا ،دوسری مرتبہ بھارت کے جنگی طیاروں نے سرحد پار کرنے کی ہمت کی تو پاک فضائیہ کے شیر جوان حسن صدیقی کمال جرات و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عقاب کی طرح دشمن کے دو طیاروں پر جھپٹ پڑے اور اس کے نتیجے میں دشمن کے دو طیارے تباہ ایک پائلٹ ابھی نندن گرفتار اور دوسرا جہنم واصل ہوا اور یوں بھارت کے سارے کس بل چشم ذدن میں نکل گئے.
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ 
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ کیا پلوامہ حملہ دہشت گردی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
گذشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر بھارتی فوجی قافلے پرحملہ ہوا جس کے نتیجے میں ۵۰ سے زیادہ بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ،مقبوضہ کشمیر کی ۳۰ سالہ تاریخ میں ہونے والا یہ دوسرا بڑا حملہ ہے اس اندوہناک حادثے کے سبب بھارت سرکار یک دم حواس باختہ ہوگئی اور بغیر کسی تحقیق اور زمینی حقائق کو پس پشت ڈالتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دے کر پاکستان کو مورد الزام ٹہرادیا .انٹرنیشنل قوانین کے تحت بنا کسی تحقیق کے پلوامہ حملے کو دہشت گردی قرار دیناسراسر زیادتی ہے کیوں کہ اقوام عالم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر عرصہ دراز سے متنازعہ علاقہ مانا جاتا ہے جہاں حریت پسند کشمیری مجاہدین سالہا سال سے آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں .اس حملے کو دہشت گردی نہیں بلکہ ٹارگیٹڈ اٹیک کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ،اب بھلا یہاں پاکستان کا کیا عمل دخل یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ،مانا کہ کشمیری عوام بھارتی افواج کے ظلم و ستم اور نارواں سلوک ،خواتین کی آبرو ریزی جیسے گھناؤنے واقعات سے سخت نالاں ہیں مگر تاریخ شاہد ہے کہ ان آزادی کے متوالوں نے کبھی بھی کسی عوامی جگہ،مسجد،اسپتال،شاپنگ سینٹرز،اسکول،بازار کو کبھی نشانہ نہیں بنایا.مگر یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ۷۰ ہزار بھارتی فوجیوں کی موجودگی ،جا بہ جا سخت چیکنگ کے باوجود ۲۵۰ سے ۳۳۰ کلو بارودی مواد وادی کشمیر میں کب ، کہاں ،اور کیسے پہنچا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یہ دراصل سیکیورٹی لیپس ہے جس کے ذمہ دار بھارتی سیکیورٹی ادارے ہیں نہ کہ پاکستان ………!!یہ بھی بعد از امکان نہیں کہ یہ حملہ مودی سرکار کی کی شیطان اور انتہا پسندانہ سوچ کا شاخسانہ ہو ………..!!!!!
بھارت کا یہ دعوہ کہ ان کے نام و نہاد سرجیکل اٹیک کے نتیجے میں ۳۰۰ افراد پاکستان میں مارے گئے مگر ان مارے جانے والے ۳۰۰ سو افراد کو زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا ؟ْ؟؟؟؟ کیوں کہ بھارت اپنے اس دعوے کا کوئی ثبوت ملکی یا عالمی میڈیا کو فراہم کرنے میں ہنوز ناکام ہے جس سے بھارت کے جھوٹ کی قلعی کھل گئی اور بھارت سرکار اور بھارتی میڈیا جگ ہنسائی سے دوچار ہے .بالفرض اگر بھارت پاکستان پر سرجیکل اٹیک جیسی حماقت کرتا بھی ہے تواس کے پاس بچنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا کیوں کہ پاک فوج پاکستان کی سرحدوں پر ہمہ وقت چوکس ہے .پاک بھارت جنگ اگر ہوئی تو یہ محض دو ملکوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آہستہ آہستہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ایٹمی طاقت ہونے کے سبب اگر پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرتا تو بھارت کی ۲ کروڑ ۱۰ لاکھ افراد آن واحد میں براہ راست لقمۂ اجل بن جاتے ،اور اس جنگ کے نتیجے میں ہونے والی تابکاری کے اثرات کے نتیجے میں نہ صرف موسمی حالات تبدیل ہوجائیں گے بلکہ لاکھوں زندہ انسان بھی اس کی تباہ کاریوں سے محفوظ نہیں رہ پاتے، پورے خطے میں مون سون اور زراعت ختم ہوکر رہ جاتی جس کے سبب تقریبا دو ارب سے زیادہ افراد قحط کا شکار ہوجائیں گے اور ان دھماکوں کے نتیجے میں اٹھنے والا دھواں آسمان پر جمع ہوکر پوری دنیا کے کئی ممالک پر اثر انداز ہوگا.تو ان حالات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک عقل و دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے صبر و برداشت سے کام لیں اور جنگ جیسی مہم جوئی سے گریز کریں .خاص کر مودی سرکار اپنی انتخابی مہم اور اپنے ووٹ بینک میں اضافے کی خاطر بھارت کی جنتا اور اقوام عالم کو تختہ مشق بنانے سے گریز کریں .
پاکستان ہمیشہ جیو اور جینے دو کے زریں اصولوں پر کافرما ہے ،مگر کسی نے وطن عزیز کی جانب میلی نگاہ سے دیکھا تو ہمارے حفاظتی ادارے اور پوری قوم مادر وطن کی حفاظت کی خاطر جانوں کے نظرانے دینے کے لیے ہروقت تیار ہیں .گو کہ ہم جنگ کے خواہشمند نہیں مگر ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،وطن عزیز کی بقاء و سلامتی ہمیں جان و دل سے عزیز ہے اور اس کے لیے پوری قوم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے. افواج پاکستان ہمارا فخر ہے .
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے 
آسان نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کرچکا ہے تو امتحاں ہمارا

285 total views, 3 views today

Short URL: //tinyurl.com/y6ahvzt2
QR Code:
انٹرنیٹ پہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین
loading...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *